کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف سعودی جنگ میں کودنے والا ہے؟

سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ انصار اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کو ایک پیچیدہ سفارتی اور دفاعی صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور دفاعی معاہدوں کی ذمہ داریاں ہیں، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ تعلقات، اپنی سرحدوں پر سکیورٹی چیلنجز اور کسی نئی جنگ میں الجھنے کے ممکنہ نتائج ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب کے دفاع کے لیے کیے گئے معاہدے پاکستان کو حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا پابند بناتے ہیں، یا اسلام آباد اپنی ذمہ داریوں کو دفاعی تعاون، فضائی تحفظ اور فوجی تیاری تک محدود رکھ سکتا ہے؟

5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سیاسی و دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور عسکری صلاحیتوں کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ اعلامیے میں رکن ممالک کی افواج اور دفاعی صلاحیتوں کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کا بھی ذکر کیا گیا۔ تاہم اس معاہدے کے تحت پاکستان کی عملی ذمہ داریوں اور ممکنہ فوجی کردار کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

پاکستانی حکام اس معاہدے کو قابلِ عمل قرار دے چکے ہیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی بھی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت نے حوثیوں اور عراقی گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ مختلف صلاحیتوں کے حامل پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود رہے ہیں اور مکہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے ساتھ ترکی کے سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلقات کا تسلسل ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق پاکستان کی ایک فوجی فورس رواں سال اپریل میں دوطرفہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچی تھی۔ اس فورس میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل تھے، جن کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون اور آپریشنل تیاری کو مضبوط بنانا بتایا گیا۔ تاہم ان دستوں کی موجودہ ذمہ داریوں اور حوثیوں کے خلاف کسی کارروائی میں ان کے ممکنہ کردار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک سینیئر عسکری ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں پاکستانی لڑاکا طیارے استعمال کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس خبر کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے تردید کی اور کہا کہ فوجی تعیناتی یا کارروائی سے متعلق معلومات ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام جاری کریں گے۔ اس لیے پاکستانی طیاروں کی حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی میں شمولیت کو فی الحال مصدقہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

برمنگھم یونیورسٹی سے وابستہ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر عمر کریم کے مطابق سعودی عرب کی سلامتی اور یمن میں جاری تنازع کے درمیان تعلق گہرا ہوچکا ہے، اس لیے پاکستان کی بالواسطہ شمولیت کا امکان موجود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو لاحق سکیورٹی خطرات کے باعث پاکستان کا کردار وقت کے ساتھ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم سابق سفیر ملیحہ لودھی اس معاملے میں مختلف مؤقف رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو کسی بھی فیصلے میں اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے اور یمن کے تنازع میں شمولیت کا فیصلہ پارلیمان میں بحث اور منظوری کے بعد ہونا چاہیے۔

پاکستان 2015ء میں پارلیمانی بحث کے بعد یمن کی جنگ میں براہِ راست شرکت سے گریز کرچکا ہے۔ اس وقت پارلیمان اور عوامی رائے میں بیرونِ ملک جاری تنازع کا حصہ بننے کے حوالے سے تحفظات نمایاں تھے۔ اب صورتِ حال میں تبدیلی اور نئے دفاعی معاہدوں کے باعث یہ سوال دوبارہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی پارلیمان فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ادا کرے گی؟ عمر کریم کے مطابق دوطرفہ اور سہ فریقی دفاعی معاہدوں سے قبل پارلیمان میں بحث نہ ہونے کے باعث مستقبل میں بھی اس معاملے پر پارلیمانی کردار محدود رہنے کا امکان ہے۔ یہ ان کا تجزیہ ہے، کوئی حتمی سرکاری فیصلہ نہیں۔

پاکستان کے لیے اس معاملے کا ایک اہم پہلو ایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کررہا ہے، اس لیے اگر پاکستان حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ عمر کریم کے مطابق اس سے پاکستان کی ثالثی کی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے، اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ پاکستان کے علاقائی سکیورٹی کردار کو نمایاں بھی کرسکتا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر سے وابستہ باربرا سلاون کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں یمن کا تنازع دوبارہ شدت اختیار کرچکا ہے اور سعودی عرب ایک بار پھر اس کشمکش میں الجھتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ یمنی دھڑوں کو واضح اشارہ دیا ہے کہ انہیں انٹیلی جنس معلومات اور بعض تکنیکی معاونت کے علاوہ اپنے وسائل پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ ایسی صورت میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور ترکی جیسے قریبی شراکت داروں سے تعاون کی توقع بڑھ سکتی ہے۔

تاہم سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پہلے ہی متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور ملک کے اندر عسکریت پسندی شامل ہیں۔ ان کے مطابق کسی دوسرے ملک کے تنازع میں شامل ہوکر ایک نیا محاذ کھولنا پاکستان کے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کی مالی معاونت اور قریبی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر پاکستان کو اپنے مفادات نظرانداز نہیں کرنے چاہییں۔

سابق سفارت کار منصور خان بھی بیرونِ ملک کسی تنازع میں براہِ راست فوجی مداخلت کے طویل مدتی نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان اور عراق کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ بیرونی جنگوں میں شامل ہونے والے ممالک کئی دہائیوں تک ان کے اثرات سے نکل نہیں پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی دفاعی منصوبہ بندی میں تعاون، فضائی دفاعی نظام اور میزائلوں کے خلاف دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی میں شامل ہونے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ ان کے نزدیک سفارت کاری اور مذاکرات زیادہ مناسب راستے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ فیصلہ محض سعودی عرب سے دوستی یا دفاعی معاہدے کی پاسداری کا معاملہ نہیں، بلکہ علاقائی استحکام، قومی سلامتی، پارلیمانی نگرانی اور خارجہ پالیسی کے توازن کا سوال بھی ہے۔ سعودی عرب کے دفاع میں تعاون اور یمن میں جاری جنگ کا براہِ راست حصہ بننا دو الگ نوعیت کے فیصلے ہیں۔ اس لیے کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام سے پہلے معاہدے کی حدود، قانونی ذمہ داریوں، خطرات اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کا واضح تعین ضروری ہوگا۔

فی الحال دستیاب معلومات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان حوثیوں کے خلاف جنگ میں براہِ راست شامل ہونے کا حتمی فیصلہ کرچکا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کی تصدیق اور لڑاکا طیاروں کے استعمال سے متعلق متضاد اطلاعات کے باوجود عملی کردار کی تفصیلات غیر واضح ہیں۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کی حکمت عملی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے دفاعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات، اپنی داخلی سلامتی اور کسی نئی علاقائی جنگ میں الجھنے کے خطرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔

Back to top button