سی آئی اے نے القاعدہ چیف الظواہری کو کابل میں کیسے ڈھونڈا؟

دنیا کے مطلوب ترین دہشت گرد اور اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ چیف بننے والے ڈاکٹر ایمن الظواہری 21 برس تک امریکی سی آئی اے سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے لیکن بالآخر 31 جولائی 2022 کی صبح ایک امریکی ننجا ڈرون نے کابل میں انکی رہائش گاہ پر انکا کام تمام کر دیا۔ ظواہری کو تب نشانہ بنایا گیا جب وہ صبح 6 بجے اپنے گھر کی بالکونی میں ہوا خوری کے لیے کھڑے تھے۔ اس دوران بلیڈوں سے لیس ایک ننجا میزائل آکر ان کے جسم سے ٹکرایا اور انکا کھیل ختم کر دیا۔ یاد رہے کہ ظواہری کے پیشرو اسامہ بن لادن مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں مارے گئے تھے، ان کی ہلاکت نائن الیون کے اُن دہشت گردانہ حملوں کے ٹھیک 10 سال بعد ہوئی تھی جس کی منصوبہ بندی ان دونوں نے کی تھی اور اسے انجام تک پہنچایا تھا۔ اسامہ بن لادن کو القاعدہ کا چہرہ جبکہ ایمن الظواہری کو اس کا دماغ قرار دیا جاتا تھا، کیونکہ وہ اس گروپ کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کرتے تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ الظواہری اگست 2021 میں افغان دارالحکومت پر طالبان کے قبضے کے بعد کابل منتقل ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ افغان صوبے ہلمند میں مقیم تھے، امریکا کی جانب سے ان کی ہلاکت کے اعلان تک ایمن الظواہری کے بارے میں یہی افواہیں گردش کرتی تھی کہ وہ یا تو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہیں یا پھر افغانستان میں مقیم ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی برسوں سے امریکی سی آئی اے ایک ایسے نیٹ ورک کے بارے میں جانتی تھی جس نے ماضی میں الظواہری کو چھپنے میں مدد دی تھی جس کے بعد سے مسلسل اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر ڈرونز سے نظر رکھی جا رہی تھی۔ رواں سال سی آئی اے نے کھوج لگائی کہ ایمن الظواہری کا خاندان، ان کی اہلیہ، بیٹی اور بچے کابل میں ایک سیف ہاؤس میں منتقل ہو گئے ہیں۔ بعد میں حکام کو اسی مقام پر ایمن الظواہری کی موجودگی کا علم بھی ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد جب ایمن الظواہری خود بھی کابل میں اپنے بیوی بچوں کے پاس پہنچ گئے تو امریکی سی آئی اے کے جاسوس ڈرونز نے مسلسل ان کی نقل و حرکت کی نگرانی شروع کر دی۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ وہ اکثر صبح اپنے سیف ہاؤس کی بالکونی میں ہوا خوری کرتے ہیں چنانچہ ان کو وہیں پر نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 31 جولائی کی صبح انہیں اسی بالکنی میں تیز بلیڈز سے لیس ننجا میزائل کی مدد سے پار کر دیا گیا۔ اس حملے میں صرف ایمن الظواہری کی موت ہوئی۔

ہماری جمہوریت سیاستدانوں کی اگلی نسلوں کی وجہ سے زندہ ہے

یاد رہے کہ گذشتہ سال افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران صدر جو بائیڈن نے عہد کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ طالبان کی قیادت والی نئی حکومت کو افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان ریمارکس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے دہشتگردی کے خلاف دہائیوں پرانی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ تقریباً ایک سال بعد صدر بائیڈن کے سکیورٹی مشیروں نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انٹیلی جنس حکام نے القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کا افغانستان میں پتا لگایا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے پس پردہ بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ گذشتہ سال مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد الظواہری افغانستان واپس آ گئے تھے۔ امریکی انخلا کے بعد سے ہی امریکی جاسوس افغانستان پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔
الظواہری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ کابل کے مرکز میں بلند حفاظتی دیواروں والے ایک بڑے کمپاؤنڈ میں رہ رہے تھے۔ الظواہری نے جس علاقے کا انتخاب کیا وہ نسبتاً ایک اچھا علاقہ ہے۔ پچھلی انتظامیہ میں جو پورا علاقہ غیر ملکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کا گھر تھا، اب طالبان کے زیادہ تر اعلیٰ عہدیدار اس عالیشان علاقے میں رہتے ہیں۔

اپریل کے اوائل میں، سی آئی اے افسران نے پہلے بائیڈن کے مشیروں اور پھر صدر کو خصوصی بریفنگ میں بتایا کہ انھوں نے انٹیلی جنس کے ذریعے ایک ایسے نیٹ ورک کی نشاندہی کی ہے جو القاعدہ کے رہنما اور اس کے خاندان کی مدد کرتا ہے۔امریکی جاسوسوں نے آہستہ آہستہ گھر کے مکینوں کے رویے اور ان کی نقل و حرکت کی تفصیلات جمع کیں، جس میں ایک خاتون پر بھی نظر رکھی گئی جنھیں الظواہری کی بیوی کے طور پر شناخت کیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہ طریقے اختیار کر رکھے تھے جن سے کابل میں اس محفوظ رہائش گاہ تک کوئی بھی ان کے شوہر تک نہ پہنچ سکے۔ جاسوسوں نے غور کیا کہ اس گھر میں آنے کے بعد، الظواہری خود کبھی بھی احاطے سے باہر نہیں نکلے لیکن انھوں نے نوٹ کیا کہ وہ وقتاً فوقتاً بالکونی میں مختصر وقت کے لیے نمودار ہوتے تھے اور ہوا خوری کرتے تھے۔

