محسن نقوی نےانتظامی بنیادوں پرنئےصوبوں کی تجویز دیدی

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ملکی مسائل کاحل پیش کرتے ہوئےنئےانتظامی یونٹس اور نئےصوبوں کے قیام کی تجویز دیدی۔

اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل صرف وقتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ ملک کے بنیادی نظام کو جمہوری اصولوں کے مطابق درست کرنا ہوگا۔ جب تک نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، مسائل بار بار سامنے آتے رہیں گے،جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ 70 سے 80 برسوں سے کئی مسائل مسلسل چلے آرہے ہیں، ہم سب جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن جمہوری نظام کے اندر بھی مختلف طریقہ کار اور ڈھانچے موجود ہوتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کا نام عالمی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے، مختلف شعبوں میں کامیابیاں سامنے آ رہی ہیں، لیکن یہ صرف وقتی بحرانوں سے نمٹنے کی کوششیں ہیں۔ جب تک ملک کے بنیادی نظام کو درست نہیں کیا جائے گا، مسائل برقرار رہیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ملک کا سیاسی نظام چلانے والے تمام طبقات، سیاسی جماعتیں، کاروباری افراد اور ادارے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ نظام کی بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران مختلف لوگ سیاسی نظام کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ نظام کی اصلاح کے لیے اپنی آواز بھی بلند کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عام شہری کو بنیادی سہولیات، انصاف اور حکومت تک آسان رسائی چاہیے، مگر آج بھی کئی لوگ دور دراز علاقوں سے کئی گھنٹے سفر کرکے عدالتوں اور سرکاری اداروں تک پہنچتے ہیں۔ عوام کو ان کے علاقوں میں ہی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انتظامی یونٹس کو عوامی سطح تک لے جانا ضروری ہے، کیونکہ جب تک مقامی سطح پر ذمہ داری اور اختیار نہیں ہوگا، مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صنعت میں اربوں ڈالر کی برآمدات کی صلاحیت موجود ہے، لیکن نظام کی رکاوٹوں کے باعث اس صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اسے قومی فیصلہ سازی میں اہم کردار دینا ہوگا۔

محسن نقوی نے نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان صرف چند ہزار روپے کی امداد یا سہولیات نہیں چاہتے، بلکہ وہ انصاف، میرٹ، روزگار کے مواقع اور ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انہیں اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔

‘آپ اس نوجوان کو کاکروچ کہہ سکتے ہیں، آپ اسے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن میں آپ کو ایک بات بتاؤں گا کہ اگر یہی کاکروچ ایک یونٹ بن جائے تو یہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔’

وزیر داخلہ نے ملک کے مالی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال بجٹ خسارے اور قرضوں کے دباؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ مسائل کیا ہیں، اب ضرورت ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دن رات کام کر رہے ہیں اور حکومت مسلسل بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن مستقل بہتری کے لیے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں ایک جگہ بیٹھ کر ملک کے بنیادی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کریں تو بہتری ممکن ہے، بصورت دیگر کانفرنسیں، سیمینار اور اجلاس ہوتے رہیں گے مگر مسائل برقرار رہیں گے۔

انہوں نے کاروباری برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری افراد کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے معیشت کا اہم ستون سمجھنا چاہیے۔ دنیا بھر میں کاروباری طبقہ ترقی کا انجن ہوتا ہے، پاکستان میں بھی اسے مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ کاروباری افراد میں محدود وسائل کو بڑھانے اور مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لیے انہیں ملک کی قیادت اور پالیسی سازی کے عمل میں زیادہ شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی اور انتظامی نظام میں بھی بہتری کی ضرورت ہے، کیونکہ آبادی بڑھانے کے بجائے وسائل، اختیارات اور سہولیات کی منصفانہ تقسیم پر توجہ دینی ہوگی۔

وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی قیادت، کاروباری طبقے اور تمام اہم حلقوں کو مل کر بنیادی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اپنی طاقت اور مالی وسائل کے نظام کو نچلی سطح تک لے کر جانا ہوگا۔ یہ فیصلہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر، اتفاق رائے سے کرنا ہوگا، کیونکہ اس کے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کیوں اس وقت کا انتظار کریں جب عوامی دباؤ کے باعث ہمیں فیصلے کرنا پڑیں؟ ہمیں پہلے ہی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اگر گلی محلے کا نظام خراب ہے اور ایک ہی سڑک یا گلی بار بار بنائی جاتی ہے تو ہمیں معلوم ہونے کے باوجود اس نظام کو درست نہیں کرتے۔ موجودہ نظام میں بہت سی اچھی چیزیں ہیں، لیکن اس کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔

Back to top button