مودی اور عمران کا پاک بھارت امن معاہدہ کیوں نہ ہو پایا؟

جنرل قمر باجوہ کے دور میں پاکستانی فوجی قیادت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان آنے کے لیے رضا مند کر لیا تھا، یہ کارنامہ تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تھا جو ایک عرب ملک میں بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول سے خفیہ طور پر کئی مرتبہ ملے اور یہ فیصلہ ہوگیا کہ نریندر مودی 9 اپریل 2021 کو پاکستان آئیں گے۔
حال ہی میں جنرل قمر باجوہ کے ساتھ 6 گھنٹے طویل ملاقات کرنے والے سینئر صحافی جاوید چوہدری نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ چونکہ مودی ہنگلاج ماتا کے پجاری ہیں لہٰذا وہ سیدھا ہنگلاج ماتا کے مندر جائیں گے جہاں وہ دس دن کا بھرت یا روزہ رکھیں گے۔ وہاں سے واپسی پر وہ عمران خان سے ملیں گے۔ یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نریندرا مودی وزیراعظم عمران خان کا بازو پکڑ کر ہوا میں لہرائیں گے اور دوستی کا اعلان کر دیں گے۔
اس موقع پر نریندر مودی یہ اعلان بھی کریں گے کہ ہم پاک بھارت تجارت بھی کھول رہے ہیں۔ مودی یہ بھی کہیں گے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ملک میں مداخلت اور دہشت گردی نہ کرنے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ دونوں وزرائے اعظم اعلان کریں گے کہ کشمیر کا فیصلہ ہم 20 سال بعد مل بیٹھ کر کریں گے۔ سارا منصوبہ فائنل ہوگیا تھا لیکن آخری وقت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو ڈرا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ پر مہر لگ جائے گی کہ آپ نے کشمیر کا سودا کر دیا چنانچہ وزیر اعظم پیچھے ہٹ گئے اور یوں بھارتی وزیراعظم مودی کا دورہ پاکستان کینسل ہو گیا۔
جاوید چودھری کے اس دعوے میں اس لیے وزن ہے کہ یہ بات انہیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتائی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں کی خفیہ ملاقاتیں کی تھیں جن کا ایجنڈا کشمیر تھا۔ دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس حکام کے درمیان جنوری 2021 میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خفیہ مذاکرات ہوئے اور یہ خبر انٹرنیشنل میڈیا میں رپورٹ بھی کی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا تھا کہ اس بات چیت میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ انٹیلی جنس حکام شریک تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات 2019 میں کشمیر میں بھارتی فوج پر ہونے والے خودکش حملے اور پاکستانی علاقوں میں بھارتی طیاروں کے داخل ہونے کے بعد سے مسلسل کشیدہ تھے۔
بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے 2019 میں کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا تھا جس کا مقصد بھارت کی کشمیر پر گرفت کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اسکے جواب میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بڑے پیمانے پر کمی کر دی تھی لیکن دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اس دوران جنگ کا خطرہ روکنے کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔
اس دوران جنوری 2021 میں متحدہ عرب امارات کی سہولت کاری سے دبئی میں ہونے والے مذاکراتی دور میں بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلسس ونگ یعنی را اور آئی ایس آئی کے افسر شریک ہوئے۔ تب پاکستان سے تعلق رکھنے والی دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے بھی کہا تھا کہ پاکستانی اور بھارتی انٹیلی جینس عہدے دار کئی ماہ سے دوسرے ملکوں میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اس حوالے سے اعلیٰ عہدے داروں کے درمیان تھائی لینڈ، دبئی اور لندن میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
