کیا پیٹرول ایک بار پھر 400روپے لیٹر سے تجاوز کرنے والا ہے؟

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں نے رواں سال عوام کو مسلسل غیر یقینی صورت حال سے دوچار رکھا ہے۔ مارچ میں تقریباً 266 روپے فی لیٹر سے شروع ہونے والا سفر اپریل کے آغاز میں 458 روپے سے تجاوز کر گیا، پھر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ایک ہی روز میں 80 روپے کی کمی ہوئی۔ مئی میں قیمت دوبارہ 414 روپے سے اوپر چلی گئی، جولائی کے آغاز میں تقریباً 298 روپے تک آ گئی اور اکتوبر میں پھر 400 روپے کے قریب پہنچ گئی۔ یہ اتار چڑھاؤ اس اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا پاکستان میں پیٹرول کی قیمت پہلے بھی 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، اور اگر ایسا ہوا تو چند ماہ کے دوران قیمتوں میں اتنی بڑی تبدیلی کی وجوہات کیا تھیں؟
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، جی ہاں، رواں سال پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، بلکہ اپریل میں 458.41 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ مئی میں بھی قیمت 414.78 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد قیمتوں میں کمی آئی، لیکن اکتوبر کے آغاز میں نرخ دوبارہ 400 روپے کے قریب پہنچ گئے۔
سال 2026 کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت 253.17 روپے فی لیٹر تھی، جو فروری میں معمولی اضافے کے بعد 258.17 روپے ہو گئی۔ یکم مارچ کو قیمت 266.17 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، تاہم مارچ کے پہلے ہفتے میں 55 روپے اضافے کے بعد یہ 321.17 روپے تک پہنچ گئی۔ ماہ کے بیشتر حصے میں قیمت اسی سطح پر برقرار رہی۔ اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال نے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی بڑھائی، جس سے تیل کی ترسیل اور درآمدی اخراجات کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔
اپریل کے آغاز میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا۔ 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نرخ 321.17 روپے سے بڑھ کر 458.41 روپے ہو گئے۔ اس فیصلے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور حکومت نے اگلے روز پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کر دی۔ نتیجتاً 4 اپریل سے پیٹرول کی قیمت 378.41 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ تاہم اس کمی کے باوجود نرخ مارچ کے بیشتر حصے میں رائج قیمت سے خاصے زیادہ رہے۔
اپریل کے دوسرے ہفتے میں قیمت مزید کم ہو کر 366.58 روپے فی لیٹر ہوئی، لیکن مہینے کے آخری حصے میں دوبارہ اضافے کا رجحان سامنے آیا۔ 25 اپریل کو پیٹرول 393.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ مئی کے آغاز میں قیمت تقریباً 400 روپے رہی اور یکم مئی کو 399.86 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ 9 مئی کو مزید 14.92 روپے اضافے کے بعد قیمت 414.78 روپے ہو گئی۔ بعد ازاں نرخوں میں بتدریج کمی ہوئی اور 30 مئی کو پیٹرول 381.78 روپے فی لیٹر پر آ گیا۔
جون اور جولائی میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ جون کے پہلے ہفتے میں پیٹرول 377.78 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ 13 جون کو یہ 373.78 روپے ہو گیا۔ 20 جون کو 74.28 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کے بعد نرخ 299.50 روپے تک آ گئے۔ 27 جون کو قیمت اسی سطح پر برقرار رہی، جبکہ 4 جولائی کو مزید کمی کے بعد پیٹرول 297.53 روپے فی لیٹر ریکارڈ کیا گیا۔ یوں مئی میں 414.78 روپے کی سطح کے مقابلے میں جولائی کے آغاز تک قیمت میں 117 روپے سے زیادہ کمی ہو چکی تھی۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اس قدر اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مقامی نرخ صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کے مطابق طے نہیں ہوتے۔ خام تیل اور تیار شدہ پیٹرول الگ تجارتی مصنوعات ہیں، اس لیے تیار شدہ پیٹرول کے عالمی نرخ اور درآمدی پریمیئم بھی مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، مال برداری، بحری انشورنس، درآمدی راستوں میں رکاوٹیں، حکومتی محصولات اور پیٹرولیم لیوی بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اکتوبر میں پیٹرول کی قیمت ایک مرتبہ پھر 400 روپے کے قریب پہنچ گئی۔ فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق یکم اکتوبر کو پیٹرول 387.40 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ 9 اکتوبر کو قیمت 398.96 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ جولائی کے آغاز میں تقریباً 298 روپے سے اکتوبر میں تقریباً 400 روپے تک پہنچنے کا یہ سفر ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں میں وقتی کمی کے باوجود اضافے کا دباؤ برقرار رہا۔
پیٹرول کی قیمتوں کا درست تجزیہ کرنے کے لیے عالمی خام تیل کے نرخوں کے ساتھ تیار شدہ پیٹرول کی درآمدی قیمت، روپے کی قدر، قابل اطلاق محصولات اور حکومتی نوٹیفکیشنز کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ محض عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہونے سے یہ لازمی نہیں کہ پاکستان میں پیٹرول بھی اسی تناسب سے سستا ہو جائے۔
مجموعی طور پر رواں سال پیٹرول کی قیمت مارچ کے آغاز میں 266.17 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر اپریل میں 458.41 روپے تک پہنچ گئی، مئی میں دوبارہ 414.78 روپے رہی، جولائی کے آغاز میں تقریباً 298 روپے تک کم ہوئی اور اکتوبر میں پھر 400 روپے کے قریب آ گئی۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 400 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کی تاریخی بلند سطح اور بعد کی کمی نے ایندھن کی قیمتوں کو ملکی معیشت اور عام شہریوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔
