کیا حکومت اور PTI کے مذاکرات بحال ہونے کا امکان ہے؟

اس وقت سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا لانگ مارچ کی ناکامی اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے گا یا نہیں؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر فوری طور پر اس کا امکان دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ ایک طرف تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد خود ہی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد فوری مذاکرات کی بحالی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتی۔
ایسے میں سیاسی ڈیڈلاک ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہونے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کے ذریعے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ منوانا چاہتی تھی، جبکہ حکومت کا مؤقف تھا کہ ایک سزا یافتہ شخص کی رہائی کا فیصلہ صرف عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔ یہی بنیادی اختلاف مذاکرات کی ناکامی اور ڈیڈلاک کا سبب بنا۔ مبصرین کے مطابق اگر تحریک انصاف حکومت کے سامنے ایسا مطالبہ رکھتی جسے تسلیم کرنا ممکن ہوتا تو مذاکرات کسی قابل قبول نتیجے تک پہنچ سکتے تھے اور دونوں فریقوں کو سیاسی طور پر پسپائی اختیار کیے بغیر اپنے اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کا موقع مل جاتا۔ تاہم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اصرار نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے نہیں دیا، جس کے بعد تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
سینیئر اینکر پرسن منصور علی خان کے مطابق تحریک انصاف کی حکمت عملی کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اس نے مذاکرات اور احتجاج کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے بجائے احتجاج کو مذاکرات پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کن ذریعہ سمجھا۔ پارٹی کو امید تھی کہ لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت اور فیصلہ سازوں پر دباؤ بڑھے گا اور عمران کی رہائی سمیت اس کے مطالبات تسلیم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد نہ صرف احتجاجی حکمت عملی کی افادیت پر سوالات اٹھے بلکہ مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی گنجائش بھی محدود ہو گئی۔ لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے لیے بھی فی الحال مذاکرات کی بحالی کی کوئی فوری سیاسی مجبوری دکھائی نہیں دیتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرکے صوبے میں تحریک انصاف کے اقتدار کو معطل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں اسے وہ سیاسی اور انتظامی برتری حاصل ہو گئی ہے جو شاید وہ احتجاجی تحریک کے دوران حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس صورت حال میں حکومت کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے، خصوصاً جب لانگ مارچ اپنے بنیادی سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے ماضی میں مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کے بیانات ضرور سامنے آتے رہے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنا اور انہیں عملی طور پر بحال کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ حکومت اگرچہ بات چیت کے ذریعے سیاسی مسائل حل کرنے کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں موجودہ انتظامی صورت حال واپس لینے اور صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت بحال کرنے جیسے مطالبات پر اس کی جانب سے فوری لچک دکھانے کا امکان کم ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف بھی ایسے مذاکرات کو اپنی سیاسی ناکامی تسلیم کیے جانے کے مترادف سمجھ سکتی ہے جن میں عمران خان کی رہائی یا اپنے دیگر بنیادی مطالبات پر کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہو۔
مذاکرات کی بحالی کی راہ میں تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات بھی ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کو مذاکراتی اختیار دینے، اپوزیشن لیڈر کے معاملے اور بات چیت کے طریقۂ کار پر اختلافات کے باعث اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپوزیشن کی قیادت اور نمائندگی پر اتفاق ضروری ہے، لیکن موجودہ حالات میں تحریک انصاف کو پہلے اپنے سیاسی لائحۂ عمل کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ اگر پارٹی احتجاجی سیاست جاری رکھنے اور مذاکرات سے انکار کرنے کے مؤقف پر قائم رہتی ہے تو کسی نئے مذاکراتی عمل کی فوری بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
اس کے ساتھ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی تعاون کا معاملہ بھی سیاسی تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت صوبے میں سکیورٹی تعاون کو ناگزیر قرار دیتی ہے، جبکہ تحریک انصاف گورنر راج اور صوبائی حکومت کی معطلی کو اپنے خلاف سیاسی اقدام سمجھتی ہے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات صرف عمران خان کی رہائی یا سیاسی مقدمات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صوبے کے انتظامی مستقبل، سکیورٹی پالیسی اور وفاق و صوبے کے تعلقات جیسے معاملات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ تاہم جب دونوں فریق بنیادی طور پر ایک دوسرے کے اقدامات کو سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھ رہے ہوں تو کسی قابل قبول سمجھوتے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔
