ماہرہ اور سجل کی بھارتی کاکروچ پارٹی کی حمایت کی حقیقت کیا؟

پاکستانی اداکاراؤں ماہرہ خان اور سجل علی سے منسوب سوشل میڈیا پوسٹس نے پاک بھارت تعلقات اور بھارتی سیاست کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی، تاہم فیکٹ چیک میں ان پوسٹس کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔ وائرل تصاویر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دونوں اداکاراؤں نے بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے خلاف 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کی حمایت کی ہے، لیکن دستیاب شواہد کے مطابق نہ تو ان کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹس پر ایسی کوئی پوسٹ موجود ہے اور نہ ہی معتبر پاکستانی یا بھارتی ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 8 اکتوبر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد حامیوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ماہرہ خان اور سجل علی سے منسوب مبینہ انسٹاگرام پوسٹس شیئر کیں۔ ان پوسٹس کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی اداکارائیں بھارت میں ہونے والے احتجاج کی حمایت کررہی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس کے نتیجے میں بھارتی حکومت تبدیل ہوگی اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہوسکیں گے۔
ماہرہ خان سے منسوب مبینہ پوسٹ میں لکھا گیا تھا کہ وہ احتجاج کے منتظم ابھجیت دپکے اور دھرو راٹھی کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتی ہیں، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی اداکاروں کے داخلے پر پابندی کے باعث خود اس میں شرکت نہیں کرسکتیں۔ اس پوسٹ میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی تھی کہ احتجاج کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔
اسی طرح سجل علی سے منسوب ایک مبینہ انسٹاگرام اسٹوری میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت میں اقتدار کی تبدیلی سے نفرت کا دور ختم ہوگا اور نئی قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔ ان تصاویر کو مختلف سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے کے ساتھ پھیلایا کہ پاکستانی فنکار بھی بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کی حمایت کررہے ہیں۔
فیکٹ چیکنگ ادارے آئی ویریفائی پاکستان کے مطابق دونوں اداکاراؤں کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹس کا جائزہ لینے پر ایسی کوئی پوسٹ نہیں ملی۔ معتبر پاکستانی اور بھارتی ذرائع ابلاغ میں بھی ان مبینہ پوسٹس کی تصدیق کرنے والی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ مزید برآں، ماہرہ خان سے منسوب تصویر میں احتجاج کے منتظم کی انگلیوں کی ساخت غیر معمولی دکھائی دی، جسے مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل کی گئی تصویر کا ممکنہ اشارہ قرار دیا گیا۔
تصاویر کا تجزیہ کرنے کے لیے متعدد مصنوعی ذہانت کی شناخت کرنے والے ذرائع بھی استعمال کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرہ خان سے منسوب تصویر کو مختلف ٹولز نے 76 سے 99 فیصد تک مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل شدہ قرار دیا، جبکہ سجل علی سے منسوب تصویر کے تجزیے میں 95 فیصد تک تبدیلی کے اشارے سامنے آئے۔ یہ نتائج تصاویر کے جعلی ہونے کے دعوے کی تائید کرتے ہیں، تاہم ایسے ٹولز کے نتائج کو دیگر شواہد کے ساتھ دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ احتجاج کے منتظم ابھجیت دپکے ہیں، جبکہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار مستعفی ہوں اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات یقینی بنائے جائیں۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے دوران لاکھوں ووٹرز کے نام خارج کیے گئے، جس سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم بھارتی الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس معاملے میں بنیادی حقیقت یہ ہے کہ کسی معروف شخصیت کے نام اور تصویر کے ساتھ پوسٹ سامنے آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ شخصیت واقعی اس بیان یا سیاسی مؤقف کی حامی ہے۔ ماہرہ خان اور سجل علی سے منسوب پوسٹس کے معاملے میں فیکٹ چیکنگ رپورٹ نے سرکاری اکاؤنٹس پر عدم موجودگی، معتبر ذرائع سے تصدیق نہ ہونے اور تصاویر کے تکنیکی تجزیے کی بنیاد پر انہیں جعلی قرار دیا ہے۔ لہٰذا ان پوسٹس کو دونوں اداکاراؤں کا حقیقی بیان سمجھ کر آگے پھیلانا گمراہ کن ہوگا۔
