عمران خان اب بھی وزیراعظم بننے کی امید کیوں لگائے بیٹھے ہیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ھے کہ آج بھی عمران خان روزن زنداں سے آنکھ لگائے بیٹھے منتظر ہیں کہ جنرل پاشا، جنرل ظہیر الاسلام، جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ جیسا کوئی کرشمانی جنّاتی کردار، کوہ قاف کی بلندیوں سے اترے اور انہیں آغوش میں لے کر وزیراعظم ہائوس کے پنگھوڑے میں ڈال دے۔اپنی ایک تحریر میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر عمران خان آج بھی 9 مئی کو اپنی ٹوپی میں سُرخاب کا پَر سمجھتے ہیں اور اُسی نظریے کا پرچم تھامے سیاست میں واپس آنا چاہتے ہیں تو صلح صفائی کیسے ہو اور کس سے ہو؟دانشورانِ عصرِ حاضر غلط آدمی یعنی نواز شریف سے مخاطب ہیں۔ حالات کو اعتدال پرلانے، متعفن روایات پر مٹی ڈالنے اور ایک نئے عہد کا عہدنامہ رقم کرنے کی ذمہ داری نوازشریف نہیں، عمران خان کے کندھوں پر ہے۔ موجودہ ملکی صورتحال کے تناظر میں بزرگانِ دانش وحکمت دُہائی دے رہے ہیں کہ ’’سب ایک ہو جائیں اور بھلا دیں ماضی کو، —- کہا یہ جارھا ہے کہ عمران خان سادہ و معصوم شخص ہے۔ بھولپن میں کچھ ناگفتنی باتیں بھی کہہ جاتا ہے۔ 9 مئی کو جو کچھ ہوا، بہت بُرا ہو۔ ہم اُس کی شدید مذمت کرتے ہیں لیکن اب ہوگیا جو ہونا تھا۔ مٹی ڈالیں اس پر۔ دل بڑا کریں اور معاف کردیں—‘‘ لیکن کیا عمران خان نے کوئی ایک بھی مثبت اشارہ دیا ہے کہ وہ ماضی پر لکیر پھیر کر ایک نئے آغاز کی خاطر بقول ان کے ’’چوروں اور ڈاکوئوں‘‘ سے ہاتھ ملانے اور مل بیٹھنے کو تیار ہیں؟ عمران خان کی طرف سے کسی باضابطہ ’’وکالت نامے‘‘ کے بغیر بزرگانِ دانش وحکمت کی طرف سے ’’سب گلے مل جائیں‘‘ کی رومانوی صدائیں، صدا بہ صحرا نہیں تو کیا ہیں؟
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمران خان کا متحرک سیاسی سفر 1999 ء کی فوجی بغاوت کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دستِ آمریت پر بیعت سے شروع ہوا 2011ء میں جنرل شجاع پاشا کی بارش، تحریکِ انصاف کے سوکھے دھانوں پہ برسی اورفصل چھائونیوں کی چھائوں تلے پروان چڑھنے لگی۔ 2018ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کے ذریعے دیرینہ خواب، تعبیر کو پہنچا۔ کامل چار برس عمران خان نے سیاسی فراست، کشادہ ظرفی اور افہام وتفہیم کا ادنیٰ سا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ تک نہ ملایا۔ قومی سلامتی کے انتہائی حساس اجلاس ہوئے۔ پوری فوجی قیادت نے شرکت کی۔ وزیراعظم کسی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ دلیل یہ کہ میں ’’چوروں‘‘ سے ہاتھ نہیں ملا سکتا۔ سو وہ اپوزیشن کو بازاری گالیاں دینے، زندانوں میں ڈالنے، اُن کے پنکھے اتروانے اور الزامات تھوپنے ہی کو کمال فن سمجھتے رہے۔ اب سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ عمران خان نے عدم اعتماد کی تحریک کے بعد سیاسی ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی۔ غیرآئینی طور پر قومی اسمبلی توڑنے کا مشورہ دیا۔ صدر علوی نے غیر آئینی طورپر اسمبلی توڑی جو غداری کے مترادف ہے۔
