پاکستان کی جیلیں قیدیوں سے کیوں بھر گئیں؟گنجائش مکمل ختم

پاکستان کے نظامِ انصاف کو درپیش سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2026ء نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں گنجائش سے 160.6 فیصد زائد قیدی موجود ہیں، جبکہ مجموعی قیدیوں میں سے 75 فیصد سے زیادہ کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ یہ اعداد و شمار جیلوں میں غیر معمولی رش کے ساتھ ساتھ مقدمات میں تاخیر، ضمانت کے حصول میں مشکلات اور قانونی طریقہ کار کی پیچیدگیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت 1 لاکھ 10 ہزار 515 قیدی موجود ہیں، جبکہ جیلوں کی مجموعی گنجائش صرف 68 ہزار 832 افراد کی ہے۔ 2019ء کے مقابلے میں قیدیوں کی تعداد میں 50.1 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ صوبائی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہے، جہاں سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے 193 فیصد اور پنجاب کی جیلوں میں 176.5 فیصد زیادہ قیدی موجود ہیں۔ جیلوں میں اتنی بڑی تعداد میں افراد کی موجودگی قیدیوں کے لیے دستیاب جگہ، بنیادی سہولتوں اور بحالی کے انتظامات پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

رپورٹ کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 82 ہزار 988 قیدیوں کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، جو مجموعی قیدیوں کا 75 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔ زیرِ سماعت مقدمات والے قیدیوں کی تعداد ملک کی تمام جیلوں کی مجموعی گنجائش سے بھی 14 ہزار 156 زیادہ ہے۔ اس صورتِ حال میں ایسے افراد کی بڑی تعداد طویل عرصے تک جیلوں میں رہنے پر مجبور ہوسکتی ہے جن کے مقدمات کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ضمانت کے حصول میں مشکلات، عدالتی کارروائی میں تاخیر، ریمانڈ اور مسلسل حراست قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن نے منشیات سے متعلق مقدمات اور سخت قانونی دفعات کو بھی جیلوں میں بڑھتے ہوئے رش کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت 28 ہزار سے زائد افراد قید ہیں، جبکہ 2023ء کے بعد منشیات کے مقدمات میں قید افراد کی تعداد میں 43.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ قوانین کے اطلاق، ضمانت کے طریقہ کار اور مقدمات کے جلد فیصلوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے، تاکہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنے والے افراد غیر ضروری طور پر طویل حراست میں نہ رہیں۔

رپورٹ میں جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو محض عمارتوں اور گنجائش کی کمی کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے اسے نظامِ انصاف کی مجموعی کارکردگی سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے مطابق قانونی پیچیدگیاں، ضمانت کی محدود دستیابی، ریمانڈ اور مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ایسے عوامل ہیں جن پر توجہ دیے بغیر جیلوں میں رش کم کرنا مشکل ہوگا۔ اگر نئے قیدیوں کی آمد کا سلسلہ تیز رہے اور زیرِ سماعت مقدمات بروقت نمٹانے کے مؤثر انتظامات نہ ہوں تو صرف جیلوں کی گنجائش بڑھانا اس مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہوگا۔

انسانی حقوق کمیشن نے حکومتوں کو سفارش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر پیرول اور پروبیشن سے متعلق مؤثر قانون سازی کی جائے اور اہل قیدیوں کو ان سہولتوں تک رسائی دی جائے۔ رپورٹ میں موجودہ پیرول قوانین میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی تربیت، ذہنی بہتری اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے لیے بحالی مراکز قائم کرنے اور پیرول و پروبیشن کی فراہمی کے لیے جامع نظام تشکیل دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

پاکستان کی جیلوں میں بڑھتا ہوا رش اس بنیادی سوال کو سامنے لاتا ہے کہ کیا نظامِ انصاف مقدمات کا بروقت فیصلہ، ضمانت کے منصفانہ مواقع اور قیدیوں کی بحالی کے لیے مناسب انتظامات فراہم کررہا ہے؟ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف جیلوں کی عمارتیں وسیع کرنے میں نہیں، بلکہ عدالتی تاخیر کم کرنے، قانونی طریقہ کار بہتر بنانے، پیرول اور پروبیشن کے مؤثر استعمال اور قیدیوں کی بحالی پر توجہ دینے میں بھی پوشیدہ ہے۔ اصلاحات کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ قانون کی عمل داری برقرار رہے، معاشرے کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کسی شخص کو غیر ضروری تاخیر یا قانونی رکاوٹوں کے باعث طویل حراست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Back to top button