دہشت گردوں کی سرپرستی روکنے کا پاک بھارت معاہدہ ہونے کا امکان

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ماضی قریب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والی جہادی تنظیموں نے دوبارہ سے متحرک ہونے کی کئی کوششیں کیں لیکن پاکستان نے انہیں سختی سے ناکام بنا دیا۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سیز فائر کے بعد دونوں ملکوں میں دہشت گردی کی پشت پناہی سے رہا سہا ہاتھ بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ اگر پاک بھارت مذاکرات نے سنجیدہ شکل اختیار کی تو پاکستان مکمل ضمانت دے گا کہ وہ سرحد پار کسی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث نہیں ہوگا، اسی طرح  پاکستان چاہے گا کہ بھارت بھی یہ ضمانت دے کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی نہیں کرے گا اور پاکستان میں دہشت گردی کروانے سے باز آ جائے گا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنگل میں آئے روز جنگیں لڑائی جھگڑے اور مقابلے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ انسان جنگلوں کو چھوڑ کر شہروں میں آ بسا تا کہ جنگوں سے نجات مل جائے۔ لیکن جنگوں نے آج تک انسانوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ انسان امن اور تہذیب کا خوگر ہو کر بھی کہیں نہ کہیں جنگلی اور کہیں نہ کہیں جنگی ہے۔ ہند سندھ کے جنگلوں میں تو جنگیں آئے روز کا کام ہیں، یہاں امن بھی ہو تو در پردہ کبھی پانی، کبھی اسلحے اور کبھی طاقت کے توازن کی جنگ جاری رہتی ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ان سب جنگوں کے باوجود ہند اور سندھ کی جنگ کی پیاس نہیں بجھی، ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی کوشش میں مصروف سندھ اور ہند کے باسی خودکشی کی طرف مائل ہیں، ہر لمحہ جنگ کیلئے آمادہ رہنے والا یہ خطہ جدید دنیا کی نظر میں جنونیوں اور پاگلوں کا علاقہ کہلاتا ہے جہاں دنیا سے ہٹ کر متضاد رویے نظر آتے ہیں۔ جدید دنیا میں عقل اور دلائل سے مسائل حل کئے جاتے ہیں جبکہ ہند اور سندھ میں جنون، جوش اور لڑائی سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ ہند سندھ کے جنگلوں کی حالیہ جنگ میں وادی سندھ کے شیروں نے پورے خطے میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ ہندی اژدھا شکست کے زخم سہلاتے ہوئے اپنے حصے کے جنگل کے جانوروں کو یقین دلا رہا ہے کہ وہ ہارا نہیں بلکہ وہ اب بھی ببر شیر سے برسر پیکار ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ببر شیر کا پلہ بھاری ہے، ببر شیر کے جنگ باز ساتھی ہندی اژدھا کا سر مکمل طور پر کچلنے کیلئے اپنی صوتی لاٹھیاں لہرا رہے ہیں، اژدھے کو اپنے جنگل کے چھوٹے زہریلے اور انتہا پسند سانپوں کا بھی سامنا ہے اور لبرل سیکولر کانگریس کا بھی، لہذا ببر شیر نے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ زخمی اژدھے کا سر مکمل طور پر کچل کر ہند کے جنگل میں سیکولر اور لبرل کانگریس رہنما راہول گاندھی کو برسر اقتدار آنے دیا جائے۔ یوں ہند کا جنگل انتہا پسندی سے نکل کر اعتدال پسندی  کی طرف جائے گا۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ زخمی اژدھے کو مزید زخم لگانے کی بجائے فیس سیونگ دے کر بذریعہ مذاکرات نیا راستہ ڈھونڈا جائے۔ انکا کہنا یے کہ کانگریس کی مستقبل کی مضبوط حکومت کی نسبت آج کی بی جے پی کی کمزور حکومت مذاکرات کیلئے پاکستان کو زیادہ سوٹ کرتی ہے۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے پیشکش کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے فیصلہ ساز ان کے دیس میں مذاکرات کر لیں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ مزاکرات متحدہ عرب امارات میں یوں گے لیکن سعودی عرب بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کا ایجنڈا متوقع طور پر سندھ طاس معاہدے کی بحالی، دہشت گردی کی روک تھام اور شملہ معاہدہ کی بحالی پر مبنی ہو سکتا ہے۔ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ پاک بھارت سیز فائر کروانے میں اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مائیک روبیو نے سب سے زیادہ متحرک کردار ادا کیا۔ امن تجاویز کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ پہلے پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں تھا لیکن اب یہ رابطہ بحال ہو چکا ہے۔

 کیا پاکستان اور انڈیا تباہ کن ایٹمی جنگ سے بچے رہیں گے یا نہیں؟

سہیل وڑائچ کے بقول انٹرنیشنل چینلز نے تجویز کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مستقل بیک چینل ہونا چاہئے جسکے ذریعے کسی بھی مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

Back to top button