کیا خان کو پچھتاوا ہے کہ انھوں نے بزدار والی ”کھچ“ کیوں ماری؟

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو اقتدار سے الگ ہوئے لگ بھگ سال ہونے کو آیا ہے لیکن آج بھی جب انھیں اپنی وہ غلطیاں یاد آتی ہیں جنھوں نے انھیں اس حال میں پہنچایا تو وہ صفائیاں دیتے نہیں تھکتے، وہی صفائیاں جنھیں عرفِ عام میں ”یو ٹرن“ کہا جاتا ہے۔۔جیسے حال ہی میں خان صاحب پتا نہیں کس ترنگ میں تھے کہ انھیں اپنے چیلے عثمان بزدار کی یاد ستانے لگی اور انھوں نے بزدار کی تعیناتی کی کہانی بیان کرتے ہوئے اپنی مجبوری کی ایک نئی داستان گھڑی کہ وہ بزدار کو نہ لاتے تو کیا کرتے؟ یہاں تو چار چار گروپ بن گئے تھے اور ہر گروپ اپنا سی ایم لانا چاہتا تھا۔ بہرحال خان صاحب سوچتے تو ہوں گے کہ بیگم صاحبہ یعنی بشریٰ بی بی کے کہنے پر انھوں نے یہ ”کھچ“ کیوں ماری؟ میرٹ پر کسی کو وزیر اعلیٰ بنایا ہوتا تو کم از کم اس ایک الزام سے تو بری الذمہ ہوتے۔
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ خان صاحب کے وقتی خیر خواہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی انھیں خبردار کیا تھا کہ اگر پنجاب میں یونہی ”کک بیکس“ چلتی رہیں تو صوبہ تباہ ہو جائے گا مگر خان صاحب کو منہ کے بل گرنا منظور تھا کیونکہ ”ہوم ڈیپارٹمنٹ“ سے آگے انھیں نہ کچھ دکھائی دیتا ہے، نہ سنائی دیتا ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اپنی ہی پارٹی رہنماؤں کی دہائیاں اور چہ مگوئیاں بھی خان صاحب کو بیگم صاحبہ یعنی بشریٰ بی بی کے کئے گئے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے مجبور نہ کر سکیں کیونکہ وہ پارٹی کے اس ”کماؤ پوت“ پر خود بھی رشک کرنے لگے تھے، ان کے نزدیک بزدار کا لیول پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے بھی کہیں اونچا تھا، البتہ انھیں ایک اعتراض تھا کہ بزدار کا چہرہ ”کیمرہ فرینڈلی“ نہیں ہے۔
اب خان صاحب تو عزت ماآب ہیں انھیں کوئی کیسے سمجھائے کہ کسی بڑے گھریلو مسئلے کو تو بیگم صاحبہ سے ڈسکس کرنا بنتا ہے مگر سیاسی مسائل حل کرنے کے لئے ذرا ”وکھری“ قسم کی مہارت درکار ہوتی ہے اور انھیں بیگم صاحبہ کی گھریلو صلاحیتوں کی نذر نہیں کیا جا سکتا بھلے ان کی نیاز مندی پاک پتن شریف سے ہی کیوں نہ ہو؟ عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس کا ٹائٹل دے کر پنجاب کی گدی سونپنا، خان صاحب کی ان بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے جو ان کی اقتدار سے بے دخلی کا باعث بنیں اور جس کے لئے وہ پچھتا بھی رہے ہیں۔۔ خیر وسیم اکرم پلس نے بھی نامعلوم افراد کے اشاروں پر پنجاب میں وہ غدر مچایا کہ پی ٹی آئی کے دامن سے شاید ہی یہ داغ کبھی مٹ سکے۔ ایسا نہیں کہ خان صاحب بزدار اینڈ کمپنی کے حوالے سے گردش کرنے والی متنازعہ خبروں سے لا علم تھے، لیکن مفادات کی جنگ میں سب جائز ہوتا ہے چنانچہ وہ بگڑتے انتظامی معاملات اور منہ زور بیوروکریسی کی پرواہ کئے بغیر بزدار کو تھپکی دیتے رہے۔۔اور تو اور انھوں نے بزدار کو پی ٹی آئی کے جن اہم رہنماؤں پر ترجیح دی ان میں کوئی ایک نام ایسا نہیں جو قد کاٹھ میں ان سے چھوٹا ہو، یہاں تک کہ خان صاحب نے علیم ڈار جیسے ”لوڈڈ“ سیاستدان کو بھی جانے دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جیسے اہم منصب کے لئے آخر بیگم صاحبہ کی نظر بزدار پر ہی کیوں پڑی؟ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار نے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پرشکست کھانے کے بعد 2018 میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ کٹائی اور پہلی بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ دروغ بر گردن راوی لیکن کہتے ہیں کہ خان صاحب کا ”منی میکر ونگ“ پنجاب کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا تھا، اور بزدار نامی یہ ”ہیرا“ اسی ونگ کی سرغنہ فرح گوگی کے شوہر احسن جمیل گجر کی دریافت تھی۔۔جو بیگم صاحبہ کی بیسٹ فرینڈ ہیں اور انھیں ذہنی طور پر بلدیات کی سطح تک محدود کسی ایسے ہی کٹھ پتلی ورکر کی ضرورت تھی جو ان کے اشاروں پر ناچ سکے، یوں قرعہ فال بزدار کے نام نکلا۔۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا پنجاب پر گرفت مضبوط کرنے کے چکر میں خان صاحب مرکز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم ملک کی سیاسی تاریخ میں جب کبھی کسی ”وفادار“ وزیر اعلیٰ کا ذکر آئے گا، فہرست میں سنہرے حروف سے صرف ایک ہی نام لکھا ہو گا۔۔عثمان بزدار

 

نواز شریف نے جان پر کھیل کر ساڑھے آٹھ ملین ڈالر بوسنیا کیسے پہنچاۓ؟

Back to top button