کپتان کا کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ ٹھس

عمران خان کینٹینر سے اتر کر ساڑھے تین سال حکومت کرنے کے بعد اب گھر واپس جاتے نظر آتے ہیں لیکن اس عرصے میں نہ تو عوام کو وعدے کے مطابق ایک کروڑ نوکریاں ملیں اور نہ ہی 50 لاکھ گھر بن سکے، یوں کپتان کا نوکریاں دینے اور گھر بنانے کا انتخابی نعرہ ٹھس ہوگیا۔

عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے انتخابی منشور میں عوام کو ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ گھر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا ڈھنڈورا وہ حکومت میں آنے کے بعد بھی پیٹتے رہے موصوف فرماتے تھے کہ پاکستان وہ ملک بنے گا جہاں غریب ملکوں سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آیا کریں گے اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کے باہر ویزا لینے والوں کی قطاریں لگی کریں گی۔ اقتدار میں آنے کے بعد خان صاحب کے لاڈلے فیصل واوڈا نے سال 2019 میں یہ نوید سنائی کہ ’اتنی نوکریاں آنے والی ہیں کہ بندے کم پڑ جائیں گے اور یہ سب برسوں میں نہیں محض چار ہفتوں میں ہو گا۔

کاروبار کرنا اتنا آسان ہو جائے گا کہ پان اور ٹھیلے والا بھی کہے گا مجھ سے ٹیکس لے لو۔ تاہم ایک کروڑ نوکریوں سے لے کر معاشی خوشحالی لانے تک کے جو دعوے کپتان اور ان کے ساتھیوں نے کیے تھے، وہ سب سراب نکلے۔ آج ساڑھے تین سال بعد ملک میں شرحِ بیروزگاری پر نظر ڈالیں تو صورتحال ان وعدوں سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔اس کے باوجود حکومتی وزرا کا دعویٰ ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں کمی آئی ہے اور وہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی مثال پیش کرتے ہیں جو روزگار کے لیے مجبوراً ملک سے باہر گئے۔

جون 2020 میں تب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم نے 9 لاکھ 70 ہزار افراد کو نوکری کی غرض سے بیرونِ ملک بھیجا ہے۔ انھوں نے اسے تحریکِ انصاف کی بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ صرف 18 مہینوں میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو بیرونِ ملک نوکری ملی ہے۔ اسی طرح 5 اکتوبر 2021 کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیِر اطلاعات فواد چوہدری کا بھی کہنا تھا کہ ’تین سالوں میں بات ایک کروڑ نوکریوں سے بہت آگے جا چکی ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً ساڑھے 16 لاکھ لوگ نوکریوں کے لیے باہر گئے ہیں جبکہ اگلے دو سالوں میں پوری امید ہے 20 لاکھ لوگ بیرون ملک جائیں گے۔

جب اپوزیشن جماعتوں نے فواد چوہدری سے ملک کے پبلک سیکٹر میں پیدا ہونے والی ملازمتوں کا ڈیٹا مانگا تو انہوں نے روایتی انداز میں سنجیدگی دکھاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بہت سے لوگ کنفیوزڈ ہیں۔ جب ہم نوکریوں کی بات کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں ہم سرکاری نوکریاں دیں گے۔ اب ایک کروڑ سرکاری نوکریاں تو نہیں دی جا سکتیں، ایسے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں جہاں لوگوں کو نوکریاں ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کا روزگار معاشی ترقی سے جڑا ہوتا ہے اور اگر ایک طویل عرصے بعد ملکی معیشیت پانچ فیصد کی شرحِ نمو پر بڑھ رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں، بے روزگاری میں کمی آ رہی ہے اور غربت کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین اور انکے بڑبولے وزراء کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس ادارہ شماریات کی جانب سے شائع کیے گئے لیبر فورس سروے کے مطابق ملک میں سنہ 2017-18 کے دوران بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد تھی جو تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال یعنی 2018-19 میں بڑھ کر 6.9 فیصد پر جا پہنچی جبکہ ورلڈ بینک کی ویب سائٹ پر شائع انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 2017 میں بیروزگاری کی شرح 3.94 سے بڑھ کر 2018 میں 4.08، 2019 میں 3.94 اور 2020 میں 4.65 فیصد تک جا پہنچی۔

