گورنر راج یا ایمرجنسی؟KPمیں بڑھتی دہشتگردی کا اصل حل کیا؟

خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں صوبے میں آئینی ایمرجنسی کے نفاذ کی بحث ایک بار پھر اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے صرف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں یا وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کافی نہیں، بلکہ صوبے کے انتظامی، قانونی، معاشی اور سکیورٹی نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہوچکی ہیں۔ ذرائع نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کو ایک قابلِ عمل راستہ قرار دیا ہے، تاہم یہ مؤقف حکومتی فیصلے یا ایمرجنسی کے باقاعدہ اعلان کے مترادف نہیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدرِ مملکت اس صورت میں ہنگامی حالت کا اعلان کرسکتے ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا داخلی خلفشار کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے۔ اس آئینی اختیار کے ممکنہ استعمال پر بحث کے دوران بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ حالات میں ایمرجنسی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے ساتھ صوبے میں انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی یقینی بناسکے گی یا نہیں۔
ذمہ دار ذرائع کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائیاں قومی ایکشن پلان کا صرف ایک حصہ ہیں۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا، کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کا سدباب، انسدادِ دہشت گردی کے محکموں کو مضبوط بنانا، انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسیاں تشکیل دینا اور مدارس کی رجسٹریشن جیسے معاملات بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اسی طرح فوجداری نظام میں اصلاحات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ اور افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان معاملات میں سویلین انتظامیہ کی مؤثر کارکردگی کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی، آئینی اور قانونی سرپرستی بھی ضروری ہے، جبکہ صوبے میں ان ذمہ داریوں کی مؤثر ادائیگی نہ ہونے سے سکیورٹی مسائل پیچیدہ ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل جانچ کے لیے مختلف اداروں کی کارکردگی، دستیاب اعداد و شمار اور قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی تفصیلی صورتِ حال سامنے آنا ضروری ہے۔
رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر بھی تنقید کی گئی ہے اور ذرائع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی کی حکومت 13 برسوں کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکی۔ اس دعوے کی بنیاد پر صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، تاہم دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات کا تعین کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں، سرحدی صورتِ حال اور علاقائی عوامل کے کردار کا الگ الگ جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایمرجنسی کے نفاذ سے ان انتظامی اور قانونی کمزوریوں کو دور کیا جاسکتا ہے جنہیں دہشت گردی کے پھیلاؤ سے جوڑا جارہا ہے؟ ایمرجنسی ایک غیر معمولی آئینی اقدام ہے، اس لیے اس کے ممکنہ نفاذ کے قانونی جواز، دائرۂ اختیار، سیاسی اثرات اور شہری حقوق پر پڑنے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے ضروری ہوگا کہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ پولیس، انٹیلی جنس، عدالتی نظام، مالیاتی نگرانی اور مقامی انتظامیہ کو بھی فعال بنایا جائے۔
خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی کا معاملہ محض کسی ایک شخصیت یا حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں۔ اس کے لیے مربوط پالیسی، اداروں کے درمیان تعاون، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی اور عوام کا اعتماد بحال کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتا ہے جب اس کے ساتھ واضح اہداف، قانونی نگرانی، جواب دہی اور دیرپا امن کے لیے قابلِ پیمائش اقدامات بھی موجود ہوں۔
