وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں کیوں؟

پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف متوقع مارچ کی تیاریوں کے درمیان خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک ایسے آئینی امتحان کے سامنے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں جہاں ان کا ایک سیاسی فیصلہ ان کے لیے محض انتظامی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ان کے منصب کے مستقبل کا سوال بھی بن سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تازہ حکم نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی سرکاری عہدیدار کے اقدامات کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اسے آئین اور اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔ یہی پہلو سہیل آفریدی کے لیے اس عدالتی حکم کو غیر معمولی اہمیت کا حامل بنا دیتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی جانب جانے والے کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ سرکاری وسائل، عوامی فنڈز یا سرکاری اہلکار استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ مارچ کے شرکا کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری سامان استعمال نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی سرکاری ملازم کو اسلام آباد جانے والے سیاسی مارچ میں شرکت کے لیے مجبور، دباؤ میں، ترغیب دے کر یا کسی بھی دوسرے طریقے سے پابند کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

عدالت کے اس حکم کا سب سے حساس پہلو سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے دی جانے والی تنبیہ ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی شخص کی سرگرمی کے نتیجے میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو وہ آئین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار تصور کیا جا سکتا ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ایسا طرزِ عمل آئین اور عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔

اگرچہ عدالتی حکم میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والا وزیراعلیٰ خودکار طور پر اپنے عہدے سے محروم ہو جائے گا، تاہم آئین اور حلف کی خلاف ورزی سے متعلق عدالت کی واضح تنبیہ اس معاملے کو معمول کی سیاسی کشمکش سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ کسی سرکاری عہدیدار کے خلاف آئینی اور قانونی نتائج کی راہ کھل سکتی ہے اور یہی امکان سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

اصل امتحان اس وقت پیدا ہوگا جب پی ٹی آئی کا سیاسی مارچ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھے گا۔ سہیل آفریدی ایک طرف پی ٹی آئی کے سیاسی رہنما اور صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، جبکہ دوسری طرف ان پر آئین، قانون اور اپنے منصب کے حلف کی پاسداری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چنانچہ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی کارکن کی حیثیت سے پارٹی کی سرگرمیوں کے ساتھ کس حد تک کھڑے ہو سکتے ہیں اور وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سرکاری مشینری کو سیاسی سرگرمی کے استعمال سے کس طرح روک سکتے ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد کی جانب کسی بڑے سیاسی مارچ میں ہزاروں افراد کی شرکت کی صورت میں انتظامیہ، پولیس، ٹرانسپورٹ، سرکاری گاڑیوں اور دیگر وسائل کے استعمال کا سوال لازماً اٹھے گا۔ اگر صوبائی حکومت کے وسائل مارچ کو سہولت دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں یا سرکاری اہلکاروں کو سیاسی سرگرمی میں شریک ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو عدالت کے حکم کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین ایک بڑا قانونی اور آئینی معاملہ بن سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹرز جنرل پولیس کو بھی ہدایت کی ہے کہ ایسے طریقۂ کار وضع کیے جائیں جن کے ذریعے سرکاری اہلکار سیاسی رہنماؤں یا سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اسلام آباد مارچ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ یا ترغیب کی اطلاع دے سکیں۔ عدالت نے عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ صرف وزیراعلیٰ کی سیاسی ذمہ داری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ صوبائی انتظامیہ کے ہر متعلقہ افسر کے لیے بھی قانونی ذمہ داری کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال میں سہیل آفریدی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور وزیراعلیٰ کی آئینی ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔ اگر وہ پارٹی کے سیاسی مؤقف کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ صوبائی حکومت کے وسائل، سرکاری مشینری اور سرکاری اہلکار سیاسی مارچ کی سہولت کاری کے لیے استعمال نہ ہوں۔ دوسری جانب اگر حکومت اپنے وسائل کو مکمل طور پر سیاسی سرگرمی سے الگ رکھتی ہے تو یہ پارٹی کے اندر سیاسی طور پر بھی ایک حساس صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

یہاں یہ فرق بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنا اور سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کرنا دو الگ معاملات ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ سیاسی جماعت کا رکن یا رہنما ہو سکتا ہے، لیکن ریاستی وسائل ذاتی یا جماعتی سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت آئینی اور قانونی حدود سے مشروط ہوتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تازہ حکم اسی حد کو مزید واضح کرتا دکھائی دیتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کرے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس مارچ کے دوران ریاستی مشینری کا کردار کیا ہوگا اور خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل کو کس حد تک سیاسی سرگرمی سے الگ رکھتی ہے۔ اگر حکومت نے عدالتی احکامات پر سختی سے عمل کیا تو وزیراعلیٰ اپنی سیاسی وابستگی کے باوجود آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ لیکن اگر سرکاری وسائل یا اہلکاروں کے ذریعے مارچ کو سہولت فراہم کرنے کے شواہد سامنے آئے تو معاملہ سیاسی بیان بازی سے نکل کر قانونی اور آئینی کارروائی تک پہنچ سکتا ہے۔

یوں اسلام آباد مارچ سہیل آفریدی کے لیے محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بڑا آئینی امتحان بن چکا ہے۔ ان کے سامنے ایک طرف پارٹی کی سیاسی توقعات ہیں اور دوسری طرف وزیراعلیٰ کے منصب کا حلف اور عدالتی احکامات۔ آنے والے دنوں میں ان کا طرزِ عمل یہ طے کرے گا کہ وہ اس دوہرے دباؤ کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کے خلاف کیا قانونی و آئینی راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور آیا یہ معاملہ ان کی وزارتِ اعلیٰ کے مستقبل تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں سہیل آفریدی لازماً وزارتِ اعلیٰ سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ عدالتی حکم میں ایسی خودکار برطرفی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم عدالت کی جانب سے آئین، حلف اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو واضح طور پر سنجیدہ قانونی معاملہ قرار دیے جانے کے بعد یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی مارچ کے دوران کوئی بھی ایسا قدم انتہائی بھاری پڑ سکتا ہے جو صوبائی حکومت یا سرکاری مشینری کو اسلام آباد جانے والی سیاسی سرگرمی کی سہولت کاری سے جوڑ دے۔

اب گیند سہیل آفریدی کے کورٹ میں ہے: پارٹی کی سیاسی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آئینی حدود کی حفاظت کیسے کی جائے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

Back to top button