عمران خان کو خوشامدیوں کا ٹولہ جلد ڈبونے والا ہے

اپنا ضمیر جاگنے کا دعویٰ کرنے والے تحریک اںصاف کے سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی گاڑی سے خوشامدیوں کو اتار دیں ورنہ ان کی گاڑی میں اس قدر کاربن مونو آکسائیڈ جمع ہو جائے گی کہ ان کا انجام بھی مری کے ان 23 سیاحوں والوں ہوگا جو 8 جنوری کو برف باری کے دوران گاڑیوں میں گیس کی وجہ سے ابدی نیند سو گئے تھے.

باغی ہو جانے والے احمد جواد نے اپنے سابق کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا ہے کہ جب گاڑی کا ایگزاسٹ برف کے نیچے چلا جائے تو کاربن مونو آکسائیڈ گاڑی کے اندر لوگوں کو سلا دیتی ہے اور پھر موت کی وادی میں لے جاتی ہے جیسا کہ حال ہی میں مری کی سیر کے لئے گئے 23 سیاحوں کے ساتھ ہوا۔ بقول احمد جواد آج پرائم منسٹر ہاؤس کا ایگزاسٹ بھی برف کے نیچے چلا گیا ہے اور درباریوں کی خوشامد کاربن مونو آکسائڈ بن کر عمران خان کو گہری نیند سُلا چکی ہے۔

اگر عمران خان نے بچنا ہے تو گاڑی کا دروازہ کھول کر تازہ ہوا میں سانس لیں اور اپنی گاڑی میں بیٹھے درباریوں کو باہر نکال دیں۔ میری باتوں میں چُبھن محسوس ہو تو سمجھ لیجیۓ گا کہ میں کورونا کی وہ ویکسین ہوں، اگر آپ نے لگوا لی تو دوبارہ کورونا کا شکار نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈرشپ کو میری ویکسین کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نے حالیہ دنوں سانحہ مری کے بعد کپتان اینڈ کمپنی کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ برسوں بعد احمد جواد کا ضمیر محض اس لئے جاگا ہے کہ انہیں نہ تو سینیٹر بنوایا گیا اور نہ ہی کوئی بڑا حکومتی عہدہ ملا الٹا حال ہی میں پارٹی عہدے سے بھی ہٹادیا گیا لہذا یہ مشتعل ہوکر اپنی جماعت اور قائد کے خلاف دشنام طرازی کرر ہے ہیں۔ دوسری جانب احمد جواد کہتے ہیں کہ تقریباً بیس سال سے عمران خان کو پاکستان کا نجات دہندہ سمجھ کر اور پاکستان میں تبدیلی کے عظیم مقصد کے تحت میں عمران خان کا جان نثار سپاہی بن گیا۔

عدالت عظمیٰ میں تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست دائر

جو بھی ذمہ داری دی اسے نا صرف احسن طریقے سے ادا کیا بلکہ ہر ذمہ داری کے ساتھ کچھ نیا بھی کرکے دکھایا۔ 2018 میں میرا ہیرو عمران خان اقتدار میں آگیا اور مجھے مرکزی سیکریٹری اطلاعات لگا دیا اور میں اپنی ڈیوٹی پر لگ گیا۔ بقول احمد جواد ڈیوٹی یہ تھی کہ دن رات عمران خان کی تعریفیں کرنی ہیں اور اپوزیشن کا بینڈ بجانا ہے۔

میں نے مناسب طریقے سے عمران خان کے کچھ اچھے اعلانات کی بنیاد پر حکومت کا دفاع اور اپوزیشن کی کمزوریوں پر تنقید شروع کر دی۔ پھر احساس ہوا کہ عمران خان کا حکومت کی نمائندگی کے حوالے سے معیار شہباز گل، فواد چوہدری، مراد سعید، شیخ رشید، علی زیدی اور حماد اظہر ہیں تو اپنی غلطی کا احساس ہوا، میں نے پھر بھی تقریبا ڈھائی سال تک کوشش کی کہ بغیر بدتمیزی، بد تہذیبی اور انصاف کے ساتھ پارٹی بیانیہ دوں لیکن یہ بھی تحریک انصاف میں نا ممکن ہے۔

