لاہور کے تھانوں میں خفیہ کیمروں کی تنصیب، اصل مقصد کیا ہے؟

لاہور کے تھانوں میں پولیس کے نظامِ کار کو زیادہ شفاف بنانے اور اہلکاروں کے رویوں پر مؤثر نظر رکھنے کے لیے خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت تھانوں کے اہم مقامات پر نصب کی جانے والی ڈیوائسز صرف ویڈیو ہی نہیں بلکہ آڈیو بھی ریکارڈ کریں گی، جس کے باعث پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان ہونے والی اہم گفتگو بھی ریکارڈ کا حصہ بن سکے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد تھانوں میں کرپشن، شہریوں سے بدسلوکی اور اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام کے ساتھ ساتھ پولیس کے مجموعی رویے کی مؤثر نگرانی کرنا ہے۔
حکام کے مطابق خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز ایس ایچ او کے دفتر، محرر کے کمرے، فرنٹ ڈیسک، تھانے کے صحن اور دیگر اہم مقامات پر نصب کی جائیں گی تاکہ تھانے کے ان حصوں کی نگرانی ممکن بنائی جا سکے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں شہری پولیس سے رابطہ کرتے ہیں۔ کسی شہری کی درخواست، شکایت، مقدمے کے اندراج یا دیگر پولیس کارروائی کے دوران اہلکار اور سائل کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی ریکارڈنگ کا حصہ بن سکتی ہے، جس سے بعد میں کسی شکایت یا تنازع کی صورت میں واقعات کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔
پولیس اسٹیشن عام شہری کے لیے انصاف کے حصول کا ابتدائی دروازہ ہوتا ہے، لیکن ماضی میں پولیس کے بعض اہلکاروں کے رویے، رشوت طلب کرنے، شہریوں کو غیر ضروری طور پر انتظار کروانے یا شکایات کے ازالے میں رکاوٹ ڈالنے جیسے معاملات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ریکارڈنگ کا یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو شہریوں اور پولیس اہلکاروں دونوں کے رویوں پر ایک مستقل نگرانی قائم ہو سکتی ہے۔ اہلکاروں کو بھی یہ احساس ہوگا کہ ان کے طرزِ عمل کا ریکارڈ موجود ہے، جبکہ شہریوں کو اپنی شکایات کے حوالے سے زیادہ تحفظ محسوس ہو سکتا ہے۔
اس نظام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ریکارڈنگ کو شہریوں کی شکایات کے ازالے اور پولیس کے احتساب کے عمل میں استعمال کیا جائے گا۔ اگر کسی شہری کی جانب سے پولیس اہلکار کے نامناسب رویے، بدسلوکی یا کسی غیر قانونی مطالبے کی شکایت سامنے آتی ہے تو متعلقہ ریکارڈنگ کی مدد سے معاملے کی حقیقت جانچنے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پولیس اہلکار بھی کسی شہری کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزام کی صورت میں ریکارڈنگ کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی صرف ڈیوائسز نصب کرنے سے نہیں بلکہ ریکارڈنگ کے محفوظ، شفاف اور ذمہ دارانہ استعمال سے جڑی ہوگی۔ ضروری ہوگا کہ ریکارڈ شدہ آڈیو اور ویڈیو تک رسائی کا واضح طریقہ کار موجود ہو، ریکارڈنگ کو غیر ضروری طور پر تبدیل یا حذف نہ کیا جا سکے اور شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے بھی مناسب ضابطے بنائے جائیں۔ نگرانی کا مقصد پولیس اور شہریوں کے درمیان اعتماد بڑھانا ہونا چاہیے، نہ کہ محض ہر گفتگو کو ریکارڈ کرنے تک محدود رہنا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تھانوں میں شفافیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ریکارڈنگ کے ساتھ ساتھ شکایات کے فوری ازالے، اہلکاروں کی جواب دہی اور مؤثر انتظامی کارروائی کا نظام بھی قائم کر دیا جائے تو یہ اقدام پولیس اسٹیشن کلچر میں نمایاں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ خفیہ ریکارڈنگ سے حاصل ہونے والے شواہد کو کس حد تک غیر جانبداری، قانون اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور کیا اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں عام شہری کو تھانے میں پہلے سے زیادہ عزت، سہولت اور انصاف مل پاتا ہے یا نہیں۔
