.عمران خان کی سزا پر عمرانڈو اتنے خاموش کیوں ہیں؟

خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ عمران خان سزا کے خلاف اعلٰی عدلیہ سے رُجوع کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سات مارچ 2022 کو واشنگٹن ڈی سی سے موصول ہونے والے سائفر کو قومی سلامتی کا خیال کیے بغیر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔
عمران خان کو سزا سنائے جانے پر پاکستان میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا، تاہم سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے اور مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ خصوصی عدالت سے سزا سنائےجانے کے بعد عمران خان کے پاس اب کیا آپشنز موجود ہیں؟ کیا سائفر کیس کے علاوہ دیگر کیسز میں بھی عمران خان کو سزا ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے قانونی ماہرین مختلف آرا رکھتے ہیں۔
ماہرِ قانون اور سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس سزا کے خلاف ایپلٹ کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی آپشن موجود ہے۔ عمران خان تحریری فیصلے کے 30 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس تین مواقع موجود ہیں۔ اول وہ ایپلٹ کورٹ میں دستاویزات کے ساتھ ثابت کریں کہ اُن کے خلاف یہ کیس ثابت نہیں ہوتا۔
دوسری جانب تجزیہ کار اور کالم نویس مجیب الرحمٰن شامی سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سزا کی خبر ایک دِل دکھا دینے والی خبر ہے۔ پاکستان کی سیاست بار بار اپنے رہنماؤں اور سیاست دانوں کو ڈستی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھ گئے۔ نواز شریف کو سزا ہوئی اور بعد میں وہ جلا وطن ہو گئے۔ اب عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے خلاف جو کریک ڈاؤن ہو رہا ہے، ایسے میں نہیں لگتا کہ کوئی بڑی تحریک چل سکتی ہے۔
تجزیہ کار اور کالم نویس چوہدری غلام حسین سمجھتے ہیں کہ یہ ایک افسوس ناک امر ہے۔ عمران خان کی سزا خلافِ توقع اور حقائق کے برعکس ہے۔ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سزا عمران خان کو نہیں بلکہ اُنہیں دی گئی ہے۔چوہدری غلام حسین کہتے ہیں کہ اس فیصلے سے یہ گمان کرنا کہ آٹھ فروری کو لوگ باہر نہیں نکلیں گے، خام خیالی ہے۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے ووٹرز کو مزید حوصلہ دے گا کہ وہ پولنگ اسٹیشن کا رُخ کریں۔چوہدری غلام حسین کہتے ہیں کہ اس فیصلے سے عمران خان اور اداروں کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے جبکہ ملک میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔
دوسری جانب عمران خان کی سزا پر جہاں سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا وہیں عمرانڈو بھی آرام سے گھروں میں بیٹھے خاموش احتجاج کرتے دکھائی دئیے کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ ’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔‘ وہ جماعت جو عمران خان کو اپنی ریڈ لائن کہتی تھی اب ایک ہی دن میں 25 گواہوں پر جرح کی خبر سامنے آنے اور عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کے باوجود تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل ایسا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں حالانکہ آئے روز سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ہزاروں افراد پر مبنی ریلیاں اور کارنر میٹنگز کی ویڈیوز پوسٹ کی جاتی ہیں اور یہ تأثر دیا جاتا ہے کہ عوام پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی ’کارروائیوں‘ کے باوجود ان کے ساتھ ہے۔عوامی حمایت کا عملی تقاضا تو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ عمران خان کی سزا پر ردعمل سامنے آتا اور کچھ نہیں تو پرامن احتجاج ہی ریکارڈ کروایا جاتا لیکن پارٹی نے اس کے برعکس فیصلہ لیا۔
ایک طرف عمران خان کی گرفتاری پر اتنا شدید ردعمل سامنے آیا تھا کہ لاہور کا کور کمانڈر ہاؤس جل گیا۔ جی ایچ کیو کے باہر احتجاج ہوا اور میانوالی ایئربیس کے باہر بھی توڑ پھوڑ ہوئی۔ وہیں اب عدالتی فیصلے کے بعد رسمی بیانات کے بعد پارٹی رہنماؤں نے مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے۔
مبصرین کے مطابق قیادت کے اس فیصلے سے تحریک انصاف کا وہ ووٹر اور کارکن جو صرف عمران خان کو تحریک انصاف سمجھتا ہے، اس کا پارٹی کی موجودہ قیادت پر اعتماد کم ہوسکتا ہے۔صرف یہی نہیں کہ پی ٹی آئی کے قائدین نے عمران خان کی سزا کے بعد کوئی زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی بلکہ ماضی کے برعکس تحریک انصاف کی مخالف جماعتوں نے بھی عمران خان کو سنائی جانے والی سزا پر خوشی کا عملی مظاہرہ نہیں کیا۔پارٹی رہنماؤں سمیت کسی بھی سیاسی کارکنان کی جانب سے مٹھائی کھانے یا جشن منانے کی کوئی ویڈیو یا تصویر سامنے نہیں آئی تاہم سوشل میڈیا پر نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے وقت پارٹی رہنماؤں سمیت مٹھائی کھاتے وقت کی عمران خان کی تصاویر ایک بار پھر زیرگردش ہیں۔
