عمران ہو یا نواز شریف، عدلیہ ڈکٹیشن قبول نہیں کریگی

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ جنوری نہیں تو فروری یا مارچ میں الیکشن ہوتا نظر آرہا ہے مگر عمران خان الیکشن میں نظر نہیں آرہے۔ حامد میر کے مطابق نواز شریف واپس آئیں گے اور انہیں واپس آنا چاہئے، پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنما شاید سیاست میں رہیں لیکن پارلیمنٹ میں نظر نہیں آئیں گے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان ہوں یا نواز شریف عدلیہ کسی معاملہ میں ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی، اس کا عمران خان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ تھوڑا فائدہ ہوسکتا ہے لیکن طویل مدت میں کوئی بڑا فائدہ نظر نہیں آرہا۔
حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ فرخ حبیب سمیت دیگر عمران خان کے ناقدین کا مستقبل استحکام پاکستان پارٹی سے وابستہ ہے۔ فرخ حبیب اپنا سیاسی مستقبل روشن کرنے کیلئے ہی عمران خان پر الزامات لگارہے ہیں، جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ پیمرا نے کچھ دن پہلے فرخ حبیب، حماد اظہر، علی نواز اعوان سمیت 11افراد کے اشتہاری ہونے کی وجہ سے ان کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی تھی ، ان میں سے ایک اشتہاری فرخ حبیب نے پریس کانفرنس کرکے چارج شیٹ بیان کی تو اسھ فل کوریج دی گئی۔ حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ ان لوگوں پر مقدمات کی نوعیت بہت سنگین تھی، یہ انڈر گراؤنڈ تھے تو عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دے رہے تھے لیکن خود اپنی ریڈلائن کراس کرگئے۔ حامد میر کے بقول فرخ حبیب کے مقابلہ میں عثمان ڈار اور صداقت علی عباسی پر اتنے سنگین مقدمات نہیں ہیں۔
حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ فرخ حبیب استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے وہاں عمران خان پر سخت تنقید کرنے والوں کا ہی مستقبل ہے، فرخ حبیب اپنا سیاسی مستقبل روشن کرنے کیلئے عمران خان پر الزامات لگارہے ہیں، فرخ حبیب کے عمران خان پر لگائے الزامات میں کوئی نیا الزام نہیں ہے، فر خ حبیب پہلے دوسروں کو فصلی بٹیرا کہتے تھے اب خود بن گئے ہیں۔ حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں مزاحمتی سیاست کے مزید کچھ علمبردار جو عمران خان کو ریڈ لائن کہتے تھے وہ بھی اورنج لائن، بلیو لائن یا یلو لائن میں تبدیل ہونے والے ہیں۔
دوسری جانب میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے پارٹی چھوڑنے کا سلسلہ تیز ہوتا جارہا ہے، تحریک انصاف کے رہنما اچانک غائب کردیئے جاتے ہیں پھر اچانک میڈیا پر نمودار ہوجاتے ہیں اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں ہم خود کہیں چلے گئے تھے۔ عثمان ڈار اور صداقت علی عباسی کے بعد عمران خان کے دست راست سمجھے جانے والے فرخ حبیب ستائیس ستمبر کو گوادر سے لاپتہ ہونے کے بعد آج اچانک لاہور میں استحکام پاکستان پارٹی کے دفتر میں منظرعام پرآئے ، انہوں نے جہانگیر ترین کے ترجمان عون چوہدری کے برابر میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کی، پی ٹی آئی چھوڑنے والے تمام رہنماؤں کی طرح فرخ حبیب نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا، دیگر رہنماؤں کی طرح فرخ حبیب نے بھی عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا، مگر دیگر اہم پی ٹی آئی رہنماؤں کے برعکس فرخ حبیب نے عمران خان پر ایک لمبی چارج شیٹ جاری کی، ان کے کنڈکٹ پر سنگین سوالات اٹھائے، ان کیخلاف تمام کیسوں کو جواز فراہم کیا، ان پر جھوٹے بیانیے بنانے کا الزام عائد کیا، فرخ حبیب نے واضح کیا کہ انھیں کسی نے لاپتہ نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے منظرعام سے غائب ہوگئے تھے، فرخ حبیب نے نو مئی کے واقعات کو تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے عمران خان کو اس کا ذمہ دار قرار دیدیا، حالانکہ نو مئی کے واقعات کے کچھ دن بعد فرخ حبیب نے فوج کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو سازش کا رنگ دیا اور سوالات اٹھائے تھے کہ لوگ کینٹ میں کیسے داخل ہوگئے؟، لگائی جانے والی آگ کیوں نہیں بجھائی گئی؟، تنصیبات کو کیوں جلنے دیا گیا؟، قانون نافذ کرنے والے افسران کہاں تھے؟، فرخ حبیب نے منظرعام سے غائب ہونے سے ایک دن پہلے 26ستمبر کو سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جعلی بوگس مقدمات میں عمران خان کو جیل میں قید کیا گیا ہے جہاں پر فیئر ٹرائل فراہم نہیں کیا جارہا ہے، جیل میں ان کیمرہ ٹرائل انصاف کے قتل عام کے مترادف ہے ، سائفر مقدمہ کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے۔
شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ سائفر کیس میں عمران خان پر جلد فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے ،عمران خان پوری کوشش کررہے ہیں کہ اس کیس میں فرد جرم عائد ہونے سے بچ جائیں، عمران خان نے بطور وزیراعظم آئین کے 248کے تحت استثنیٰ بھی مانگ لیا ہے، اس پورے کیس کو ہی خارج کرنے، اس میں ضمانت لینے اور اس کی سماعت جیل میں ہونے کیخلاف عمران خان کی تین درخواستوں کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، سائفر کیس میں عمران خان کی جیل میں ٹرائل کرنے کیخلاف درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ سنادیا ہے، فیصلے کے مطابق جیل ٹرائل سیکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے، بظاہر جیل
اب ن لیگ اُمید سے ہے؟
ٹرائل کے معاملہ پر کوئی بدنیتی نظر نہیں آئی ہے، خود عمران خان اپنی سیکیورٹی پر متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔
