فرانس میں ملک گیر ہنگامے، 2 ہزار 400 سے زیادہ افراد گرفتار

فرانس میں مہنگائی اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف ملک گیر پرتشدد مظاہروں کے بعد حکام نے مختلف علاقوں میں رات کے کرفیو نافذ کردیے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 2400 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پیرس، مارسی اور لیون سمیت بڑے شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچا اور مہنگی دکانوں میں لوٹ مار کی گئی۔
ملک بھر میں جھڑپوں کے دوران تقریباً ایک ہزار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ مظاہروں کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر تنقید کے بعد فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے علاقائی حکام کو مخصوص علاقوں میں رات کے کرفیو نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔
حکومتی حکام نے فی الحال ملک بھر میں مکمل پابندیاں نافذ کرنے کا امکان مسترد کردیا ہے، تاہم تشدد جاری رہنے کی صورت میں ہنگامی اختیارات استعمال کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیر داخلہ لاراں نونیز کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے گروہوں سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی فوری طور پر بہتر بنائیں۔
دوسری جانب کاروباری تنظیموں کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تقریباً 3 ہزار دکانوں اور تجارتی مراکز کو نقصان پہنچایا گیا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔ فرانسیسی حکومت نے متاثرہ کاروباری افراد کے لیے ہنگامی مالی امداد اور عارضی طور پر ملازمین کو کام سے فارغ رکھنے کی سہولت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ادھر کئی یورپی ممالک نے فرانس کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے انہیں احتیاط برتنے اور بڑے عوامی اجتماعات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
