نواز شریف نے جان پر کھیل کر ساڑھے آٹھ ملین ڈالر بوسنیا کیسے پہنچاۓ؟

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ساڑھے تین ملین ڈالر نہیں بلکہ ساڑھے آٹھ ملین ڈالر کی رقم بوسنیا کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لئے دی تھی یہ رقم نواز شریف کے والد میا ں محمد شریف نے اکٹھی کی تھی اور ان ہی کے کہنے پر اس رقم کا چیک نواز شریف نے بذات خود اپنی جان پر کھیل کر بوسنیا کے مسلم رہنما عزت بیگووچ کے حوالے کیا. یہ انکشاف شاہد خاقان عباسی نے سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری سے ہونے والی ایک ملاقات میں کیا. ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوۓ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ 2018میں میاں نواز شریف پر مقدمے چل رہے تھے‘ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے‘ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کی تیاریاں عروج پر تھیں اور اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے حق میں ملک بھر کے بزنس مینوں‘ صحافیوں اور سیاست دانوں سے ملاقات کر رہی تھی‘ میں بھی ایک ایسی ملاقات میں شریک تھا جس میں ملک کی ایک اہم شخصیت نے انکشاف کیا کہ میاں نواز شریف نے 1994میں پانچ ملین ڈالر ملک سے باہر بھجوائے تھے‘ یہ رقم ڈائیوو کمپنی نے موٹروے کے ٹھیکے میں بطور رشوت دی تھی‘ میاں صاحب نے اس رقم میں سے ساڑھے تین ملین ڈالر عزت بیگوچ کو بھجوا کر بوسنیا کی خانہ جنگی میں حصہ ڈالا تھا جب کہ باقی رقم سے لندن میں فلیٹس خریدے گئے تھے۔
مجھے بتایا گیا کہ عزت بیگوچ کو یہ رقم شاہد خاقان عباسی دے کر آئے تھے‘ لندن کے فلیٹس بھی انھوں نے خرید کر دیے تھے اور ڈائیوو کمپنی کے مالک سے رقم بھی عباسی صاحب نے لے کر دی تھی کیوں کہ مالک کا بیٹا امریکا میں عباسی صاحب کا کلاس فیلو تھا‘ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی‘ کیوں کہ یہ اعلیٰ ترین منصب سے بتائی گئی تھی اور اس میں دو وزیراعظم ملوث تھے۔
میاں نواز شریف مقدمات کا سامنا کر رہے تھے جب کہ شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیراعظم تھے‘ یہ انفارمیشن میرے ذہن میں گانٹھ بن کر رہ گئی‘ عمران خان نے بھی ایک آدھ میٹنگ میں اس کا ذکر کیا‘ بہرحال چند دن قبل میں نے اس کا ذکر شاہد خاقان عباسی سے کیا تو انھوں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا’’انفارمیشن ٹھیک ہے لیکن بات غلط ہے‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ یہ بولے ’’ہم نے عزت بیگوچ کو واقعی رقم دی تھی۔ میاں صاحب کو فلیٹس کا مشورہ بھی میں نے دیا تھا اور ڈائیوو کمپنی کے مالک کا بیٹا نہیں بیٹی میری کلاس فیلو تھی مگر یہ الزام سو فیصد غلط ہے‘‘ میں نے ان سے تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا‘ یہ بات کافی یا لنچ پر ہو سکتی ہے‘ میری ان کے ساتھ کافی پر ملاقات طے ہو گئی اور ہم نے تین گھنٹے بلیو ایریا کی ایک کافی شاپ میں گفتگو کی۔ جاوید چوہدری کے مطابق میرا پہلا سوال عزت بیگوچ کے ساڑھے تین ملین ڈالرز سے متعلق تھا‘ یہ ہنس کر بولے ’’آپ کو بتانے والوں نے غلط بتایا تھا‘ یہ رقم ساڑھے تین ملین ڈالر نہیں ساڑھے آٹھ ملین ڈالر تھی اور یہ میں نے نواز شریف کے ساتھ بوسنیا جا کر عزت بیگوچ کو دی تھی‘‘ یہ رکے اور پھر بولے ’’بوسنیا میں 1992میں جنگ شروع ہوئی‘ سربیا کے صدر نے بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا‘ ہم لوگ اس وقت اپوزیشن میں تھے۔
بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی‘ مجھے ایک دن سرتاج عزیز نے بلایا اور کہا بڑے میاں صاحب یعنی میاں محمد شریف اور ان کے دوستوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کے لیے رقم جمع کی ہے‘ یہ چاہتے ہیں آپ یہ رقم عزت بیگوچ کو پہنچا دیں۔
میں نے حامی بھر لی‘ میاں شریف سے ملاقات ہوئی اور مجھے انھوں نے ساڑھے آٹھ ملین ڈالر کا کیشیئر چیک دے دیا‘‘ میں نے پوچھا ’’یہ چیک کس بینک کا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’یہ ابوظہبی کے کسی بینک کا تھا اور کیشیئر چیک تھا‘ اس سے کوئی بھی بینک سے کیش لے سکتا تھا‘ میں نے ہوائی جہاز کی سیٹ بک کرا لی‘ میں رخصت ہونے لگا تو میاں شریف کا پیغام آیا نواز شریف بھی آپ کے ساتھ جائیں گے اور یہ آپ کو فرینکفرٹ میں ملیں گے۔
بہرحال قصہ مختصر میں فرینکفرٹ پہنچا اور ایئرپورٹ پر میاں نواز شریف نے بھی ہمیں جوائن کر لیا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کتنے لوگ تھے؟‘‘ یہ بولے ’’ہم چار تھے‘ میاں صاحب‘ میں‘ خیام قیصر اور نادر چوہدری‘ ہم فرینکفرٹ سے زیگرب پہنچے‘ ایئرپورٹ ویران اور جنگ زدہ تھا‘ ہم بڑی مشکل سے شہر آئے اور ہوٹل میں چار کمرے لیے‘ ہمارے علاوہ پورا ہوٹل خالی تھا۔ اگلے دن جیسے تیسے ایئرپورٹ پہنچے‘ سراجیوو کے لیے وہاں کوئی فلائٹ نہیں تھی‘ ہم بڑی دیر تک وہاں بیٹھے رہے‘ اس دوران وہاں ایک کارگو جہاز آیا‘ وہ رن وے پر اترا اور اس میں سے درجنوں لوگ اتر کر لاؤنج کی طرف دوڑ پڑے‘ ہمیں سیکیورٹی گارڈز نے اشارہ کیا آپ لوگ دوڑ کر اس جہاز میں گھس جاؤ اور ہم بھاگ کر جہاز میں سوار ہو گئے۔
شاہد خاقان عباسی کے مطابق یہ سی ون تھرٹی ٹائپ جہاز تھا‘ سیٹس کی جگہ بینچ لگے ہوئے تھے‘ نواز شریف سمیت ہم بہرحال جہاز میں پھنس پھنسا کر بیٹھ گئے‘ عملے نے ہم سے دو سو ڈالر فی کس لے لیا‘ جہاز اڑا اور یہ تین گھنٹے میں بڑی مشکل سے میزائلوں سے بچتا بچاتا سراجیوو ایئرپورٹ پر اتر گیا‘ ہمیں بتایا گیا آپ کے پاس صرف ایک منٹ ہو گا ‘آپ نے اس ایک منٹ میں جہاز سے اتر کر دوڑ کر لاؤنج تک پہنچنا ہے‘ جہاز رن وے پر رکا‘ دروازے کھلے اور ہم نے دوڑ لگا دی‘ ہم بڑی مشکل سے گولیوں اور میزائلوں سے بچتے ہوئے‘ لاؤنج تک پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ سے شہر جانے کا کوئی بندوبست بھی نہیں تھا‘ راستے میں سرب فوجیوں کے مورچے تھے اور وہ راہ گیروں اور گاڑیوں کو گولوں سے اڑا دیتے تھے۔
ہم لاؤنج میں پریشان اور اکیلے بیٹھے تھے‘ اس دوران وہاں ایک بکتر بند گاڑی آئی اور اس میں سے ایک خوب صورت خاتون اتری‘ وہ انٹرنیشنل صحافی تھی‘ نادر چوہدری نے اسے بتایا ہمارے ساتھ پاکستان کے سابق وزیراعظم ہیں۔
ہم شہر جانا چاہتے ہیں‘ خاتون نے ہمیں پیش کش کی آپ مجھے وزیراعظم کا انٹرویو کرا دیں اور میں آپ کو شہر پہنچا دیتی ہوں‘ ہم نے اس کے ساتھ ڈیل کر لی . جاوید چوہدری کے بقول شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ خاتون صحافی کے کہنے پر ہم راستے بھر گاڑی میں رکھے ھوۓ بیئرکے ڈبے سرب فوجیوں میں تقسیم کرتے ہوئے شہر کی مین سڑک پر آگئے۔ ہمارے اوپر گولیاں برس رہی تھیں‘ ہم بہرحال ہر قسم کے حادثے سے بچتے بچاتے عزت بیگوچ کے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے‘ خاتون نے ہمیں اس کے گیٹ پر پھینکا اور خود زگ زیگ میں گاڑی چلاتی ہوئی غائب ہو گئی‘ہمیں دیکھ کر بوسنیا کی فوج نے رائفلیں تان لیں۔‘‘ ہم نے بڑی مشکل سے انھیں سمجھایا ہمارے ساتھ پاکستان کے سابق وزیراعظم ہیں اور ہم عزت بیگوچ کو امدادی چیک دینے آئے ہیں۔وہ آخر میں ہمیں ہانکتے ہوئے ہیڈکوارٹر کے اندر لے گئے. جہاں نواز شریف سمیت ہماری ملاقات عزت بیگوچ سے ھوئی
