جنرل فیض نے اپنی سیاہ کاریاں جنرل باجوہ کے گلے ڈال دیں

سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات پر نون لیگ کی اعلیٰ قیادت بالخصوص مریم نواز نے جہاں جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا ہے وہیں نون لیگ کی قیادت مسلسل ریٹائرڈ جرنیل کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بتا چکے ہیں کہ جنرل فیض حمید کے حوالے سے ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے پر ان کیخلاف کارروائی کو آگے بڑھایا جا ئے گا۔ تاہم دوسری طرف سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے اپنے دفاع میں یہ کہنا کہ وہ کمان کے ماتحت تھے اور انھوں نے آئین اور مسلح افواج کے حلف سے متضاد کوئی کام نہیں کیا۔ یعنی جنرل فیض حمید کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتے رہے کمان یعنی آرمی چیف جنرل باجوہ کے کہنے پر ہی کرتے رہے یعنی کہ انھوں نے اپنی سیاہ کاریوں کا تمام ملبہ جنرل باجوہ پر ڈال دیا ہے۔فیض حمید کے علاوہ، نون لیگ کی قیادت نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ الزامات کا جواب دیتے ہوئے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔

سینئر اینکر کامران خان نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر لکھا ہے کہ جنرل فیض حمید نے انہیں پیغامات بھیجے ہیں اور مریم نواز کی جانب سے عائد کردہ الزامات کا جواب دیا ہے۔ ان ٹیکسٹ پیغامات میں فیض حمید نے کہا ہے کہ ’’2017-18ء میں وہ صرف ایک میجر جنرل تھے۔ کیا ایک میجر جنرل ملٹری ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود ہی کسی منتخب حکومت کا تختہ الٹ سکتا ہے؟ فوج میں فیصلے چیف کرتا ہے۔ تمام فیصلے عدالتوں نے کیے۔‘‘

سینئر صحافی فخر درانی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ موقف قابلِ دفاع ہے جو ریٹائرڈ ڈی جی نے اختیار کیا ہے؟ اگر یہ معاملہ عدالتوں میں لےجایا جائے تو کیا وہ اپنے اقدامات کا دفاع کر پائیں گے؟ جیسا کہ نون لیگ الزام عائد کر رہی ہے، کیا جنرل فیض حمید سیاست میں اپنی مداخلت کا کوئی جواز پیش کر سکیں گے؟ آئین اور قانون کے ماہرین کہتے ہیں کہ سابق ڈی جی کا دفاع کمزور ہے۔

اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے چیف کے حکم پر عمل کیا تو وہ شاید اپنا دفاع کرنے میں ناکام ہوجائیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 244؍ کے مطابق، مسلح افواج میں شمولیت کے وقت فوجی حلف لیتا ہے جس کے تحت وہ حلفیہ کہتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے گا۔

آئین کے آرٹیکل 4؍ میں لکھا ہے کہ ’’ہر شہری خواہ کہیں بھی ہو، اور کسی دوسرے شخص کا جو فی الوقت پاکستان میں ہو، یہ ناقابل انتقال حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے (ج) کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا کرنا اس کیلئے قانوناً ضروری نہ ہو۔‘‘

اس حوالے سے جسٹس (ر) وجہیہ الدین احمد کہتے ہیں کہ ’’اگر یہ ثابت ہو جائے کہ جنرل فیض غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے تو ان کے اقدامات کا دفاع ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جنرل فیض کے اقدامات قانونی تھے یا غیر قانونی۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ان کا کوئی اقدام غیر قانونی تھا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے یہ کام رضاکارانہ طور پر کیے یا کسی کمان کے ماتحت۔ وہ اس بات کا دفاع نہیں کرسکتے۔ لہٰذا، جو سیاسی شخصیات ان پر الزامات عائد کر رہی ہیں کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی اقدام کیا ہے تو انہیں پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی ان کیخلاف کارروائی کا سوال پیدا ہوگا۔‘‘

خیال رہے کہ ملک کی سیاسی و معاشی تباہی اور امن و امان کے بحران میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ سیاسی دخل اندازی کے ساتھ ساتھ جنرل فیض حمید پر فوج کو بغاوت پر اکسانے کا سنگین ترین الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔پراجیکٹ عمران کی لانچنگ سے لے کر 2018 کے الیکشن میں دھاندلی اور عمران خان  کے دور اقتدار میں جنرل فیض حمید نے آئین شکنجوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام تر ثبوتوں کے ساتھ جنرل فیض حمید کی چارج شیٹ تیار کی جا چکی ہے۔

دوسی جانب سینئر صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی جلد گرفتاری کا امکان ہے۔ اسد علی طور کے مطابق عمران خان کے قریبی سابق عسکری افسر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید جلد گرفتار ہونے والے ہیں۔ان پر کرپشن، ملک میں دہشتگردی کے ، ملکی سیاست میں مداخلت کےسنگین الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج میں بھی بغاوت کروانےکی کوشش کی۔

اسد طور کے مطابق اس بارے میں کچھ واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ جنرل فیض حمید کا باقاعدہ کورٹ مارشل ہو گا یا ان کو کسی سویلین اتھارٹی کے ذریعے گرفتار کیا جائے گا تاہم ان کی جلد گرفتاری یقینی ہے۔ امکان ہے کہ کسی وقت بھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

اسد طور کے مطابق فیض حمید پر سیاست میں مداخلت کا بھی الزام ہے۔ جب یہ فیصلہ ہوا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی، ‘غیر سیاسی’ ہو گی۔ تب بھی فیض حمید کی جانب سے بار بار اس موقف کی خلاف ورزی کی گئی۔ جب انہیں آئی ایس آئی سے ہٹا کر کور کمانڈر کی حیثیت سے پشاور بھیجا گیا تو وہاں بھی انہوں نے پی ٹی آئی کی حمایت جاری رکھی۔ جب اہلکاروں کو واپس بھیجا گیا یا ان کی پوسٹنگ کہیں اور ہوئی، فیض حمید بدستور ان سے وہی کام لیتے رہے۔ وہ سیاست میں بھی مداخلت کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کو فنڈنگ دلوانا، جج صاحبان کو مینج کرنا ، یہ سب کچھ کرتے رہے۔ ۔ 25 مئی کو جو لانگ مارچ ہوا اس میں بھی فیض حمید کی بہت حمایت حاصل تھی۔ جنرل فیض حمید کیخلاف بنائی گئی چارج شیٹ میں یہ تمام چیزیں شامل ہیں کہ انہوں نے یہ سب وارداتیں ڈالی ہیں۔

اسد طور کے مطابق جنرل فیض کے اوپر ایک اور سنگین الزام ہے کہ انہوں نے فوج کے اندر ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔ ۔ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے میں انہوں نے عمران خان کو استعمال کیا اور کہا کہ آپ لانگ مارچ کریں، وہی لانگ مارچ جس میں ان کو گولی لگی۔ وہ لانگ مارچ بھی فیض حمید کروا رہے تھے تاکہ فوج میں ان حلقوں کو مضبوط کیا جاسکے جو جنرل سید عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روک سکیں۔ پھر عمران خان کے ذریعے یہ آپشنز بھی دیئے گئے کہ آپ الیکشن تک جنرل باجوہ کو آرمی چیف برقرار رکھیں۔ فیض حمید نے بھرپور کوشش کی اور ٹارگٹ کیا کہ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکا جاسکے۔ اس کے لئے وہ مختلف لوگوں کے ذریعے فوج میں مہم چلارہے تھے۔ ریٹائرڈ فوجی افسران سے مہم چلوا رہے تھے۔جنرل فیض نے فوج کے اندر بغاوت کروانے کی کوشش کی اور جو ماحول پیدا کیا یہ بہت سنگین تھا۔  یہ ایک پورا نیٹ ورک تھا جو یہ سب کچھ کر رہاتھا۔ یہ اس منظم طریقے سے فوج میں ایک نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ کور کمانڈر بہاولپور رہتے ہوئے بھی مداخلت کررہے تھے۔ اپنی بیٹی کی شادی کا کہہ کر راولپنڈی آئے اور وہاں سے اسلام آباد گئے اور سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا، جب آرمی ہائی کمانڈ کو علم ہوا تو انہیں واپسی کا حکم دیا گیا۔

اسد طور کے مطابق جنرل قمر باجوہ نے تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ جس طرح دیگر اشخاص کی فائلیں، آڈیوز اور ویڈیوز فیض حمید کے پاس تھیں اسی طرح جنرل باجوہ کی بھی چیزیں ان کے پاس موجود تھیں۔ یہ تمام چیزیں فوج کے علم میں ہیں اور ان کے کچے چٹھے کا تمام ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے تاہم ابھی ان کی گرفتاری کے حتمی احکامات کب جاری ہوں گے یہ آئندہ کچھ دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا۔

کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ کیلئے نیوٹرل ہو چکی ہے؟

Back to top button