ایک سال تک غوروفکر کیا، دوستوں سے صلاح مشورے کیے، اور بالآخر سانحہ مری کے بعد اپنے ضمیر کی آواز پر کپتان اینڈ کمپنی سے اعلان بغاوت کردیا۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے کہ میں اتنا عرصہ کیوں اندھیرے میں رہا۔ احمد جواد کہتے ہیں کہ میں اکثر خود سے سوال کیا کرتا تھا کہ حماد اظہر کا گیس کی کمی پر عجیب و غریب بیانیہ کیسے سنوں۔ کیا میں اسی کام کے لئے رہ گیا ہوں کہ شہزاد اکبر کا پریس کانفرنسوں والا احتساب سنوں، بزدار پلس کی تربیت کا انتظار کروں، شیخ رشید کا کچرا اُٹھاؤں، مراد سعید کے 200 ارب ڈالر ڈھونڈوں، شہباز گل کے نا پسندیدہ بیان سنوں، فواد چودھری کی سوداگری سنوں، سوشل میڈیا پر غلاظت پڑھوں اور سر دھنوں، مری کی طرف گاڑیوں کی تعداد گن کر ملک کی معیشت بیان کرنیوالوں کو سنوں، ندیم بابر کے والد کے شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل پر احسانات کو سنوں، دو دو گھنٹے اپوزیشن کو چیرنے کی ہدایات سنوں، عامر کیانی کی کرپشن کی داستانیں سنوں، بیرون ملک پی ٹی آئی رہنماؤں کی عیاشیاں سنوں؟ ایک کروڑ نوکریاں ڈھونڈوں، پچاس لاکھ گھر ڈھونڈوں، پی ٹی وی کی تباہی دیکھوں، شبلی فراز کو جھومتا دیکھوں، اسد عمر کی خاموشی دیکھوں، رزاق داؤد کے اربوں کے کنٹریکٹ دیکھوں، اعظم خان کی کہانیاں سنوں، ڈاکٹر عشرت حسین جیسے ابن الوقت، نالائق اور

متروک ایڈوائزر کو حکومت کو لیڈ کرتے دیکھوں، شان وشوکت ترین اور آئی ایم ایف کے رضا کار باقر کو دیکھوں۔ احمد جواد کہتے ہیں کہ میرے لئے یہ سب برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ میں نے عزم کیا کہ اب یہ سرکس بند کرنا ہوگا، جوکروں، مداریوں اور کرتب بازوں کی چھٹی کرنی ہوگی۔ یا پاکستان چلے گا یا یہ سرکس چلے گا، تماش بینوں کا مزاج اور شوق بدلنا ہو گا۔اب ملک بچانے کا وقت ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال کے حوالے سے احمد جواد کہتے ہیں کہ شہزاد اکبر کا استعفی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، پرویز خٹک کا کھڑاک، نور عالم کا سچ، راوی اربن کالعدم، اب تحریک انصاف کا جہاز ڈوبنے والا ہے۔ اس جہاز کا کپتان اس جہاز کے ساتھ نیچے جائے گا؟ یا جہاز سے چھلانگ لگائے گا؟ جہاز کے چوہے جہاز ڈوبنے پر ڈوبیں گے نہیں، وہ جہاز ڈوبنے کے بعد تیرتے ہوئے دوسرے جہاز پر چڑھ جاتے ہیں۔

اگر عمران خان کو واقعی اس ملک کی خدمت کا شوق ہے، ترکی میں اردوگان کی پارٹی کے انقرہ ہیڈ کوارٹر میں ایک سال کی انٹرن شپ کر لیں۔ اپنے پیغام میں احمد جواد کہتے ہیں کہ میں سوشل میڈیا پر اپنی کردار کشی والوں کی لسٹ بنا رہا ہوں۔ پاکستان میں ایف آئی اے، پرائم منسٹر ، اعلی عہدے داروں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک ایسے چہروں کو بے نقاب کروں گا۔ اگر پھر بھی انصاف نا ملا تو ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف بدتمیزی پھیلانے کا بین الاقوامی مقدمہ امریکہ جا کر کروں گا، اقوام متحدہ بھی جاؤں گا۔

Back to top button