پرانی قیادت کے بعد عمران جنریشن زی سے بھی مایوس

عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان سہیل آفریدی کو اس امید پر وزارت اعلی دی تھی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے بھرپور تحریک چلائیں گے اور لانگ مارچ لے کر اسلام آباد آئیں گے۔ یعنی عمران نے اپنی تمام امیدیں آفریدی سے وابستہ کر لی تھیں۔ تاہم ایک برس کے اقتدار کے دوران آفریدی نہ تو مؤثر حکمرانی دکھا سکے اور نہ ہی لانگ مارچ نکالنے میں کامیاب ہوئے، اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں اقتدار سے بھی محروم ہو گئی۔ یوں گنڈاپور کی جگہ نئی نسل کی قیادت کو آزمانے کا تجربہ عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ اس امید پر کیا تھا کہ نوجوان قیادت نئی نسل کو متحرک کرکے ایسا احتجاجی طوفان برپا کرے گی جو ان کی رہائی کے لیے ریاست پر فیصلہ کن دباؤ ڈال سکے۔سہیل آفریدی کے انتخاب میں انکی انتظامی صلاحیتوں اور حکومتی تجربے کے بجائے نوجوانوں کو متحرک کرنے اور مؤثر لانگ مارچ نکالنے کی صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی گئی، لیکن عملی سیاست میں جوش، نعروں اور انقلابی دعوؤں کو مطلوبہ کامیابی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
اپنی وزارت اعلی کے دوران علی امین گنڈاپور بھی کئی کوششوں کے باوجود ایسا لانگ مارچ نکالنے میں ناکام رہے تھے جو ریاست پر مؤثر دباؤ ڈال سکتا۔ آخری مرتبہ نومبر 2025 میں علی امین گنڈاپور اسلام اباد کے ڈی چوک میں لانگ مار چھوڑ کر بشری بی بی سمیت فرار ہو گئے تھے۔ چنانچہ عمران ان سے مایوس ہو گے اور انہیں ہٹا کر کسی سینئر رہنما کی بجائے مراد سعید کی تجویز پر سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ سونپ دی۔ اس فیصلے سے عمران خان نے روایتی سیاسی قیادت کے بجائے نوجوان نسل کے نمائندے کے ذریعے پارٹی کی احتجاجی سیاست میں نئی جان ڈالنے کی کوشش کی۔
مبصرین کے مطابق، سہیل آفریدی کے انتخاب کے پس منظر میں بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال میں نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریکوں سے متاثر ہونے کا تصور بھی شامل تھا۔ عمران خان اور ان کے قریبی حلقے کو توقع تھی کہ جنریشن زی سے تعلق رکھنے والا نوجوان وزیراعلیٰ نئی نسل کو زیادہ مؤثر انداز میں متحرک کر سکے گا۔ تاہم یہ اندازہ درست ثابت نہ ہوا کہ کم عمری اور نوجوانوں سے قربت ہی سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت اور کامیاب احتجاجی حکمت عملی کی ضمانت ہیں۔ صوبائی انتظامی امور کا خاطرخواہ تجربہ نہ ہونے کے باعث سہیل آفریدی کی نامزدگی کے معیار اور ترجیحات پر بھی سوالات اٹھتے رہے۔
سہیل آفریدی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد صوبائی اسمبلی میں عمران خان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے انقلابی شعر بھی پڑھا، جسے پارٹی قیادت کے ساتھ وفاداری اور قربانی کے عزم کی علامت سمجھا گیا۔ تاہم ان کے لیے اصل امتحان جذباتی وابستگی کے اظہار کے بجائے عملی نتائج فراہم کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق، انہیں وزارت اعلی سونپنے کے بعد ایک ماہ کے اندر ائک مؤثر لانگ مارچ نکالنے کا ہدف دیا گیا تھا، لیکن مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے پر عمران کی مایوسی بڑھنے لگی۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے نورین خان کے ذریعے سہیل آفریدی کو ہٹانے کا پیغام بھی بھجوایا تھا، تاہم اس دوران انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا چنانچہ انہیں ایک آخری موقع دیا گیا۔
تاہم سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کی ناکامی نے پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ جس احتجاج کو عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن دباؤ کا ذریعہ بنانے کی امید تھی، وہ اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس ناکامی کے سیاسی اثرات خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں نکلے۔ یوں عمران کو نئی قیادت سے وابستہ امیدوں میں ناکامی کے ساتھ اس 13 سالہ صوبائی حکومت سے بھی محرومی کا سامنا کرنا پڑا جسے پارٹی کی سیاسی طاقت اور احتجاجی سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورت حال نے تحریک انصاف کی اندرونی سیاست اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ جیسے اہم منصب کے لیے انتظامی تجربے، اہلیت اور عوامی خدمت کے بجائے کسی سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے احتجاجی قوت پیدا کرنے کو ترجیح دینا حکومتی ذمہ داریوں کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے بقول، نوجوان قیادت کو آگے لانا بذات خود غلط نہیں، لیکن عمر کو صلاحیت، جذبات کو حکمت عملی اور سیاسی وفاداری کو انتظامی اہلیت کا متبادل سمجھنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے لیے اس تجربے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ محض چہرے بدلنے سے حکمت عملی کی ناکامیوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ علی امین گنڈاپور سے مایوسی کے بعد سہیل آفریدی کو آزمانے کے باوجود نہ مطلوبہ احتجاجی نتائج حاصل ہوئے اور نہ ہی صوبائی اقتدار برقرار رہ سکا۔ پرانی قیادت کے بعد نئی نسل کے نمائندے سے بھی توقعات پوری نہ ہونے نے تحریک انصاف کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کے سوال سے دوچار کر دیا ہے۔ پارٹی کو طے کرنا ہوگا کہ صوبائی حکومت کو عوامی خدمت اور بہتر حکمرانی کے لیے استعمال کرنا ہے یا اسے عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بنائے رکھنا ہے، کیونکہ حکمت عملی تبدیل کیے بغیر صرف قیادت کے چہرے بدلنے سے مختلف نتائج کی توقع رکھنا مشکل ہے۔
