برطانیہ کا عمران کے فنانسر عارف نقوی کی امریکہ حوالگی کا فیصلہ

برطانوی عدالت نے عمران خان کے پرانے دوست اور تحریک انصاف کے بڑے فنانسر ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ حوالگی کا حکم دے دیا ہے۔ عارف نقوی  8 مارچ کو اپنا دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے لندن سے امریکہ حوالگی چیلنج کرنے والا مقدمہ ہار گئے ہیں۔ مقدمہ ہارنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ ابراج کے پاکستانی بانی کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔خیال رہے کہ امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی تاجر عارف نقوی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔تاہم عارف نقوی پبلک ریلیشنز فرم کے ذریعے ان الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔

تاہم اب برطانوی جج جوناتھن سوئفٹ نے بدھ کو عارف نقوی کو ان کی امریکہ حوالگی کی 2021 کے مقدمے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔عارف نقوی کے وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے ایک روز قبل لندن کی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کو ممکنہ طور پر نیو جرسی کی جیل میں پرتشدد مجرموں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔وکیل نے دلیل دی کہ عارف نقوی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں اور حوالگی کی صورت میں ان کو خودکشی کا ’حقیقی خطرہ‘ لاحق ہے۔

تاہم امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا کہ عارف نقوی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ استغاثہ مقدمے کی سماعت سے قبل ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا۔برطانوی جج سوئفٹ نے بدھ کو جاری فیصلے میں کہا کہ عارف نقوی کی حوالگی کی منظوری کے 2021 کے فیصلے کے بعد سے جیل کے حالات میں کوئی ’مادی تبدیلی‘ نہیں آئی ہے۔جج نے یہ بھی کہا کہ اگر عارف نقوی کو جیل میں رکھا گیا تو ان کی خودکشی کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ عارف نقوی دبئی میں قائم ابراج کے بانی تھے۔یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی اور ان کی فرم نے ابراج گروتھ مارکیٹس ہیلتھ فنڈ کے لیے رقم اکٹھی کی جنہوں نے تین سالوں میں امریکی خیراتی اداروں اور دیگر امریکی سرمایہ کاروں سے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی۔امریکی استغاثہ نے سابق ایگزیکٹو پر مالیاتی بحران کے دوران فنڈز کی پوزیشن کے حوالے سے سچ چھپانے کا الزام بھی عائد کیا، جب کہ لاکھوں ڈالرز ان کے اپنے ہی خاندان کو چوری چھپے منتقل کیے گئے۔سال 2002 میں قائم ہونے والا ابراج گروپ سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے سب سے با اثر اور ابھرتے ہوئے اداروں میں سے ایک بن گیا تھا لیکن مختلف سرمایہ کاروں، جن میں ’بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘ بھی شامل تھا، کی جانب سے ہیلتھ کیئر فنڈ میں مبینہ بدانتظامی کی تحقیقات اس فنڈ کی بندش کا باعث بن گئی۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ ابراج گروپ نے اپنی آمدنی کے اعداد و شمار میں اخراجات کو شامل نہیں کیا تھا، جس کے بعد عارف نقوی اپنی کمپنی کا اختیار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔پاکستان میں بھی ابراج گروپ کے اثاثے موجود ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ابراج گروپ کی ملکیت ہے جبکہ اسلام آباد میں موجود ایک لیبارٹری میں بھی ابراج گروپ کے حصص موجود ہیں۔عارف نقوی سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کئی اجلاسوں میں بھی نظر آئے تھے اور برطانیہ کی عدالت میں ایک موقع پر جج یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’عارف نقوی کے پاکستان میں اعلیٰ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔‘پاکستان کے احتساب ادارے نیب کے مطابق عارف نقوی تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کر چکے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں۔

عمران خان کے دوست اور ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کے خلاف زیر سماعت سنگین مالی فراڈ کے کیس میں امریکی استغاثہ نے ان کے خلاف دائر کردہ فوجداری فرد جرم میں چار پاکستانی سیاست دانوں کی شناخت کیے بغیر انکا ذکر کیا تھا جنہیں نقوی نے فنڈنگ کے نام پر رشوت دی تاکہ ذاتی فوائد حاصل کر سکیں۔ تاہم بعد ازاں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نےچار پاکستانی سیاستدانوں میں سے عمران خان کا نام کنفرم کیا تھا۔