عرفان صدیقی کے مطابق عمران خان اور صدر علوی کے اسی ہیجانی، جذباتی اور غیرآئینی ردّعمل سے عدم استحکام، پیچ درپیچ بحرانوں اور انتخابات میں تاخیر کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے اثرات کو آج تک محسوس کیا جارہا ہے۔ اگر وہ بھاری بھرکم اپوزیشن کی قیادت کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں موجود رہتے تو اپنی مخصوص شعلہ بیانی سے صرف تین ارکان کی اکثریت رکھنے والی پندرہ جماعتی مخلوط حکومت کو تگنی کا ناچ نچا سکتے تھے۔ انتخابات مقررّہ وقت، نومبر 2023ء میں ہوتے اور عمران خان اڈیالہ جیل میں ہونے کے بجائے اس وقت انتخابی مہم کی قیادت کررہے ہوتے۔ ایک اور موقع اُنہیں محرومیِٔ اقتدار کے صرف ایک ماہ بعد، مئی 2022ءمیں ملا۔ پی۔ڈی۔ایم نے حکومت سنبھالتے ہی جب معیشت کی غارت گری اور بڑی حد تک ناقابلِ اصلاح صورتِ حال دیکھی تو فیصلہ کرلیا کہ اپنی سیاسی جمع پونجی دائو پر لگانے کے بجائے فوری طورپر انتخابات میں چلے جانا چاہئے۔ صدر عارف علوی اور جنرل باجوہ کے ذریعے عمران خان کو باضابطہ طورپر اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا۔ وہ نہ مانے۔ کہا کہ ’’میں 25مئی کو لاکھوں عوام کے ساتھ اسلام آباد جارہا ہوں۔ حکومت بھی الٹوں گا اور الیکشن کی تاریخ بھی لے کر اٹھوں گا۔‘‘ یہ کہانی پرویز خٹک بھی سناچکے ہیں۔ عمران خان لانگ مارچ سے نہ ٹلے تو سب سے پہلے نواز شریف نے وزیراعظم شہبازشریف کو پیغام دیا کہ اب کسی کی دھونس میں آنے کی ضرورت نہیں۔ حالات کا سامنا کریں۔ ملک کو ابتری سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اسمبلی کو اپنی معیاد پوری کرنے دیں۔ تمام جماعتوں نے اس کی تائید کی۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ بے لچک ضد نے عمران خان کو پیچھے دھکیل دیا۔ ذرا اِس شیش ناگی انا اور طفلانہ ہٹ دھرمی کے کرشموں پر نظر ڈالئے۔ قومی اسمبلی سے استعفے دئیے کہ الیکشن مل جائینگے۔ نہ ملے۔ آرمی چیف کی تعیناتی سے دو دِن پہلے راولپنڈی پر چڑھائی کی کہ سید عاصم منیر کی تقرری روکی جائے۔ ناکام رہے۔ افتادِ طبع کو چین نہ ملا تو پنجاب اسمبلی توڑ دی کہ اب تو الیکشن ناگزیر ہیں۔ ایسا نہ ہوا۔ جھنجھلا کر خیبرپختون خوا اسمبلی توڑ ڈالی۔ انتخابات پھر بھی نہ ملے۔ زِچ ہوکر فوج میں بغاوت اور عاصم منیر کا تختہ الٹنے کی سازش کی۔ سازش کے فتیلے کو آگ دکھانے کیلئے 9 مئی کو ملک گیر غارت گری کا منصوبہ بنایا اور عمران خان وہاں پہنچ گئے جہاں ہر شعلہ مزاج، انا پرست اور بے حکمت شخص کو جلد یا بدیر پہنچنا ہی ہوتا ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ مٹی ڈالو ‘‘کے مبلّغین پر ایک بنیادی سوال کا جواب لازم ہے۔ کیا 9 مئی کی نشانہ بند تباہ کاری، فوج کے اندر بغاوت اور آرمی چیف کا تختہ الٹنے کی سازش کو معصومانہ بھول چُوک اور جمہوری احتجاج کا بنیادی حق قرار دے کر ’’عفو ودرگزر‘‘ کی ریشمی قبا پہنا دی جائے۔ کیا 9 مئی کی کھُلی بغاوت کے بعد عمران خان کے پاس یہ گنجائش موجود ہے کہ ایک رسمی سے ’’حرف معذرت‘‘ یا ’’گلے لگ جانے‘‘ کی آرزو کے بعد وہ
غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں آغاز سراج درانی کی ضمانت ضبط
معمول کی جمہوری سیاست کی طرف پلٹ آئیں؟
