ایران بمقابلہ امریکہ: آبنائے ہرمز جنگ کا نیا میدان بن گئی

خلیجِ فارس ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے خطرناک بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران نے اپنے میزائل ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت میں “120 فیصد اضافے” کا دعویٰ کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں، جبکہ واشنگٹن نے بھی سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کو “تباہ کن جواب” دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ جب بھی سفارتی حل کی کوئی امید پیدا ہوتی ہے، امریکہ فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے مکمل تیاری کر چکا ہے۔ عراقچی کے بقول ایران کی دفاعی طاقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور دشمن کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح انداز میں کہا کہ “سرخ لکیر بالکل واضح ہے، اگر ایرانی امریکیوں کو دھمکائیں گے تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔” ان کے اس بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی زبان اب سفارت کاری سے زیادہ جنگی دھمکیوں کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے، اب اس تنازعے کا مرکزی میدان بن چکی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحریہ نے دو ایرانی جہازوں کو ناکارہ بنایا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے اس کے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر جوابی حملے کیے اور انہیں نقصان پہنچایا۔
ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے نئی بحری اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جو دراصل اس اہم سمندری راستے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق ہرمز کا کنٹرول “ایٹم بم جتنا قیمتی” ہے اور تہران اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی پارلیمان کے بعض ارکان نے امارات پر الزام لگایا کہ اس نے ایران مخالف کارروائیوں میں عسکری اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا۔ تہران کے سخت بیانات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ایران اب خلیجی ممالک کو بھی براہِ راست پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس کے خلاف کوئی اتحاد بنا تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کشیدہ صورتحال کے باوجود دعویٰ کیا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی ڈسٹرائرز پر حملے کیے لیکن امریکی بحریہ نے کامیابی سے صورتحال سنبھال لی۔ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کو تحمل کا مشورہ دیا اور کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق عالمی سطح پر بھی اس بحران کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ چین نے اپنے تیل بردار جہاز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے شدید تشویش ظاہر کی، جبکہ عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا کہ اگر بحران مزید بڑھا تو عالمی تیل منڈی ہل کر رہ جائے گی۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے جنگ بندی کو مستقل بنانے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال صرف ایران اور امریکہ کے درمیان طاقت کی جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت، تیل کی رسد اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہوتی ہے یا فوجی تصادم وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران آخری لمحے میں سفارت کاری کی میز پر واپس آئیں گے یا دنیا ایک نئی اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ آنے والے دن اس خطے کی تقدیر کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
