حکومت مخالف تحریک کیلئے اپوزیشن متحد، مشترکہ قائد کی تلاش شروع

پاکستان کی متحدہ حزب اختلاف نے حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں کو ایک منظم سمت دینے کے لیے ماضی کے بڑے اپوزیشن اتحادوں، خصوصاً ایم آر ڈی، کی طرز پر متفقہ قائد کے انتخاب کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک عبوری اتحاد تو قائم ہو چکا ہے، تاہم اب اسے باقاعدہ سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ ایجنڈے، احتجاجی سرگرمیوں، لانگ مارچ اور دیگر معاملات پر مشاورت جاری ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر اپوزیشن واقعی ایک وسیع حکومت مخالف تحریک کی طرف بڑھتی ہے تو اس اتحاد کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حکومت مخالف تحریکوں کے دوران مختلف اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتی رہی ہیں۔ ماضی میں ایسے اتحادوں کو ایک متفقہ قائد کی ضرورت محسوس ہوتی تھی جو مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکے اور مشترکہ فیصلوں کو آگے بڑھائے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم اس حوالے سے ایک نمایاں مثال رہے، جنہوں نے مختلف ادوار میں اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور ان کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں بھی اپوزیشن کے اندر اسی نوعیت کے ایک مشترکہ قائد کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق فی الحال اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تعاون موجود ہے، تاہم اتحاد کو مزید وسیع کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری ہیں۔ احتجاجی تحریک، جلسے جلوس، لانگ مارچ اور حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے جیسے معاملات میں مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ایک متفقہ قائد کا انتخاب اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ سے باہر ہونے والی کسی بڑی سیاسی سرگرمی کی نمائندگی ایک مشترکہ سیاسی چہرے کے ذریعے کی جا سکے۔
تاہم اپوزیشن کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف قائد کا انتخاب نہیں بلکہ مختلف جماعتوں کے سیاسی مفادات اور ترجیحات کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر لانا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی انداز، ترجیحات اور حکومت کے ساتھ تعلقات میں واضح فرق موجود ہے۔ اگر یہ جماعتیں واقعی ایک وسیع اتحاد تشکیل دینا چاہتی ہیں تو انہیں باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کم از کم چند بنیادی نکات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پہلے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے، جس کے بعد اپوزیشن کے آئندہ لائحہ عمل اور قیادت کے معاملات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق جے یو آئی اب بھی آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور مولانا فضل الرحمن اس حوالے سے پیشکش بھی کر چکے ہیں، تاہم سیاسی روایت کے مطابق ایسی کانفرنس عموماً اپوزیشن لیڈر کی جانب سے طلب کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں تاخیر ضرور ہوئی ہے اور معاملہ طویل ہو چکا ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں کے مکمل طور پر متحد ہونے کے بعد باقی معاملات بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
اے پی سی میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی موجود ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ کون سی جماعتیں حتمی طور پر اس فورم کا حصہ بنیں گی اور مشترکہ ایجنڈے پر کس حد تک اتفاق پیدا ہو سکے گا۔ جے یو آئی کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی کس کو مدعو کرتی ہے اور اتحاد کا دائرہ کتنا وسیع ہوتا ہے، اس کا فیصلہ وقت آنے پر ہی واضح ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے لیے اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ عبوری اتحاد صرف حکومت مخالف احتجاج تک محدود رہتا ہے یا واقعی ایک منظم اور دیرپا سیاسی اتحاد کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں متفقہ قائد، مشترکہ ایجنڈے اور احتجاجی حکمت عملی پر اتفاق کر لیتی ہیں تو آنے والے دنوں میں حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور سڑکوں پر ایک زیادہ منظم سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر قیادت، سیاسی ترجیحات اور احتجاجی طریقہ کار پر اختلافات برقرار رہے تو ماضی کی طرح یہ اتحاد بھی عارضی سیاسی مفاہمت سے آگے بڑھنا مشکل محسوس کر سکتا ہے۔
یوں موجودہ صورتحال میں آل پارٹیز کانفرنس اپوزیشن کے لیے محض ایک اجلاس نہیں بلکہ اس اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا اہم مرحلہ بن چکی ہے۔ یہی فورم طے کر سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں واقعی ایک مشترکہ سیاسی محاذ بنانے کے لیے تیار ہیں یا ان کا اتحاد صرف وقتی سیاسی ضرورت ہے۔ متفقہ قائد کا انتخاب، مشترکہ ایجنڈے کی تشکیل اور احتجاجی تحریک کے طریقہ کار پر اتفاق ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ موجودہ اپوزیشن اتحاد پاکستان کی سیاست میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرتا ہے یا ماضی کے کئی اتحادوں کی طرح اختلافات کی نذر ہو جاتا ہے۔
