کے پی میں گورنر راج،ایمرجنسی کیلئےحکومتی بیانیہ بے بنیاد ہے،مولانافضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے لیے حکومتی بیانیہ بے بنیاد ہے، یہ سب صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کے لیے ہے۔

پارٹی کی مجلس شوریٰ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانافضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر صورتحال سے آگاہ کیا جائے، کے پی کے میں جو عبوری کونسل بن رہی ہے جے یو آئی کا کوئی رکن اس میں شامل نہیں ہوگا، اس وقت طاقتور قوتوں کے کہنے پر طاقت کا استعمال ہورہا ہے، صدر مملکت نے آئین کے تقاضے پورے نہیں کیے ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے اختلاف بھی کیا ہم اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اتفاق بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ہماری جماعت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے حکومتی پالیسیوں پر تحفظات ہوں تو الزام تراشیوں کے بجائے سیاسی انداز میں جواب دیا جانا چاہیے ہمیں یا کسی کو شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر بات کر لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں، گورنر راج کے لیے حکومتی بیانیہ بے بنیاد ہے کئی آپریشنز ہوئے مگر نتائج کیا ملے؟ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فاٹا کو صوبے میں شامل کیا، آج وہی مسلم لیگ (ن) سابق فاٹا کو مرکز میں دے چکی ہے ہماری نظر میں یہ سب صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کے لیے ہے، حکومت پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلائے، گورنر راج بلاجواز ہے کونسلز کی تشکیل میں جے یو آئی کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا، اقتدار ہٹانا بنانا طاقت کے بجائے آئین کے مطابق ہونا چاہیے، ذوالفقار علی بھٹو اور آصف علی زرداری نے گورنر راج لگائے کیا اس وقت اس کو مانا گیا؟ صدر نے اطمینان کے بغیر دستخط کرکے آئینی تقاضے کی نفی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایک طاقت قوم کے مفاد کی ترجمانی نہیں کرسکتی، آج ایشیا دوبارہ عالمی سطح کا معاشی حب بنتا جارہا ہے، ہمیں مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل بنانا چاہیے، اسلامی دنیا کا ایک بلاک ہونا چاہیے، اسلامی کانفرنس ایک غیر موثر بلاک ہے ایک موثر بلاک ہونا چاہیے، سعودیہ عرب پر حوثیوں کے حملے مسلم اتحاد کو روکنے کی کوشش ہیں۔

مولانا نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث ہم نے بھی ڈیڑھ سو سے زائد لاشیں اٹھائیں، ہم نے بندوق کی سیاست کی نفی کی، پرویز مشرف نے نیا نظام دیا اور وہ نظام ناکام ہوا، پولیس کو انتظامیہ سے لاتعلق کیا اور پھر اس کو واپس لینے کی باتیں ہوئیں، آج پھر 25سال بعد اسی نظام کو بحال کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

Back to top button