لانگ مارچ کے نام پر اکٹھا ہونے والا 85 کروڑ کون کھا گیا؟

تحریک انصاف کا لانگ مارچ ناکام ہونے کے بعد اب پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ احتجاج کے لیے جمع کیے جانے والے 85 کروڑ روپے کس کی جیب میں گئے ہیں؟ چندے کی رقم کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں کے سامنے آنے والے مختلف دعووں، بینک اکاؤنٹ بلاک ہونے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں سے براہِ راست مالی تعاون حاصل کرنے کے معاملے نے پی ٹی آئی کے اندر مالی شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کے مطابق لانگ مارچ کے لیے 75 کروڑ روپے سے زائد جمع ہوئے تھے، جبکہ دیگر دعوے اس سے کہیں بڑی رقوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جمع ہونے والے چندے، اخراجات اور باقی ماندہ رقم کی تفصیلات سامنے لائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ احتجاج کے نام پر حاصل کیے گئے مالی وسائل کہاں استعمال ہوئے۔ تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی ناکامی کے اسباب جاننے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، تاہم اس احتجاج کے لیے جمع کیے گئے چندے کا معاملہ بھی پارٹی کی کور کمیٹی میں زیر بحث ہے اور اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ لانگ مارچ کے لیے چندے کی رقم کا ایک حصہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع ہوا لیکن چونکہ لانگ مارچ اچانک ختم کر دیا گیا لہذا اس حوالے سے کوئی حساب کتاب نہیں کیا گیا۔ 4 اکتوبر کو اعلان کردہ لانگ مارچ سے دو روز قبل پشاور میں فنڈ ریزنگ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا تھا کہ لانگ مارچ کے لیے کروڑوں روپے جمع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید تین روز تک چندہ جمع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

واقفانِ حال کے حوالے سے مجموعی رقم 85 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا دعویٰ کیا گیا، پی ٹی آئی کے سابق ڈپٹی سیکریٹری اور سابق کوآرڈینیٹر برائے وزیراعلیٰ خالد خان سپاری کے مطابق، لانگ مارچ کے لیے مخصوص بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے جمع ہوئے تھے، لیکن رقم نکالنے سے پہلے اکاؤنٹ بلاک ہو گیا۔ انکے مطابق اس اکاؤنٹ میں پارلیمنٹیرینز کے ماہانہ عطیات اور پہلے سے موجود رقم بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض مرکزی رہنماؤں نے اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کرنے پر اعتراض کیا تھا، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کیں۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی اوورسیز کے سربراہ سجاد برکی کی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا آن لائن اجلاس بلایا اور ان سے مالی تعاون طلب کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر کروڑوں روپے براہِ راست انہیں بھیجے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، ان رقوم کی تفصیلات سامنے نہ آنے پر سجاد برکی نے پارٹی کے اندر احتجاج کیا۔ اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں سے حاصل کیے گئے عطیات کس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے، ان کی نگرانی کس نے کی اور انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ پارٹی قیادت کی جانب سے مستند مالی تفصیلات جاری کیے بغیر ان سوالات کا جواب ملنا مشکل ہے۔

پی ٹی آئی کے مالی معاملات پر سوالات پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس ایک نجی ٹی وی پروگرام میں پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا تھا کہ 26 نومبر کے احتجاج کے لیے 30 کروڑ روپے جمع کیے گئے، لیکن ان کا حساب سامنے نہیں آیا۔ شیر افضل مروت نے الزام لگایا تھا کہ یہ فنڈز علیمہ خان کے پاس گئے۔ تاہم، اس الزام کی آزادانہ تصدیق یا مستند مالی دستاویزات کی عدم موجودگی میں اسے ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا جا سکتا۔ ان سابقہ الزامات کے تناظر میں موجودہ چندے کے معاملے نے پارٹی کے مالیاتی نظام، عطیات کی وصولی اور ان کے استعمال کی نگرانی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔

 

Back to top button