ان حالات میں سوشل میڈیا سے لے کر ٹاک شوز تک، اکثر لوگ یہی سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے قبل نوکریاں دینے اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے جو وعدے کیے گئے ان کا کیا بنا؟ کیا ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ محض ایک سیاسی نعرہ تھا؟ماہر معاشیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ محض ایک سیاسی نعرہ تھا۔‘ قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایک ہی سانس میں یہ کہہ تو دیا تھا کہ ہم ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بنائیں گے، لیکن ہم تب بھی یہ پوچھ رہے تھے کہ اس کا پلان کدھر یے جس میں بتایا گیا ہو کہ ان وعدوں کی تکمیل کے لیے وسائل کہاں کہاں سے آئیں گے۔

سگریٹ نوشی کی ویڈیو کے بعد علیزے کو کیا آفر ہوئی؟

ان کے مطابق ہمیں توقع نہیں تھی کہ ان وعدوں پر عمل ہو گا اور اب ایسا ہی ہوا ہے کیونکہ جب آپ نے ہوم ورک نہیں کیا تو اس پر عمل درآمد کیسے کریں گے۔ قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ روزگار کی امید دراصل ترقیاتی بجٹ سے ہوتی ہے مگر جب حکومت کا ترقیاتی بجٹ ہی صفر ہو جائے گا تو روزگار کی امید بھی نہیں رہے گی۔ انکے۔

طابق اس وقت ایسا کوئی اقدام نظر نہیں آتا جس سے بیروزگاری کی شرح کم ہو سکتی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ پچھلے 40 سال میں معیشت کے دو شعبوں زراعت اور صنعت پر توجہ نہیں دی گئی، کچھ ایسی پالیسیز بنائی گئی کہ کارخانے بند ہو گئے ہیں اور جو بھی خاندان پیسہ بنا رہے ہیں وہ سٹاک یا پراپرٹی مارکیٹ میں سٹے بازی سے بنا رہے ہیں۔۔۔ مگر اس سے روزگار پیدا نہیں ہوتا۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان سمجھتے ہیں کہ اس وقت عمران خان کو یہ نہیں پتا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ تب اگر میں بھی انھیں کوئی کیلکولیشن کر کے دیتا تو یہی بتاتا کہ معیشیت کی شرح نمو 7 سے 7.50 فیصد تک ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں معاشی صورت حال اس رفتار سے تبدیل نہیں ہوئی جس رفتار سے ہونا چاہیے تھی۔ وہ اس کا ذمہ دار آئی ایم ایف سے قرض لینے کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے نزدیک آئی ایم ایف کے پاس جانا بہت بڑی سٹریٹجک غلطی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے کہا تھا کہ ’اگر آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائیں گے تو ایک کروڑ نوکریوں کا جو وعدہ آپ نے قوم سے کیا ہے وہ پورا ہونا تو دور کی بات، جو ابھی نوکری پیشہ ہیں ان کی نوکریاں ہی بچ جائیں تو بڑی بات ہو گی۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام ملک کی معاشی رفتار سست کر دیتے ہیں اور اگر کسی حکومت کی معیشت کا پہیہ تیزی سے نہ گھومے تو ملک میں بیروزگاری، غربت اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ ہر سال پاکستان میں تقریباً دو ملین نوجوان جاب مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں اور ان سب کو نوکری دینے کے لیے ضروری ہے کہ معیشیت 7-8 فیصد سالانہ بڑھے۔ لیکن اگر 7-8 فیصد کے بجائے صرف 4 فیصد بڑھ رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سب کو نوکری نہیں مل رہی اور ملک میں بے روزگار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Back to top button