لیکن بائیڈن کے لیے امریکہ کے انتہائی مطلوب لوگوں میں سے ایک کو مارنے کا موقع خطرے سے بھر پور تھا۔الظواہری ایک گنجان آباد محلے میں رہائش پذیر تھے اور افغانستان میں امریکی موجودگی کے آخری دنوں کے دوران کابل میں ایک ڈرون حملے میں غلطی سے سات بچوں سمیت 10 بے گناہ افراد کی موت کا واقعہ بھی صدر بائیڈن کے ذہن میں ہو گا۔ مئی اور جون کے دوران، امریکی صدر کی توجہ یوکرین کی جنگ پر مرکوز رہی لیکن خفیہ طور پر انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران کے ایک ’چھوٹے‘ گروپ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کرنی شروع کر دی تھی۔ صدر بائیڈن نے انٹیلی جنس افسران کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ اس حملے میں الظواہری کے خاندان کے افراد، طالبان اہلکاروں اور عام شہریوں کو نقصان نہ پہچانے کو یقینی بنائیں۔ یکم جولائی کو صدر بائیڈن نے کئی اعلیٰ حکام کو جمع کیا، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ایورل ہینس شامل تھے۔

مسٹر بائیڈن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بریفنگ میں پوری توجہ سے شامل ہوئے اور تمام تفصیلات کو غور سے سنا جب ان کے مشیر الظواہری کے گھر کے ایک بڑے ماڈل کے ارد گرد جمع ہوئے جسے انٹیلی جنس حکام تیار کر کے وائٹ ہائوس لائے تھے۔ایک سینئر مشیر نے کہا ’وہ خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے پر زور دے رہے تھے کہ آپریشن کے دوران پھونک پھونک کر قدم رکھے جائیں اور کسی بھی طرح کے خطرے کو کم سے کم رکھا جائے۔‘ بائیڈن نے کیمپ ڈیوڈ جانے سے پہلے عمارت کے ڈھانچے کے بارے میں معلومات طلب کیں اور جائزہ لیا گیا کہ حملے کا اس عمارت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

اگلے چند ہفتوں کے دوران، حکام نے وائٹ ہاؤس کے اہم کمرے میں ملاقات کی یہ وائٹ ہاؤس کے نیچے قائم کیا گیا ایک بنکر نما کمانڈ سینٹر ہے جہاں صدر اندرون اور بیرون ملک بحرانوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ حکام نے انتہائی محتاط انداز میں اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی اور صدر کی جانب سے پوچھے جانے والے کسی بھی ممکنہ سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ دریں اثنا، وکلا کی ایک چھوٹی ٹیم اس حملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئی اور بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’القاعدہ میں الظواہری کے قائدانہ کردار اور القاعدہ کے حملوں کے لیے ان کی آپریشنل حمایت‘ کی بنیاد پر ایک جائز ہدف تھا۔ 25 جولائی کو اپنی ٹیم کو ایک آخری بار بلانے اور اپنے اعلیٰ مشیروں سے ان کے خیالات پوچھنے کے بعد مسٹر بائیڈن نے اس حملے کی اجازت دے دی ۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق 31 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجکر 18 منٹ پر ایک ڈرون سے داغے گئے دو ہیل فائر میزائل الظواہری کے مکان کی بالکونی سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں القاعدہ کے سربراہ ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے دوسرے ارکان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ حملے کے بعد مکان کی کھڑکیاں اڑ گئیں مگر حیرت انگیز طور پر کوئی اور نقصان نظر نہیں آیا۔ اس حملے کم معروف ہیل فائر میزائل استعمال کیا گیا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا۔ اس میزائل میں بارود کی جگہ چھ بلیڈ لگے ہوتے ہیں جو نشانے پر پہنچتے وقت میزائل کے اطراف سے نکل آتے ہیں۔ یہ بلیڈ اپنے ٹارگٹ کو تو کاٹ کر رکھ دیتے ہیں مگر کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ یوں ظواہری کا کام تمام کر دیا گیا۔

لیکن یہ واضح نہیں کہ حملے کے بعد الظواہری کی لاش کہاں گئی۔ بائیڈن انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کے برعکس الظواہری کی باقیات حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ مئی 2011 میں امریکی سپیشل فورسز نے اسامہ کی لاش کو شناخت کی غرض سے لے جانے کے بعد اس غرض سے اسے سمندر میں دفن کرنے کا اعلان کیا تھا کہ کہیں ان کی قبر مسلمان شدت پسندوں کے لیے مزار نہ بن جائے۔ مگر علاقے کی صفائی کے بعد ممکن ہے کہ ان کی باقیات طالبان نے حاصل کر لی ہوں۔

Related Articles

Back to top button