احتجاجی سیاست نے PTI کا دھڑن تختہ کیسے کیا؟

تحریک انصاف کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں کبھی اس کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جانے والی احتجاجی اور مزاحمتی حکمتِ عملی اب اس کے سیاسی زوال، داخلی اختلافات اور مستقبل کی غیر یقینی صورت حال کا سبب قرار دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی کے اندر یہ آوازیں بلند ہونے لگی ہیں کہ مسلسل محاذ آرائی کے بجائے عملی سیاست، مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے اور ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز اختیار کرتے ہوئے پیچھے ہٹا جائے تاکہ سیاسی سپیس حاصل کی جا سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس جماعت نے احتجاج کو اپنی سیاسی قوت، عوامی مقبولیت اور قیادت سے وفاداری کا سب سے بڑا پیمانہ بنا رکھا تھا، اسی حکمتِ عملی نے اسے ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اس کے رہنما اپنی سیاسی سمت، آئندہ کے لائحہ عمل اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ سینئر پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسف زئی کا یہ اعتراف کہ مزاحمتی سیاست نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا، تحریک انصاف کے موجودہ بحران کی نوعیت سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے، اپنے مطالبات منوانے اور حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کا مؤثر ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن جب اسے سیاست کا واحد راستہ بنا لیا جائے تو اس کے نتائج الٹ بھی ہو سکتے ہیں۔

تحریک انصاف نے اپنی سیاسی تاریخ میں احتجاجی تحریکوں، لانگ مارچوں اور مزاحمتی بیانیے کے ذریعے عوامی حمایت کو متحرک کیا، تاہم مسلسل تصادم اور مذاکراتی عمل کو ناکام بنانے کی پالیسی نے اسکے لیے سیاسی سپیس ختم کرنے کے ساتھ ساتھ قیادت اور کارکنوں کے درمیان توقعات کی ایسی خلیج پیدا کر دی جسے پُر کرنا اب مشکل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک سیاسی جماعت ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت ہر بحران کا جواب احتجاج اور مزاحمت سے دیتی رہی کیونکہ یہی عمران خان کی پالیسی تھی۔ ناقدین کے خیال میں اسی پالیسی کے نتیجے میں 9 مئی کا سانحہ بھی وقوع پذیر ہوا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو مکمل طور پر دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا۔

پارٹی کے سینیئر رہنما شیر افضل مروت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سیاسی حالات نے بارہا یہ تقاضا کیا کہ احتجاج کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ بھی کھلا رکھا جائے لیکن ایسا نہ کرنے کے باعث تحریک انصاف اپنی عوامی مقبولیت کو پائیدار سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام ہو گئی اور اج ایک سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔

سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق، تحریک انصاف کے موجودہ حالات کی ذمہ داری صرف حکومت یا مخالف سیاسی قوتوں پر ڈالنا جائز نہیں، بلکہ اسکی بنیادی ذمہ داری جماعت کی اپنی غیر دانشمندانہ حکمتِ عملی پر عائد ہوتی یے۔

یاد ر ہےکہ حالیہ لانگ مارچ سے پہلے شوکت یوسف زئی نے احتجاجی تحریک مؤخر کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن اس تجویز کے بعد انہیں معطل وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے سخت ردعمل اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس بنیادی مسئلے کی نشان دہی کرتا ہے کہ جب کسی سیاسی جماعت میں مذاکرات کی تجویز دینے والے رہنما کو کمزوری یا بے وفائی کے طعنے دیے جائیں تو وہاں مختلف آرا کی بنیاد پر بہتر حکمتِ عملی وضع کرنے کی گنجائش سکڑنے لگتی ہے۔ نتیجتاً جماعت حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کے بجائے اپنے ہی طے کردہ مزاحمتی بیانیے کی پابند ہو جاتی ہے۔

شوکت یوسف زئی نے اب واضح طور پر کہا ہے کہ مزاحمتی سیاست نے تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا ہے اور جماعت کو عملی سیاست کی طرف واپس آنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں، اس لیے محاذ آرائی کا تاثر ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجی اور پولیس اہلکاروں کو قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو مستقل تصادم کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف تحریک انصاف کے اس روایتی سیاسی بیانیے سے مختلف دکھائی دیتا ہے جس میں سخت مزاحمت کو سیاسی دباؤ بڑھانے کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے بحران کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان کی قید کے بعد جماعت کی فیصلہ سازی اور سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال بڑھ گئی ہے۔ گیارہ اکتوبر کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے واضح لائحہ عمل سامنے نہ آنے پر شوکت یوسف زئی نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، کارکن اس روز بھی آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کرتے رہے، لیکن جن رہنماؤں کو آئندہ کی حکمتِ عملی واضح کرنا تھی، وہ سامنے نہیں آئے۔ اس صورت حال نے کارکنوں میں بے یقینی کو بڑھایا ہے اور یہ سوال پیدا کیا ہے کہ اگر احتجاجی سیاست کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے تو اب جماعت کس راستے پر آگے بڑھے گی۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے قیادت کی غیر موجودگی یا فیصلہ سازی میں تاخیر مشکلات پیدا کر سکتی ہے، لیکن جب اس کی سیاست ایک مرکزی شخصیت اور مسلسل مزاحمت کے گرد گھومتی ہو تو متبادل حکمتِ عملی وضع کرنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے مزاحمت کو اپنی سیاست کی پہچان بناتے ہوئے کئی مواقع پر مذاکرات اور مفاہمت کی گنجائش کو محدود کر دیا۔ لانگ مارچ اور احتجاجی تحریکوں سے وابستہ بلند توقعات نے کارکنوں کے اندر فوری اور فیصلہ کن تبدیلی کی امید پیدا کی، لیکن جب ایسے اقدامات مطلوبہ سیاسی نتائج نہ دے سکے تو مایوسی اور بے یقینی میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس، جماعت کے بعض رہنما حالات کے مطابق حکمتِ عملی تبدیل کرنے اور سیاسی رابطوں کو بحال رکھنے کے حامی رہے، مگر انہیں جماعت کے اندر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی تضاد تحریک انصاف کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکل بن گیا ہے: ایک طرف کارکنوں کو مزاحمت جاری رکھنے کی توقعات سے باہر نکالنا آسان نہیں، دوسری طرف مسلسل محاذ آرائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور تنظیمی نقصانات کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔

خیبر پختونخوا میں اقتدار سے محرومی نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا مزاحمتی سیاست جماعت کو اس کے مقاصد کے قریب لے جا رہی تھی یا اس کے سیاسی امکانات محدود کر رہی تھی۔ تحریک انصاف کے سامنے اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک کو ایک واضح، قابلِ عمل اور مستقل سیاسی حکمتِ عملی میں کیسے تبدیل کرتی ہے۔

Back to top button