حکومت کا مولانا سےبلیک میل ہونے کی بجائے نئے نسخے آ زمانے کا فیصلہ

حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کی کسی بھی بلیک میلنگ میں نہ آنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پلان بی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط نے جہاں شہباز حکومت کے لئے جے یو آئی کی حمایت کے بغیر اکثریت حاصل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے وہیں خط نے فضل الرحمٰن کی ویٹو پاور کو بھی کمزور کردیاہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ دو تین ہفتوں میں اسمبلی سے آئینی ترمیم منظور کروانے کیلئے کوشاں ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو آئندہ دو ہفتوں میں پارلیمنٹ کے اجلاس کی تیاری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئینی پیکج کے حوالے سے جلد نواز شریف کی مولانا سے لاہور میں ملاقات متوقع ہے جس میں کوئی بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے جبکہ حکومت نے مولانا کے عدم تعاون کے خدشے کے پیش نظر پلان بی پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت مخصوص نشتوں پر اسمبلی پہنچنے والے اراکین سے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئینی ترمیم منظور کروانی جائے گی۔ اسی پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق سردار ایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کے لئے مراسلہ لکھ کر مولانا فضل الرحمٰن کی ویٹو پاور کو کمزور کردیا ہے جوآئینی ترامیم کے ضمن میں انہیں حاصل تھی۔اس کے ساتھ ہی جوڈیشل پیکیج کی آئندہ دو ہفتوں میں منظوری کے امکانات بھی دوبارہ روشن ہوگئے ہیں اس سلسلے میں ’’حکومتی ماہرین‘‘ نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھادیا ہے جو مولانا فضل الرحمٰن کے جلو میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں ’’حکومتی ماہرین‘‘ نے اکتوبر کے تیسرے ہفتے کی تبدیلی کو غیر موثر بنانے اور عدم استحکام لانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی حکمت عملی کا ہر ترکش استعمال کرنے کا تہیہ کرلیا ہے پریکٹسزاینڈ پروسیجرز ایکٹ میں ترمیم سے واضح ہوگیا ہے کہ جنگ نہ صرف جاری رہے گی بلکہ عوام کی بھلائی کے لئے اس میں شدت آئے گی۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق  پارلیمنٹ سیکریٹریٹ سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں کسی بھی دن شارٹ نوٹس پر پارلیمانی ایوانوں کے اجلاس منعقد کرنے کے لئے تیار رہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ جوڈیشل پیکیج لانے کے حکومتی ارادے میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی اس میں پسپائی کا کوئی سوال پیدا ہوتاہے توقع ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف سے مولانا فضل الرحمٰن کی آئندہ ہفتے ملاقات ہوگی جس میں ان پر واضح کیا جائے گا کہ وہ اپنے قدرتی حلیفوں سے اپنے تعلق کو کمزور نہ کریں۔ ورنہ حکومت ان سے ہمیشہ کیلئے منہ موڑ لے گی اور پلان بی پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنائے گی

خیال رہے کہ مخصوص نشستوں کے حصول کے لئے حکومت کی باہمت کوششیں جاری ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجا کو خط لکھ کر ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ کے تحت مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔خط میں کہاگیاہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوسکتا‘ترمیمی ایکٹ کے تحت کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے والا آزاد رکن اب پارٹی تبدیل نہیں کرسکتا‘الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون پر عملدرآمد کرے۔اسپیکر قومی اسمبلی کے بعدا سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیاجس میں مطالبہ کیاگیاہے کہ پنجاب اسمبلی کی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے مخصوص نشستوں کا فیصلہ کیا جائےجبکہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کر لیا۔الیکشن کمیشن میں درخواست محسن ایوب اور آمنہ شیخ کی جانب سے دی گئی ہےجس میں موقف اپنایاگیا کہ قرار دیا جائے مخصوص سیٹوں کے لیے فہرست نہ دینے والی پارٹی مخصوص سیٹوں کی اہل نہیں۔

Back to top button