یاد رہے کہ سال 2019 میں امریکی پراسیکیوٹرز نے عارف نقوی کے خلاف اپنی فرد جرم میں یہ الزام لگایا تھا کہ 2013 سے 2016 کے درمیان پاکستانی ’’سیاستدان نمبر 4‘‘ کو نقوی نے رشوت دی تھی۔ امریکی پراسیکیوٹرز کی جانب سے دائر کردہ 77 صفحات پر مشتمل فرد جرم کی دستاویز میں صفحہ 25 پر الزام لگایا گیا کہ 2013 اور 2016 کے درمیان مدعا علیہ عارف نقوی نے مدعا علیہان رفیق لاکھانی اور وقار صدیقی کی مدد سے ابراج گروپ کے فنڈز کا استعمال ایک اور پاکستانی ’سیاستدان نمبر 4‘ کو رشوت دینے اور انکے کھانے اور سفر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیا۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ سیاست دان نمبر 4 عمران خان تھے۔ فرد جرم کے صفحہ 23 پر بحث کی گئی ہے کہ کس طرح عارف نقوی کی ہدایت پر ابراج انٹرپرائز کے اراکین نے بھی گروپ کے فائدے کے لیے پاکستانی سیاستدانوں کو رشوت دی۔

فرد جرم کے پیرا 54 میں امریکی پراسیکیوٹر نے الزام لگایا تھا کہ مثال کے طور پر جون 2016 میں مدعا علیہ عارف نقوی نے پاکستان میں ’سیاستدان نمبر 1‘ کو دو دیگر سیاستدانوں یعنی نمبر 2‘ اور اور نمبر 3‘ کے ساتھ مل کر سیاست دان نمبر 1 کو ’لین دین کے مشیر‘ کے طور پر شامل کرنے اور 20 ملین ڈالرز دے کر مختلف معاہدے کرانے کا اختیار دیا تھا۔ ان معاہدوں میں کراچی الیکٹرک پاور لمیٹڈ بھی شامل تھا جس کے شیئرز عارف نقوی نے ابراج گروپ کے کھاتے سے خریدے تھے۔ کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے الیکٹرک لمیٹڈ کیلئے ایک ہولڈنگ کمپنی ہے، جو پاکستان میں برقی توانائی کی یوٹیلٹی ہے، جس میں مختلف ابراج برانڈڈ اداروں نے تقریباً 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ امریکی فرد جرم میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنی ای میل میں ذاتی طور پر معاہدے اور ادائیگی کی منظوری دیتے ہوئے عارف نقوی نے ابراج کے ایک سینئر ممبر ایگزیکٹو کو معاہدے میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی۔ مزید کہا گیا کہ حقیقت میں اس معاہدے کا مقصد سیاست دان نمبر 1 کے ذریعے کراچی الیکٹرک میں موجود ابراج گروپ کے حصص فروخت کرنے کے لیے سیاست دان نمبر 2 اور سیاست دان نمبر 3 پر اثر انداز ہونا تھا۔ فرد جرم کے مطابق معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے سیاست دان نمبر 1 نے ممبر ایگزیکٹو کو اطلاع دی کہ سیاست دان نمبر 2 اور سیاست دان نمبر 3 کو یہ کام کروانے کے لئے انعامی رقم بھی دینا پڑے گی۔

امریکی فرد جرم میں کہا گیا تھا کہ 2013 اور 2016 کے درمیان مدعا علیہ عارف نقوی کو رفیق لاکھانی اور وقار صدیقی نے مدد فراہم کی۔ ان دونوں مدعا علیہان نے ابراج گروپ کے فنڈز کا استعمال پاکستانی سیاستدان نمبر 4 کو رشوت دینے اور اس کے کھانے اور سفر کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کیا۔ اگرچہ فرد جرم میں سیاستدان نمبر 4 سمیت چاروں سیاستدانوں میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا لیکن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ابراج گروپ کے عارف نقوی کے خلاف دائر کردہ امریکی فرد جرم میں جس سیاستدان نمبر 4 کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ عمران خان ہیں۔

جنرل فیض نے اپنی سیاہ کاریاں جنرل باجوہ کے گلے ڈال دیں

Back to top button