عمران کی سیاست کن دو عورتوں کی وجہ سے ڈوبی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی دو بڑی غلطیوں نے انکی جماعت اور سیاسی مستقبل تقریباً دفن کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کی پہلی غلطی بشریٰ بی بی کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا اور دوسری غلطی علیمہ خان کو سیاسی فیصلوں کا اختیار دینا تھا، لیکن سونے پر سہاگا یہ ہے کہ عمران نے ان غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اہم فیصلوں میں انہی شخصیات کے مشوروں کو ترجیح ملتی ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری نے تحریک انصاف کی موجودہ مشکلات کو عمران خان کی ضد پر مبنی غلط حکمت عملی اور مفاہمت کی بجائے مزاحمت اور محاذ آرائی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق جب اسٹیبلشمنٹ نے بشریٰ بی بی کو ضمانت پر رہا کیا تھا تو عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی مفاہمت کا ایک اہم موقع موجود تھا، لیکن انہوں نے علی امین گنڈاپور پر دباؤ ڈال کر نومبر 2925 کا لانگ مارچ شروع کرا دیا۔ جب لانگ مارچ سنگجانی پہنچا تو حکومت نے مذاکرات شروع کیے اور بیرسٹر گوہر کی محسن نقوی سے ملاقاتوں میں یہ طے پایا کہ مارچ وہیں رک جائے تو عمران کو جیل میں سہولتیں دینے اور بنی گالا منتقل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عمران خان کے ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ پر اتفاق کے باوجود یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

جاوید چوہدری کے مطابق یہ موقع ضائع ہونے کے بعد لانگ مارچ بلیو ایریا پہنچا اور پھر پولیس ایکشن کے نتیجے میں گنڈاپور اور بشری بی بی دونوں جوتیاں اٹھا کر پشاور کی جانب فرار ہو گئے۔ لانگ مارچ کی ناکامی نے تحریک انصاف کی سٹریٹ ہاور کو سخت نقصان پہنچایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ گنڈا پور کے بعد سہیل آفریدی کا لانگ مارچ بھی مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو گیا۔ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ بشریٰ نے دوبارہ گرفتاری کے بعد عمران خان کو یہ باور کرایا کہ لانگ مارچ کی ناکامی کی ذمہ داری علی امین گنڈاپور پر عائد ہوتی ہے اور ان کے وزیراعلیٰ رہنے تک رہائی ممکن نہیں ہوگی۔ چنانچہ گنڈاپور کو ہٹا کر آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے اور ان کا انتخاب بشریٰ بی بی کے مشورے اور مراد سعید کی تجویز پر کیا گیا۔ توقع تھی کہ نوجوان وزیر اعلیٰ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے اور عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے، لیکن ان کے پاس انتظامی تجربے کی کمی تھی اور غیر تجربہ کار کابینہ نے صوبائی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔

جاوید چوہدری نے علیمہ خان کے سیاسی کردار کو بھی تحریک انصاف کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوانے کے فیصلوں نے پارٹی میں اختلافات پیدا کیے۔ ان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا منصب اہم پارلیمانی حیثیت رکھتا ہے اور تحریک انصاف کے متعدد رہنما چاہتے تھے کہ یہ ذمہ داری پارٹی کے اپنے کسی اہل اور تجربہ کار رکن کو دی جائے۔ اس سلسلے میں علی محمد خان کو موزوں امیدوار سمجھا جا رہا تھا، جو عمران کے وفادار کارکن ہونے کے ساتھ پارلیمانی معاملات میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے۔

اسکے علاوہ تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کو محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے ماضی کے سیاسی کردار پر بھی اعتراض تھا، کیونکہ وہ انہیں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے بننے والے سیاسی اتحاد سے جوڑتے تھے۔  جاوید چوہدری کے مطابق غیر منتخب شخصیات کے مشوروں پر اہم سیاسی فیصلے کرنے کا نتیجہ پارٹی میں انتشار کی صورت میں نکلا۔ اسٹیبلشمنٹ، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سمیت اہم سیاسی حلقے ملک میں جاری محاذ آرائی ختم کرنے اور عمران خان کو سیاسی ریلیف دینے کے خواہش مند تھے، تاہم ان کی شرط تھی کہ عمران خان جیل سے باہر آکر پارلیمان کے اندر سیاست کریں اور سڑکوں پر تصادم کی حکمت عملی ترک کر دیں۔

ستمبر اور اکتوبر میں حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ تھی اور محسن نقوی کو بھی اس سلسلے میں اختیار دیا گیا تھا۔ حکومت عمران خان کی خراب صحت اور جیل میں کسی ممکنہ سنگین طبی پیچیدگی کے سیاسی نتائج سے بھی آگاہ تھی، لیکن وہ انہیں ہر قیمت پر رہا کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتی تھی۔ حکومت ملاقاتوں، طبی سہولتوں، جیل سے ہسپتال منتقلی، اہل خانہ اور کارکنوں کی رہائی اور مقدمات کی سماعت میں پیش رفت کے معاملے پر گنجائش دینے کے لیے تیار تھی۔ جاوید چوہدری کے مطابق مذاکرات میں تحریک انصاف سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کا ساتھ دے اور تحریک طالبان سمیت مسلح گروہوں کی حمایت سے گریز کرے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم حکومتی مطالبات ماننے کے قریب پہنچ گئی تھی، لیکن محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی نے عمران سے ملاقات کو کسی بھی معاہدے اور لانگ مارچ ختم کرنے کے اعلان سے پہلے لازمی قرار دے دیا۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ان غلط فیصلوں کے نتیجے میں تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں بھی اقتدار سے محروم ہوگئی اور اس کی سیاسی مشکلات کئی گنا بڑھ گئیں۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، ان کی بہنوں کی گرفتاریوں اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں نے جماعت کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جبکہ کور کمیٹی کے اجلاس کے لیے مناسب جگہ کے حصول اور سیاسی سرگرمیوں کو منظم رکھنے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ دوسری طرف محمود خان اچکزئی سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن ان کے انکار نے پارٹی کے اندر اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جاوید چوہدری کے نزدیک تحریک انصاف نے مسلسل محاذ آرائی اور غلط فیصلوں کے ذریعے اپنے سیاسی امکانات محدود کیے اور اب اسے اپنی حکمت عملی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی۔

 

Back to top button