اکاؤنٹ بحال ہونے کے باوجود ٹرمپ کا ٹوئیٹرپرجانے سے انکار

امریکہ کی ریپبلکن جماعت کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک کی جانب سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کے باوجود سابق امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر پر واپس جانے کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ کا استعمال جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ ٹوئیٹر نے عوامی رائے کی بنیاد پر صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایلون مسک نے ٹوئیٹر صارفین سے ووٹنگ کے ذریعے سوال پوچھا تھا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کیا جائے یا نہیں؟ پولنگ کے نتائج کے مطابق صارفین نے بہت کم اکثریت یعنی 51.8 فیصد سے ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کی حمایت کی جبکہ 48.2 فیصد صارفین نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن اپنا اکاؤنٹ بحال کئے جانے کے اعلان کے بعد امریکی شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میری ٹوئٹر پر واپسی کے لیے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں لیکن میں وہاں جانے کی کوئی وجہ نہیں دیکھتا۔‘

پنجاب میں پابندی لیکن سندھ میں جوائےلینڈ کا کھڑکی توڑ بزنس

یاد رہے کہ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ان کی جانب سے ایک بار پھر صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کے اعلان کے فوری بعد بحال کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے جنوری 2021 میں ریپبلکن حامیوں کی جانب سے کیپٹل ہل پر دھاوا بولنے میں ٹرمپ کے کردار کی وجہ سے ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ٹرمپ کے حامی 2020 کے صدارتی الیکشن کے نتائج کو مکمل طور پر تبدیل کروانا چاہتے تھے اور اسی غرض سے انہوں نے کیپٹل ہل پر حملہ کر دیا تھا۔ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کی بحالی بارے عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے ٹوئٹر پر 24 گھنٹے جاری رہنے والا سروے ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد مسک نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’لوگوں نے اپنی رائے ظاہر کر دی ہے۔ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کر دیا جائے گا۔‘ انہوں نے لاطینی زبان کی کہاوت دہرائی کہ ’زبان خلق، نقارہ خدا‘ حالانکہ سابق امریکی صدر بہت ہی کم مارجن سے اس سروے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ٹوئٹر استعمال کرنے والے 23 کروڑ 70 لاکھ صارفین میں سے ڈیڑھ کروڑ سے زائد نے اس سوال پر ووٹ دیا کہ ٹرمپ کا متنازع پروفائل بحال کرنا چاہئے یا نہیں۔ 51.8 فیصد صارفین نے اکاؤنٹ کی بحالی کے حق میں 48.2 نے اسکے خلاف ووٹ دیا۔ جب ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کیا گیا تھا تو ان کی فالوورز کی تعداد آٹھ کروڑ 80 لاکھ تھی۔ ٹرمپ صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے رائے کے اظہار کے لیے ٹوئٹر کو استعمال کرتے رہے۔ انہوں نے پالیسی اعلانات پوسٹ کیے۔ سیاسی حریفوں پر حملہ اور حامیوں کے ساتھ رابطہ کرتے رہے۔

لیکن خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ٹوئٹر پر واپس جانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سابق صدر نے ایک ویڈیو میں کہا کہ مجھے ٹوئیٹر پر واپسی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔‘ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا وہ ٹویٹر پر واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ کا استعمال جاری رکھیں گے۔ یہ ایپ انکے ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے تیار کی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پر ٹوئٹر کے مقابلے میں بہتر صارفین ہیں اور یہ پلیٹ فارم بہت اچھا جا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button