عمران حکومت سے مذاکرات کی بھیک کیوں مانگنےلگا؟

سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی سیاست کو بند گلی میں جاتا دیکھ کر جہاں ایک طرف حکومت کو سرپرائز دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف مذاکرات کی بھیک مانگتے بھی نظر آتے ہیں۔ یعنی عمران خان گریبان پر بھی ہاتھ ڈال رہے ہیں اور پاؤں بھی پکڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں جہاں ایک جانب عمران خان کو این آر او دے کر خاموش رہنے کی شرط پر بیرون ملک بھیجنے کی افواہیں گرم ہیں وہیں پیپلز پارٹی سمیت اتحادی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کے باوجود عہدیداروں کی اندرونی ردوبدل کے فوراً بعد پی ٹی آئی نے 7 رکنی ’مذاکراتی کمیٹی‘ تشکیل دے دی ہے جس میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ کمیٹی کس کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔

 یہ نوٹی فکیشن اس وقت سامنے آیا جب موجودہ حکومت نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی 25 مئی کو اختیارات کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کی ’پیشکش‘ کی مذمت کی۔صرف ایک روز قبل عمران خان نے ریاستی اداروں سے ایک اور پرجوش اپیل کی تھی کہ وہ فوری طور پر اپنی پارٹی کے ساتھ بیٹھیں، بات کریں اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے کوئی حل تلاش کریں۔تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف دونوں نے پی ٹی آئی سربراہ کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات صرف سیاسی قوتوں سے ہو سکتے ہیں، تخریب کاروں یا دہشت گردوں سے نہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کی جانب سے اسد عمر کی جگہ عمر ایوب خان کو پارٹی کا نیا سیکریٹری جنرل تعینات کرنے کے فوراً بعد پارٹی سربراہ کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ٹیم شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ، عون عباس بپی، مراد سعید اور حماد اظہر پر مشتمل ہوگی۔تاہم پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے اس کمیٹی کی تشکیل پر حیرت کا اظہار کیا اور کچھ نے نشاندہی کی کہ مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے والے بہت سے رہنما تو جیل میں ہیں یا گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔

دوسری جانب بظاہر ایک بہادر چہرہ دکھاتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ نے ان لوگوں کے خالی کردہ عہدوں کو دوبارہ بھرنے میں مصروف ہیں جنہوں نے ’دباؤ‘ کے سامنے جھک کر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ جہاں ان کے مخالفین نے راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو غدار کے طور پر پیش کرتے ہوئے کئی ’مذمتی دیواریں‘ بنائیں، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے واپس اوپر اٹھنے کا عزم ظاہر کیا۔عمران خان نے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر سینئر صحافیوں کو بتایا کہ انہیں فوج سے کوئی رنجش نہیں ہے اور وہ آنے والے دنوں میں کچھ بڑے سرپرائز دینے کے لیے تیار ہیں، یہ آزمائشی وقت بدلنا ہے۔پی ٹی آئی کے سربراہ مسلسل اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ کچھ حلقے انہیں گرفتار، نااہل یا قتل کر کے ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے سربراہ نے بہت سی باتیں کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی پارٹی کی قیادت کریں گے، جن کی مدد پرویز خٹک اور دیگر سینئر رہنما کریں گے۔

دوسری جانب حکومت نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے، خواجہ آصف، اسحاق ڈار، رانا ثناءاللہ، خواجہ سعد رفیق، شرجیل میمن سمیت اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اپنے جرائم تسلیم کر کے قوم سے معافی مانگنے تک تحریک انصاف سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے عمران مذاکرات کی نہیں این آر او کی اپیل کررہے ہیں،انہوں نے کہا 60 ارب کا ڈاکا ڈالنے والے غیر ملکی ایجنٹ اور توشہ خانہ چور سے مذاکرات نہیں ہوتے بلکہ اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے،مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ریاست پہ حملہ کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے مذاکرات نہیں کئے جاتے۔ عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی نہیں این آر او کی اپیل کی جارہی ہے۔ ایمبولنسز، اسپتال، اسکول جلانے،ملک میں فساد، توڑپھوڑ اور انتشار پھیلا کراور نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر انڈیل کر اب کہتے ہو کہ مذاکرات کرنے ہیں؟ ملک میں انتشار پھیلانیاور مسلح جتھے بنانے والے سے بات چیت نہیں ہو سکتی۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بات چیت صرف سیاست دانوں سے کی جاتی ہے ، نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ شہدا کی یادگاروں کو جلانے والے، ملک کو آگ لگانے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے گروہ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عمران کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کا اعلان مضحکہ خیز ہے ،کیونکہ سات رکنی مذاکراتی ٹیم میں سے چار افراد مفرور ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے ۔ عمران خان کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا عمل بے سود ہوگیا ہے کیوں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے واضح طور پر پی ٹی آئی

پاکستان آرمی نے 24 ویں مرتبہ نیشنل گیمز جیت لیے

کیساتھ مذاکرات کا امکان مسترد کردیا ہے۔

Back to top button