خبردار! موبائل سمز سے بینک اکاؤنٹس خالی ہونے لگے

پاکستان میں موبائل سمز کے ذریعے بینک اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرکے بھاری رقوم کی منتقلی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ڈیجیٹل بینکاری کے نظام کی ساکھ مشکوک کر دی ہے۔ ڈپلیکیٹ سم جاری کروا کر آن لائن بینکاری فعال کرنے، شناختی معلومات کے غلط استعمال کے ذریعے کروڑوں روپے نکلوانے کی وارداتوں سے اب عوام آدمی کے علاوہ اہم اور باثر شخصیات بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ ان واقعات میں بینک اہلکاروں کی معاونت اور صارفین کے حساس کوائف تک غیر مجاز رسائی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، ایسے میں سوال یہ ہے کہ جعل سازوں کو روکنے کے لیے وضع کردہ حفاظتی انتظامات کیوں اور کیسے ناکام ہو رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی کو 12 جنوری کو تب ایسے ہی ایک بینکاری فراڈ کا سامنا کرنا پڑا جب اسلام آباد پہنچنے پر ان کا موبائل نمبر اچانک بند ہوگیا۔ موبائل کمپنی کے مرکز سے معلوم ہوا کہ ان کے نمبر پر کراچی کے علاقے ملیر میں ان کی اجازت کے بغیر ڈپلیکیٹ سم جاری کی گئی تھی۔ جعل ساز نے اس نمبر کے ذریعے پہلے ان کا آن لائن بینکنگ سسٹم فعال کیا، پھر رقم نکلوانے کی حد بڑھائی اور ان کے اکاؤنٹ سے 15 لاکھ روپے ایک اور اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے۔ یہ رقم سکینہ بی بی کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹ میں بھیجی گئی، ایک اور رکن قومی اسمبلی کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے اور ان کے اکاؤنٹ سے 20 لاکھ روپے نکلوا لیے گئے۔ اسی طرح ایک تاجر کے اکاؤنٹ سے 85 لاکھ روپے نکلوانے کا واقعہ بھی رونما ہوا ہے۔

اس نوعیت کے فراڈ میں جعل ساز پہلے کسی شہری کے موبائل نمبر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈپلیکیٹ سم جاری کرواتے ہیں یا دوسرے ذرائع سے اس کی شناختی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد نمبر کے ذریعے بینک کی آن لائن سروس فعال کرنے، تصدیقی کوڈ حاصل کرنے یا اکاؤنٹ کی حفاظتی ترتیبات میں تبدیلی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ بعض وارداتوں میں جعلی کالز اور پیغامات کے ذریعے صارفین سے پاس ورڈ اور دیگر حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ خطرے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ متاثرہ شخص کو ابتدا میں صرف موبائل سروس بند ہونے کا احساس ہوتا ہے، جبکہ اسی دوران اس کے اکاؤنٹ سے رقم منتقل کی جا سکتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ایم این اے فرحان چشتی کے کیس میں سم فروخت کرنے والے مرکز کے مالک نے بتایا کہ ایک شخص اپنی والدہ کے نام پر ڈپلیکیٹ سم لینے آیا تھا اور بائیومیٹرک تصدیق کے لیے آلہ گاڑی تک لے جانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم رکن قومی اسمبلی کے بائیو میٹرک کوائف تک رسائی کیسے حاصل ہوئی، یہ سوال تاحال وضاحت طلب ہے۔

اس معاملے کا ایک اور تشویش ناک پہلو بینکوں کے اندر صارفین کی معلومات تک غیر مجاز رسائی اور ممکنہ اندرونی معاونت ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں ایک بینک افسر کی جانب سے 30 اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی اور تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کے فراڈ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر تحقیقات میں ثابت ہو کہ کسی اہلکار نے صارفین کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر فراہم کیا یا رقوم کی منتقلی میں معاونت کی تو یہ داخلی نگرانی اور معلومات کے تحفظ میں بڑی ناکامی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مشکوک اکاؤنٹس تک رسائی کی تفصیلات، ملازمین کی سرگرمیوں اور مالی لین دین کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف کارروائیوں کے باوجود اس نوعیت کی وارداتیں ایک مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ مؤثر روک تھام کے لیے صرف جعل سازوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ سموں کے اجرا، شناختی تصدیق اور بینکاری نظام کے حفاظتی انتظامات کا باہمی جائزہ بھی ضروری ہے۔ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے صارفین کو چاہیے کہ اپنی سم اچانک بند ہونے پر فوری طور پر موبائل کمپنی سے رابطہ کریں اور غیر مجاز تبدیلی کا شبہ ہونے پر بینک کی تصدیق شدہ ہیلپ لائن کے ذریعے آن لائن بینکاری اور متعلقہ کارڈز عارضی طور پر بلاک کروائیں، اس خلکے علاوہ متاثرہ افراد سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ تاہم بنیادی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ صارفین کی شناخت اور مالی معلومات کو محفوظ رکھیں، مشکوک سرگرمیوں پر فوری کارروائی کریں اور ثابت شدہ غفلت یا معاونت کے مرتکب افراد کو جواب دہ بنائیں۔

 

 

Back to top button