لانگ مارچ کے بعد سہیل آفریدی کا ٹھکنا یقینی کیوں؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سیاسی آزمائش بن سکتا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق اگر سہیل آفریدی کارکنوں کو بڑی تعداد میں جمع نہ کرسکے تو انہیں سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اگر کارکنوں کو لے کر آگے بڑھنے کے باوجود راستے میں روک دیا گیا یا تشدد کا سامنا کرنا پڑا تو انہیں واپس آنا ہوگا۔ ایسی صورت میں کارکن قیادت سے سوال کرسکتے ہیں کہ انہیں لانگ مارچ کے لیے نکالنے کے بعد تنہا کیوں چھوڑ دیا گیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ سہیل آفریدی کے لیے دونوں راستے مشکلات سے بھرپور ہیں۔ اگر وہ عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور سیاسی جدوجہد کرتے ہیں تو انہیں حکومتی دباؤ اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، لیکن اگر وہ کارکنوں کی توقعات پر پورا نہیں اترتے تو پارٹی کے اندر اور حامیوں میں ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

نجم سیٹھی نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر واپس آنے پر گنڈاپور کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور سہیل آفریدی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے دوران کارکنوں کی بڑی تعداد جمع کرنا ہی کافی نہیں ہوگا، بلکہ قیادت کو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ مشکل حالات میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔

تجزیہ کار نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ سہیل آفریدی موجودہ سیاسی صورت حال سے نکلنے کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی گرفتاری یا صوبائی حکومت کی برطرفی کی نوبت آجائے۔ ان کے خیال میں اس صورت میں سہیل آفریدی یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، لیکن وفاقی حکومت نے انہیں کام نہیں کرنے دیا۔ نجم سیٹھی نے اسے ممکنہ سیاسی شہادت کی حکمت عملی سے تعبیر کیا، تاہم یہ ان کا تجزیہ ہے، سہیل آفریدی کی جانب سے ایسی نیت یا منصوبے کا کوئی بیان اس رپورٹ میں شامل نہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی کشمکش سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی شاید ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ اور گرفتاریوں جیسی صورت حال چاہتے ہوں، تاکہ انہیں موجودہ مشکلات سے نکلنے کا سیاسی جواز مل سکے۔ تاہم اس امکان کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ دوسری جانب ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حامی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر سہیل آفریدی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عمران خان کی حمایت میں سیاسی جدوجہد، کارکنوں کی توقعات اور صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔ لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار صرف شرکا کی تعداد پر نہیں ہوگا، بلکہ قیادت کے فیصلوں، کارکنوں کے ساتھ اس کے طرزِ عمل اور حکومت کے ردعمل پر بھی ہوگا۔ نجم سیٹھی کی رائے میں یہ صورت حال سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہے، تاہم ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

Back to top button