لانگ مارچ، لکی ایرانی سرکس بنانے پر آفریدی یوتھیوں کے نشانے پر

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جاری ہے، تاہم اب اس کی حکمت عملی پر خود پارٹی کارکنان اور عام شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے تحریک چلائی جا رہی ہے تو صوبے کے مختلف اضلاع میں قافلے گھمانے، سڑکیں بند کرنے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر کرنے کے بجائے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑا جائے اور اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا جائے۔ یوں تحریک انصاف کے سامنے اب صرف احتجاج جاری رکھنے کا نہیں بلکہ اس کے مقام، حکمت عملی اور عوامی مشکلات کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ پشاور کے مختلف راستوں سے گزرا تو ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حیات آباد ٹول پلازہ سے روانگی کے بعد قافلے کی نقل و حرکت کے باعث رنگ روڈ پر گاڑیوں کا دباؤ بڑھا اور مختلف مقامات پر طویل قطاریں لگ گئیں۔ قافلہ قمر دین گڑھی پہنچا تو کوہاٹ روڈ پر بھی ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ بعد ازاں بھانہ ماڑی چوک اور پیر زکوڑی فلائی اوور کے اطراف شہری آمدورفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ راستوں کی بندش کے باعث معمولات زندگی متاثر ہونے کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں اور شہریوں کے روزمرہ کاموں میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سست رفتاری نے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق مارچ کے روٹ سے ملحقہ متعدد راستوں پر سکیورٹی سخت کی گئی اور ریڈ زون کی جانب جانے والے راستوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی۔ موبائل رابطوں میں دشواری اور انٹرنیٹ کیبل کی رفتار متاثر ہونے سے معمول کی آن لائن سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اندرون شہر کے بعض علاقوں میں موبائل سگنلز کی بندش اور انٹرنیٹ استعمال کرنے میں مشکلات برقرار رہیں۔ ایسے حالات میں شہریوں کی بنیادی ضرورتوں، کاروبار اور آمدورفت پر پڑنے والے اثرات احتجاجی حکمت عملی سے متعلق بحث کا اہم پہلو بن گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت 19 اکتوبر کو قافلے نے چارسدہ جانا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق وہاں کسی بڑے اجتماع کی نمایاں تیاریاں دکھائی نہیں دیں۔ مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ کارکنان گھروں تک محدود رہے، اسٹیج اور ساؤنڈ سسٹم بھی نظر نہیں آئے اور پارٹی رہنماؤں کے استقبال کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد باہر نہیں نکلی۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر یہ تاثر سامنے آیا کہ صوبے کے بعض علاقوں میں لانگ مارچ کے لیے عوامی جوش و خروش توقعات کے مطابق نہیں۔ تاہم کسی ایک مقام پر کم شرکت کو پورے صوبے کی رائے قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے سامنے آنے والا بنیادی سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنی احتجاجی سرگرمیوں کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔ پارٹی کارکنان اور شہریوں سے منسوب مطالبے کے مطابق اگر اصل مقصد عمران خان کی رہائی اور سیاسی مطالبات منوانا ہے تو اسلام آباد پہنچ کر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کی حکمت عملی زیادہ واضح ہدف فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس صوبے کے اندر مختلف اضلاع میں قافلے منتقل کرنے سے مقامی آبادی کو بار بار ٹریفک، کاروبار اور رابطوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم مارچ کی حکمت عملی میں تبدیلی کا حتمی فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کی ہے۔ اے این پی کے سیکریٹری خارجہ امور سردار حسین بابک نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں گزشتہ 13 برس سے بغیر مؤثر منصوبہ بندی کے حکومت کی جا رہی ہے اور صوبائی حکومت کے پاس نہ مؤثر ٹیم ہے، نہ ترقی کا واضح تصور اور نہ ہی واضح منشور۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام بدامنی، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور ناقص حکمرانی جیسے مسائل سے متاثر ہیں، جبکہ روزگار کے بہتر مواقع نہ ہونے کے باعث نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
سردار حسین بابک نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صوبے میں کارخانے بند ہو چکے ہیں اور تاجر و صنعت کار مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر زور دیا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے اپنے آئینی منصب کی ذمہ داریوں پر توجہ دیں، کیونکہ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوامی مسائل حل کرنا اور حکمرانی بہتر بنانا ہے۔ اے این پی رہنما کے مطابق صوبے کے عوام کو اپنے آئینی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ بیانات اے این پی کا سیاسی مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ معاشی اور انتظامی اعدادوشمار کا جائزہ ضروری ہوگا۔
مجموعی طور پر خیبر پختونخوا میں جاری لانگ مارچ کو دو طرح کے دباؤ کا سامنا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف کارکنان اور شہریوں سے منسوب مطالبات کے ذریعے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی انتظامی ذمہ داریوں اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول، کارکنان کی توقعات اور عام شہریوں کی مشکلات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔ احتجاج کا سیاسی اثر اپنی جگہ، لیکن اس کے طریقۂ کار اور عوامی زندگی پر پڑنے والے اثرات بھی اس بحث کا لازمی حصہ ہیں۔
