ریاست بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

بلوچستان میں جاری بدامنی، ریاست مخالف سرگرمیوں اور صوبے کے پیچیدہ سیاسی و سماجی مسائل کے تناظر میں سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک واضح اور دوٹوک پالیسی کا اظہار کیا ہے کہ آئین شکن اور ریاست مخالف مسلح عناصر کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے، تاہم عام بلوچ شہریوں، مختلف طبقات اور معاشرے کے دیگر حلقوں کے ساتھ رابطے اور مکالمے کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے گا۔ کوئٹہ میں ہونے والی اہم بریفنگز سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ سیاسی، انتظامی، معاشی اور سماجی پہلوؤں سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دو روز قبل اسلام آباد اور لاہور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں اور اینکرز کے لیے کوئٹہ میں خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جہاں سکیورٹی حکام اور صوبائی سیاسی قیادت نے الگ الگ نشستوں میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ان نشستوں میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں، صوبے میں امن و امان کی صورتحال، قبائلی نظام کی خامیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل سمیت مختلف اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ سکیورٹی حکام نے تین گھنٹے سے زائد عرصے تک صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکام بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں اپنا مؤقف تفصیل سے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ریاست مخالف مسلح عناصر اور عام بلوچ عوام کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی بڑی اکثریت محب وطن ہے اور صوبے کے عام شہری امن، ترقی اور ریاست کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں، جبکہ ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کو ریاستی ذمہ داری سمجھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکام نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نہیں اپنائی جائے گی جو آئین اور ریاست کے خلاف مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
تاہم اس سخت مؤقف کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی نمایاں کیا گیا، اور وہ عام لوگوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ اور مکالمہ ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 54 ہزار ملاقاتیں اور ڈائیلاگ سیشنز ہوئے، جبکہ رواں سال اب تک 34 ہزار کے قریب مکالماتی نشستیں ہو چکی ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکام بلوچستان میں عوامی سطح پر رابطے کو بھی صورتحال بہتر بنانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔
یہاں بلوچستان کے دیرینہ قبائلی اور سرداری نظام کا سوال بھی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ بریفنگ میں فرسودہ قبائلی نظام کی خرابیوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو صرف روایتی قبائلی طاقت کے مراکز کے ذریعے حل کرنے کے بجائے عام شہریوں، نوجوانوں اور مختلف سماجی طبقات کے ساتھ براہِ راست رابطہ بڑھانا ضروری ہے۔ اسی لیے یہ مؤقف سامنے آیا کہ ڈائیلاگ ایسے لوگوں سے ہونا چاہیے جو بلوچستان کے عام شہری ہیں، نہ کہ ان عناصر سے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔
یہ پالیسی بظاہر دو مختلف راستوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ ایک طرف ریاست مخالف مسلح سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی رابطے، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی شمولیت کے ذریعے عام بلوچ شہریوں کو ریاستی نظام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع اور پیچیدہ صوبے میں یہ توازن برقرار رکھنا کسی بھی حکومت اور ریاستی اداروں کے لیے آسان کام نہیں۔
اسی سلسلے میں بلوچستان کی سیاسی نمائندگی بڑھانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نمائندگی میں اضافے کی تجویز کا بنیادی مقصد صوبے کے عوام کی آواز کو وفاقی سطح پر مزید مؤثر بنانا قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن آبادی کے اعتبار سے دیگر صوبوں سے کم ہے۔ ایسے میں نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور فیصلہ سازی میں صوبے کے کردار کا سوال ہمیشہ سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی اس بحث کو ایک اور سمت دیتے ہوئے بہتر نظم و نسق اور اچھی طرز حکمرانی کے لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں بیٹھ کر پورے بلوچستان کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ بلوچستان کا رقبہ انتہائی وسیع ہے اور صوبے کے دور دراز علاقوں تک انتظامی ڈھانچے، سرکاری خدمات اور ریاستی اداروں کی مؤثر رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا تصور اگرچہ نیا نہیں، لیکن بلوچستان کے تناظر میں یہ بحث غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر بڑے جغرافیائی علاقے کو چھوٹے اور زیادہ قابلِ انتظام یونٹس میں تقسیم کیا جائے تو سرکاری اداروں، صحت، تعلیم، پولیس، عدلیہ، بلدیاتی نظام اور ترقیاتی منصوبوں تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس طرح کی کسی بھی تجویز کے لیے وسیع سیاسی اتفاق، آئینی تقاضوں اور مقامی عوام کی رضامندی کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔
بلوچستان کے مسئلے کا ایک بڑا پہلو ترقی اور محرومی کا احساس بھی ہے۔ سکیورٹی آپریشنز کسی بھی ریاست کے لیے ضروری ہو سکتے ہیں جب مسلح عناصر ریاست اور شہریوں کو نشانہ بنائیں، لیکن دیرپا امن صرف طاقت کے استعمال سے قائم نہیں رہتا۔ اس کے لیے روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، انصاف، سیاسی نمائندگی اور وسائل میں منصفانہ شراکت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر عام شہری کو ریاستی نظام میں اپنے مستقبل کے لیے جگہ اور امید نظر آئے تو ریاست مخالف بیانیے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں موجودہ حکمت عملی کا سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی اقدامات کتنی مؤثر انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔ اگر عام بلوچ کے مسائل حل ہوتے ہیں، نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم کے مواقع ملتے ہیں، دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات پہنچتی ہیں اور سیاسی نمائندگی مضبوط ہوتی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے پیچیدہ مسئلے کو صرف ایک ہی زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ صوبے میں ریاست مخالف مسلح سرگرمیاں ایک حقیقت ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات، انتظامی کمزوریاں، سیاسی محرومی، قبائلی طاقت کے ڈھانچے اور ترقیاتی عدم توازن جیسے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کرکے مکمل حل تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
کوئٹہ میں ہونے والی بریفنگز سے سامنے آنے والی تصویر یہی ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت ریاست مخالف مسلح عناصر کے خلاف سخت پالیسی پر متفق ہے، لیکن عام بلوچ آبادی کے ساتھ رابطے اور مکالمے کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ بلکہ حکام کی جانب سے ہزاروں ملاقاتوں اور ڈائیلاگ سیشنز کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ اگر یہ رابطہ حقیقی عوامی مسائل کے حل میں تبدیل ہوتا ہے تو یہ بلوچستان میں اعتماد سازی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
بالآخر بلوچستان میں پائیدار امن کا اصل امتحان یہی ہے کہ ریاست ایک طرف آئین اور قانون کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مؤثر انداز میں نمٹے اور دوسری طرف عام شہری کے لیے سیاسی، معاشی اور انتظامی انصاف کو یقینی بنائے۔ سخت سکیورٹی پالیسی اور عوامی رابطے کی پالیسی اگر ایک دوسرے کی ضد بننے کے بجائے ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بن جائیں تو بلوچستان کے دیرینہ مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت ممکن ہے۔
آج بلوچستان میں جو مؤقف سامنے آیا ہے، اس کا خلاصہ یہی بنتا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں، لیکن عام بلوچ شہری کے لیے مکالمے، ترقی اور سیاسی شمولیت کے دروازے کھلے ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اس پالیسی کو عملی طور پر کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے، کیونکہ بلوچستان میں امن صرف بندوق خاموش ہونے کا نام نہیں بلکہ عوام کے دل میں ریاست پر اعتماد پیدا ہونے کا نام بھی ہے۔
