پاک ایران بارڈر بند کیوں ہوا، نقصان کس کا اور فائدہ کس کا؟

معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ  پاک ایران گبد رمدان بارڈر کراسنگ Gabd Rimdan Border Crossing کی اچانک بندش نے گوادر میں جو اضطراب پیدا کیا ہے وہ حکمرانوں تک پہنچتا محسوس نہیں ہو رہا، انکا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے منفی اثرات پاکستان اور ایران کے تجارتی تعلقات، گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان کی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں جس کا فائدہ ہمارے دشمنوں کو ہو رہا ہے۔

حامد میر کے مطابق گوادر کو پاکستان میں شامل تو کر لیا گیا لیکن ابھی تک گوادر اور بلوچستان کی قسمت نہیں بدل سکی۔ انکے مطابق اسلام آباد کے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک مکران کے ساحل پر استحکام نہیں ہوگا، بلوچستان بھی مستحکم نہیں ہو پائے گا اور جب بلوچستان میں استحکام نہیں آئے گا تو پاکستان بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔

حامد میر نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گبد ریمدان سرحدی راہداری کی بندش کی خبر نے دونوں ملکوں میں تشویش پیدا کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ گبد پاکستانی بلوچستان جبکہ ریمدان ایرانی بلوچستان کا علاقہ ہے اور یہ تجارتی گزرگاہ گوادر بندرگاہ سے صرف 87 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان کے مطابق چند ماہ قبل ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تجارت متاثر ہوئی تو گوادر بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اسی دوران گبد ریمدان کے راستے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت نے بھی رفتار پکڑی اور ایرانی کمپنیوں اور تاجروں نے گوادر کے ذریعے اپنا سامان منگوانا شروع کردیا، جو وہاں سے صرف دو گھنٹے میں ایران پہنچ جاتا تھا۔ حامد میر کے مطابق گبد ریمدان راہداری پر آمدورفت میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ یہ راستہ تفتان زاہدان سرحد کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان نے اس راہداری کی بندش کی وجہ امن و امان کی خراب صورت حال اور سمگلنگ کو قرار دیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے محتاط انداز میں بتایا کہ کچھ تکنیکی وجوہات کے باعث سرحد کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تفتان زاہدان سرحد پر بھی ایسی ہی صورت حال ہے اور دونوں تجارتی راستوں پر ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستوں کی پہلے ہی بندش کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان بھی دو اہم گزرگاہیں بند ہونے سے علاقائی تجارت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کا سب سے زیادہ منفی اثر گوادر بندرگاہ پر پڑ سکتا ہے۔

حامد میر نے خبردار کیا کہ سرحدی راستوں کی بندش کے اثرات صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان میں مائع گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ ان دنوں یہ گیس ایران سے آرہی تھی۔ ان کے مطابق گوادر آبنائے ہرمز سے تقریباً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی تجارت اسی اہم سمندری گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے وقتی طور پر گوادر کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت بڑھا دی تھی، لیکن افسوس کہ پاکستانی حکومت اس اہمیت کو مستقل معاشی مواقع میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے متعدد ممالک کے لیے بھی تجارتی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اس کے گرد تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا پاکستان کے وسیع تر مفادات کا تقاضا ہے۔

 

حامد میر کے مطابق گوادر میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی غیر معمولی رہے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو نے یہاں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے آئل ریفائنری قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ سعودی کمپنی چاہتی تھی کہ چین بھی اس منصوبے میں شراکت دار بنے، تاہم چین کے ساتھ مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بعد یہ منصوبہ جمود کا شکار ہوگیا، جبکہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے اس کے مستقبل کے امکانات مزید محدود کردیے۔

حامد میر نے واضح کیا کہ گوادر کی ترقی کے لیے محض بندرگاہ تعمیر کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ سرمایہ کاری، علاقائی تجارت، محفوظ زمینی راستوں اور سیاسی استحکام کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ بصورت دیگر جغرافیائی اہمیت کے باوجود بلوچستان اپنے معاشی امکانات سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی اور سی پیک کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر بندرگاہ کی ترقی کا کام شروع ہونے کے بعد سے بلوچستان میں دہشت گردی بڑھی ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال کے پیچھے صرف ایک دشمن ملک نہیں بلکہ بعض دوست ممالک کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے اور ساحلی علاقے کی اہمیت بڑھانے کے لیے کچھ عرصہ قبل امریکا کو پسنی بندرگاہ کی ترقی کی پیشکش بھی کی تھی۔ پسنی گوادر سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ بلوچستان کے مکران ساحل پر جیوانی، ارماڑہ اور سنمیانی جیسی دوسری ساحلی بندرگاہیں بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے پاس طویل ساحل اور قدرتی وسائل دونوں ہیں، لیکن ناقص طرز حکمرانی کے باعث صوبے کے حالات میں وہ بہتری نہیں آسکی جس کی توقع کی جاتی تھی۔حامد میر نے گوادر کی تاریخ بیان کرتے ہوئے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور کا ایک واقعہ بھی یاد کیا، جب ڈاکٹر شیریں مزاری انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کی سربراہ تھیں۔ ان کے بقول اس وقت مشرف نے وہاں بتایا تھا کہ وہ گوادر کے نیلے پانی چین کے حوالے کررہے ہیں، اب چین جانے اور بھارت جانے۔ حامد میر کے مطابق سابق وزیر خارجہ آغا شاہی اس بات سے خوش نہیں ہوئے اور انہوں نے انہیں متنبہ کیا کہ چین پاکستان کا دوست ضرور ہے، لیکن کسی مؤثر حکمت عملی کے بغیر گوادر بندرگاہ اس کے حوالے کرنے سے بلوچستان عالمی سازشوں کا مرکز بن سکتا ہے۔

حامد میر نے اس واقعے کی روشنی میں کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمران اپنے صوبوں اور اہم جغرافیائی علاقوں کی تاریخ سے واقفیت نہیں رکھتے۔ تاریخ اور جغرافیے کا گہرا تعلق ہے اور اگر تاریخ سے سبق نہ سیکھا جائے تو جغرافیہ بھی بدل سکتا ہے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ گوادر 8 ستمبر 1958ء کو پاکستان میں شامل ہوا تھا، جب پاکستان نے سلطنتِ عمان سے اسے 30 لاکھ برطانوی پاؤنڈ کے عوض حاصل کیا۔ ان کے مطابق گوادر کی پاکستان میں شمولیت کے بعد ساحل مکران پر واقع دوسرے اہم علاقوں پر بھی پاکستان کا کنٹرول مستحکم ہوا۔ لیکن گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے باوجود اس خطے کے عوام کی قسمت بدلنے کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا ہے کہ گبد ریمدان راہداری کی بندش نے گوادر کے تاجروں اور کاروباری حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے، مگر اسلام آباد کے حکمران شاید اس کے دور رس اثرات کا اندازہ نہیں کر رہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مکران کے ساحل پر استحکام کے بغیر بلوچستان میں پائیدار امن اور ترقی ممکن نہیں، اور بلوچستان کو مستحکم کیے بغیر پاکستان کی معاشی اور قومی ترقی کا خواب بھی پورا نہیں ہوسکتا۔

Back to top button