عالمی ثالثی عدالت کابھارت کوسندھ طاس معاہدےکی پاسداری کاحکم

دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نےبھارت کو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے معاہدے کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنے اور ‘ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری اقدامات’ پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
پانی اور سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے متنازعہ مسئلہ رہا ہے۔گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کے بعد مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مختصر فوجی تصادم بھی پیش آیا تھا۔
بھارت کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے اپنے پانی کے حصے کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اعلان جنگ قرار دیا تھا۔
پاکستان نے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور بعد ازاں یہ مؤقف بھی اپنایا کہ نئی دہلی کا یہ عمل سنہ 1969 کے ‘ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے بیانیے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ پوری طرح نافذ العمل ہے اور بھارت کے پاس اس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں ان پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔
