ایران کا بوشہر کے قریب امریکی طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ، امریکا کی تردید

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے ساحلی صوبے بوشہر کے قریب ایک امریکی طیارے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، تاہم سینٹ کام یعنی امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

امریکی سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کوئی بھی امریکی طیارہ مار گرایا نہیں گیا اور تمام امریکی فضائی اثاثے مکمل طور پر محفوظ اور امریکی کنٹرول میں ہیں۔امریکی حکام کے مطابق ایران میں امریکی طیارہ گرائے جانے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں اور امریکی فضائی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

دوسری جانب ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے جام کاؤنٹی کے گورنر مسعود تنگستانی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بوشہر صوبے میں رات کے وقت ایک دشمن طیارے کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال معمول پر ہے۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پیش رفت گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران سامنے آئی، تاہم مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تباہ ہونے والا طیارہ کس ملک سے تعلق رکھتا تھا، جبکہ کسی ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔

ادھر ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے جنوبی علاقوں سے مخصوص اہداف کی جانب میزائل بھی داغے ہیں، تاہم فوری طور پر ان میزائلوں کے ہدف یا مقام کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی نگرانی اور دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں عسکری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن، عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button