مجوزہ آئینی ترامیم کے پیکج میں اچھی اور بری 54 تجاویز کیا ہیں؟

اتحادی حکومت کے مجوزہ آئینی ترمیمی پیکج کا مکمل ڈرافٹ سامنے آنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس میں سب سے اہم ترمیم ایک آئینی عدالت کے قیام کی ہے اور یہ فیصلہ دراصل 2006 میں بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کے مابین چارٹر آف ڈیموکریسی میں لکھا گیا تھا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ کو سیاسی اور آئینی تنازعات سے متعلقہ کیسز کے بوجھ سے آزاد کرنا تھا تا کہ وہ مفاد عامہ کے کیسز سننے کا اپنا بنیادی فریضہ ادا کر سکے۔ اس ترمیم کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ حالیہ سالوں میں سپریم کورٹ بہت زیادہ سیاسی ہو گئی ہے جس کا بڑا ثبوت اس کے ہاتھوں دو وزرا اعظم کا نا اہل قرار دیا جانا ہے، حالانکہ وزیراعظم کو چننے اور اسے نکالنے کا اختیار صرف اور صرف اراکین پارلیمنٹ کا ہوتا ہے۔ مجوزہ آئینی بِل کے مسودے میں حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 54 تجاویز دی گئی ہیں جن پر مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں آئینی عدالت کا قیام ایک ایسی تجویز ہے جس پر تحریک انصاف کے سوا باقی ساری جماعتوں کا اتفاق ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال سے بڑھا کر 68 برس کرنے کی تجویز پر تحریک انصاف کے علاوہ مولانا کی جمعیت علمائے اسلام کو بھی سخت اعتراض ہے۔ مجوزہ بِل میں آئین کے آرٹیکل 63 اے میں بھی ترمیم کی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف کسی بھی قانون سازی یا بِل پر ووٹ دینے والے رُکن پارلیمان کا ووٹ گنتی میں شمار کیا جائے گا۔ آئینی ترمیمی بِل میں ہائی کورٹس سے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات واپس لینے اور ایک ہائی کورٹ کے جج کا دوسرے ہائی کورٹ میں تبادلے کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ بتایا جاتا یے کہ آئین کے آرٹیکل 8 میں بھی ایک ترمیم تجویز کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد فوجی عدالت میں سویلینز کے ٹرائل کی اجازت دینا تھا۔ تاہم بلاول بھٹو کی مخالفت کے بعد اسے مسودے میں سے نکال دیا گیا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئینی عدالت بنانے کا مقصد سائلین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے آئینی ترمیم میں ججوں کی عمر بارے جو بیان دیا ہے پارٹی اس موقف کی تائید کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ درست نہیں کہ پیپلز پارٹی اور حکومت کے مابین آئینی ترامیم کے پیکج پر اختلاف یے اور میڈیا میں غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کی پارٹی ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے پر اعتراض کر رہی ہے۔ درحقیقت حکومت نے آئینی ترمیم کے مسودے میں اس کو شیئر کیا تھا اور پیپلز پارٹی نے ابتدا میں ہی ججوں کی عمر کی حد سے متعلق چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا کہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان زیر بحث معاملہ ججوں کی عمر نہیں بلکہ آئینی عدالتوں کا معاملہ ہے۔ نوید قمر نے کہا پیپلز پارٹی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ججوں کی عمر کی حد بڑھانے کی بجائے ایک آئینی عدالت قائم کی جائے جس میں جج ایک خاص مدت کے لیے تعینات ہوں، نہ کہ عمر کی حد کے تحت۔
دوسری جانب حکمراں جماعت ن لیگ کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ’آئینی ترمیم کا فائنل مسودہ وہی ہو گا جس پر مسلم لیگ ن، پپپلز پارٹی، دیگر اتحادی جماعتیں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) اتفاق کریں گی کیونکہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے اور ایسا اتفاق رائے سے ہی ہو سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ درکار اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت نے ترامیم کے لیے جلد بازی سے کام کیوں لیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری اور بلاول صاحب کی انڈرسٹینڈنگ یہی تھی کہ مولانا فضل الرحمان قائل ہوگئے ہیں لیکن ان کے کچھ تحفظات سامنے آ گے جس کے بعد حکومت کو اتفاق رائے کے لیے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس منسوخ کرنا پڑے۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ائینی ترمیمی پیکج کے پیچھے کوئی مذموم ایجنڈا نہیں اور اس کا مقصد پاکستان اور پاکستانی اداروں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرف دور میں 2006 میں بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کے مابین لندن میں میثاقِ جمہوریت سائن ہوا تھا جس کے مطابق ایک آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ ہوا تھا جس پر اب عمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مجوزہ آئینی عدالت کے قیام پر تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام جماعتیں تیار ہیں اور اس حوالے سے جلد ہی کوئی بڑی خبر سامنے آ جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت چیف جسٹس کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار کو بدلنے کر وہی طریقہ کار اپنانا چاہتی ہے جس کے تحت آرمی چیف کا تقرر ہوتا ہے۔ یعنی چیف جسٹس کا تقرر بھی سینیئر موسٹ جج کی بجائے پانچ سینیئر ترین ججز میں سے ہو گا، جیسا کہ ارمی چیف کے تقرر کے وقت کیا جاتا ہے۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ جیسے ہی آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے ہو گا، وفاقی کابینہ کا اجلاس بلا کر اس کی منظوری لی جائے گی اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلا کر مجوزہ ترامیم کو پاس کروا لیا جائے گا۔
