کیا ایمرجنسی  معدنیات نکال کر بیچنے کے لیے لگائی گئی؟

وفاقی حکومت نے تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو قرار دیا ہے، لیکن اپوزیشن جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ اس فیصلے کا اصل مقصد صوبے کے معدنی وسائل نکال کر بیچنا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے معدنی ذخائر اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ صوبے میں معدنیات کے ٹھیکوں اور لائسنسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہوا۔ اس تنازع میں شمالی وزیرستان کا تانبے کی کان کنی کا منصوبہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جس میں فوج کے ملٹری انجینئرنگ ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یعنی ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی بھی شریک ہے۔

یہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب مولانا فضل الرحمان نے 16 اکتوبر کو ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں معدنی وسائل کی موجودگی کے باوجود وہاں گورنر راج کے بجائے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ان علاقوں کے معدنی ذخائر صوبے کی ملکیت بن گئے تھے اور ان وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے۔

ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں موجود معدنی وسائل کی نشاندہی کریں جنہیں اس فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اور صوبائی اسمبلی کو غیر فعال کر دیا تھا۔ حکومت نے اس اقدام کی وجہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور شدت پسندی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً حالت جنگ سے دوچار 12 اضلاع کے لیے خصوصی انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان علاقوں کے معدنی وسائل اور کان کنی کے ٹھیکوں پر بحث شروع ہو گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا کہ سات ہزار ارب روپے مالیت کے معدنی وسائل رکھنے والے ان اضلاع میں ایمرجنسی کے بعد کام شروع کر دیا گیا ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ایسی تفصیل سامنے نہیں آئی جس سے ثابت ہو کہ ایمرجنسی کے بعد کوئی نیا معدنی منصوبہ شروع کیا گیا یا ٹھیکوں کی تقسیم کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی نے اپنے دور حکومت میں معدنیات کے شعبے کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ لائسنسز کی تعداد میں اضافے سے صوبے کی آمدنی بڑھی۔ ان کے مطابق پہلے معدنیات سے صوبے کو تقریباً 70 کروڑ روپے سالانہ آمدنی ہوتی تھی، جو بڑھ کر 14 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لیز جاری کرنے، شکایات کے ازالے اور دیگر معاملات میں شفاف طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔ تاہم عارف احمدزئی نے یہ بھی کہا کہ بڑے پیمانے پر کان کنی کے چار لائسنس جاری کیے گئے تھے، جن میں سے صرف ایف ڈبلیو او سے متعلق منصوبہ فعال ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے دور میں محکمہ معدنیات کے حکام سے متعدد مرتبہ شکایت کی کہ منصوبے سے حاصل ہونے والی پیداوار کے مطابق صوبے کو رائلٹی ادا نہیں کی جا رہی، لیکن متعلقہ حکام نے بے بسی کا اظہار کیا۔

اس معاملے پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس جاری کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق 2020 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 762، فروری 2024 تک تین ہزار 962 اور اب چار ہزار 917 ہو چکی ہے۔ ان میں چار ہزار 133 لائسنس آباد اضلاع جبکہ 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کے ادوار میں معدنیات کے لائسنسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ انہوں نے ایف ڈبلیو او کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں صرف ایک لائسنس جاری کیا گیا تھا اور زیر غور پانچ سو سے زائد نئی درخواستوں میں سے کوئی بھی کسی عسکری ادارے کی جانب سے دائر نہیں کی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق معدنیات کے شعبے میں عسکری اداروں کا براہ راست کردار نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔

ادھر وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں جاری کیے گئے ہزاروں معدنی لائسنسز کی تحقیقات کی جائیں گی۔ تنازع کا مرکزی نکتہ شمالی وزیرستان کے محمد خیل علاقے میں تانبے کی کان کنی کا منصوبہ ہے، جسے ایم ایل 30 کاپر مائننگ پروجیکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا انتظام ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی ہے۔ ایف ڈبلیو او کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پاکستان میں تانبے کی کان کنی کے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے اور 2019 سے فعال ہے۔ منصوبے میں کھلی کان کے علاوہ روزانہ ایک ہزار 500 ٹن خام معدنی مواد کی پراسیسنگ کی صلاحیت رکھنے والا پلانٹ بھی شامل ہے۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی ایک دستاویز کے مطابق اس منصوبے کے لیے 15 جولائی 2016 کو پی ٹی آئی کے سورنحکومت میں 20 سالہ مائننگ لیز جاری کی گئی، جبکہ 5 اپریل 2017 کو تب کی فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کا معاہدہ کیا گیا۔ دستاویز میں منافع کی تقسیم کے لیے ایف ڈبلیو اے کے زیلی ادارے کا حصہ 50 فیصد، محکمہ معدنیات کی ترقی کا حصہ 10 فیصد، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے فنڈ کا حصہ 22 فیصد اور قومی کمیشن کا حصہ 18 فیصد درج ہے۔

محمد خیل کاپر منصوبے سے حاصل ہونے والی پیداوار اور سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی سوالات کی زد میں ہے۔ صوبائی اسمبلی کی دستاویز کے مطابق 2016 سے 2024 تک اس منصوبے سے 9 لاکھ 52 ہزار 878 میٹرک ٹن معدنی پیداوار حاصل ہوئی، جبکہ رائلٹی، کرایوں اور مشترکہ منصوبے کی مد میں مجموعی طور پر 189.803 ملین روپے وصول کیے گئے۔ دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے متعدد نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم ان کی مزید تفصیلات موجود نہیں۔

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مائنز اینڈ منرلز کے سابق رکن نثار باز خان کے مطابق قانون کے تحت صوبے کو پانچ فیصد رائلٹی ملنی چاہیے، جس کے حساب سے تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ ان کے دعوے کے مطابق محکمہ معدنیات کے ریکارڈ میں صرف 16.9 کروڑ روپے کی ادائیگی درج ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر شفاف آڈٹ اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم رائلٹی کے حساب کتاب اور واجب الادا رقم کے حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل تفصیلی وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔

Back to top button