PTIمیں پھوٹ، تحریک انصاف میں اصل فیصلہ ساز کون؟

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ اب محض احتجاجی سرگرمی نہیں رہا بلکہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی، قیادت کے اختیارات اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات کا امتحان بھی بنتا جا رہا ہے۔ مارچ کے شیڈول میں تبدیلیوں، اگلی منزل کے بارے میں متضاد اعلانات اور مشاورت کے فقدان سے یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی حکمت عملی کا اصل مرکز کون ہے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر یا مرکزی قیادت؟ پارٹی کے اندر سامنے آنے والے تحفظات کے مطابق، جب اہم فیصلوں پر یکساں مؤقف دکھائی نہ دے تو کارکنوں کے لیے بھی یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ حتمی لائحہ عمل کیا ہے اور کس فیصلے پر عمل کرنا ہے۔
عمران خان کی قید کے بعد تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے اور فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ بحث بھی جاری ہے کہ صوبے میں حکومت اور تنظیم کے درمیان اختیارات کی تقسیم کس نوعیت کی ہے۔ علی امین گنڈاپور کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں صوبائی صدر جنید اکبر کا کردار نسبتاً محدود بتایا جاتا تھا اور اہم فیصلوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ ہاؤس کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کا تاثر تھا۔ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد جنید اکبر کی سرگرمیوں میں اضافے کو پارٹی کے اندر بدلتے ہوئے سیاسی تعلقات اور سابقہ اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، صوبائی صدر اور دیگر تنظیمی عہدیداروں کی موجودگی کے باوجود یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ عملی طور پر سیاسی سرگرمیوں کی سمت کون متعین کرتا ہے۔ لانگ مارچ کی منصوبہ بندی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی ساتھیوں سے منسوب کی گئی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق شیڈول میں بعض تبدیلیاں سیاسی کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئیں، جس پر جنید اکبر نے اعتراض کیا۔ خیبر ضلع میں قیام کے فیصلے پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے، کیونکہ یہ مقام مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔
اب اختلاف لانگ مارچ کی اگلی منزل اور قیام کی جگہ پر سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی صوابی کے بعد نوشہرہ اور خیرآباد کی جانب پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں، جبکہ جنید اکبر کا مؤقف ہے کہ قافلے کو صوابی میں قیام کرنا چاہیے۔ جنید اکبر کے قریبی حلقوں کے مطابق، پنجاب کی سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث صوابی وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے موزوں مقام ہو سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے حکومت کو مذاکرات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب سہیل آفریدی سے منسوب حکمت عملی یہ ہے کہ قافلے کو آگے بڑھا کر اسلام آباد پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور مارچ کو مزید وقت دیا جائے۔
یہ اختلاف بظاہر مارچ کے راستے اور قیام کی جگہ کا معاملہ ہے، لیکن اس کے پیچھے پارٹی کے اندر اختیار اور فیصلہ سازی کی تقسیم کا سوال بھی موجود ہے۔ اگر وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر کسی ایک حکمت عملی پر متفق نہیں تو کارکنوں کے لیے مختلف اعلانات کے درمیان درست سمت کا تعین مشکل ہو سکتا ہے۔ احتجاجی تحریک میں کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے واضح قیادت، بروقت رابطے اور فیصلوں میں تسلسل اہم ہوتے ہیں؛ ان امور میں ابہام تحریک کے انتظام اور سیاسی پیغام دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے صوبائی حلقوں میں گروپ بندی بھی اس صورت حال کا ایک اہم پہلو ہے۔ رپورٹ کے مطابق مردان میں عاطف خان، صوابی میں اسد قیصر، ہزارہ میں ایوب خاندان اور اسپیکر بابر سلیم سواتی سے وابستہ گروپس صوبائی سیاست میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان حلقوں کی کوشش ہے کہ صوبائی حکومت اور پارٹی کی فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی برقرار رہے۔ علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی فیصلوں کو محدود افراد تک رکھنے سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی تھیں، جبکہ سہیل آفریدی کے دور میں بعض ارکانِ اسمبلی کی جانب سے رابطوں کے فقدان کی شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، بعض ارکان کو یہ اعتراض بھی ہے کہ وزیراعلیٰ ان کی کالز کا جواب نہیں دیتے اور انہیں حکومتی و سیاسی معاملات میں مناسب طور پر شریک نہیں کیا جاتا۔ ان شکایات کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں، تاہم یہ پارٹی کے اندر رابطوں اور مشاورت کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو بیک وقت دو بڑے چیلنج درپیش دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف لانگ مارچ کو اس انداز میں آگے بڑھانا ہے کہ وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ برقرار رہے، جبکہ دوسری طرف اندرونی اختلافات اور مختلف گروپس کے تحفظات کے باوجود مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا ضروری ہے۔ پارٹی کے ایک صوبائی عہدیدار کے مطابق، تنظیمی اختلافات کے ہوتے ہوئے ان دونوں مقاصد کو بیک وقت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مارچ صوابی میں رکے گا یا نوشہرہ اور خیرآباد کی طرف بڑھے گا، بلکہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں حتمی فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے اور کیا مرکزی قیادت، صوبائی حکومت اور تنظیم ایک ہی لائحہ عمل پر متفق ہیں۔ جب تک فیصلوں کے اختیار، مشاورت اور ذمہ داریوں کے حوالے سے وضاحت نہیں آتی، لانگ مارچ کی ہر نئی تبدیلی قیادت کے درمیان اختلافات کی بحث کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔ تحریک کی سمت کا تعین بالآخر واضح فیصلوں، تنظیمی رابطوں اور ان فیصلوں پر مشترکہ عمل درآمد سے ہی ممکن ہوگا۔

2 Comments