کیا کامران ٹیسوری کی گورنر ہاؤس میں واپسی ممکن ہے؟

سندھ کی گورنرشپ ایک بار پھر ملکی سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ سابق گورنر کامران ٹیسوری کی ممکنہ واپسی سے متعلق ایم کیو ایم پاکستان کے بعض رہنماؤں، خصوصاً ڈاکٹر فاروق ستار کے حالیہ بیانات نے نئی سیاسی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق، حکومتی اتحاد کی موجودہ سیاسی ضروریات، پیپلز پارٹی کی رضامندی، مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی اور خود ایم کیو ایم کی اندرونی صف بندی اس امکان کو فی الحال کمزور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مستقبل میں کامران ٹیسوری دوبارہ گورنر بنتے بھی ہیں تو اس کا انحصار ایم کیو ایم کی خواہش سے زیادہ مقتدر حلقوں کے فیصلوں پر ہوگا۔

خیال رہے کہ مارچ 2026 میں کامران ٹیسوری کو سندھ کے گورنر کے عہدے سے ہٹا کر مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے پر ایم کیو ایم پاکستان، خصوصاً ڈاکٹر فاروق ستار نے شدید ردعمل دیا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر فاروق ستار نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ کی گورنرشپ کے معاملے پر اہم مشاورت، پیغام رسانی اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ ان کے مطابق کامران ٹیسوری کی واپسی ایم کیو ایم پاکستان کی پارٹی پالیسی بھی ہے۔ فاروق ستار نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر سندھ کی گورنرشپ واپس نہ ملی تو ایم کیو ایم اپوزیشن میں بیٹھنے پر بھی غور کر سکتی ہے، یا پھر حکومت کی ایسی اتحادی بن سکتی ہے جیسا کردار اس وقت پیپلز پارٹی ادا کر رہی ہے۔

تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مطالبہ یا بیان سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح مصطفیٰ کمال بھی اس معاملے پر خاموش ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پارٹی قیادت اس معاملے پر مکمل طور پر ایک صفحے پر نہیں۔

سیاسی ذرائع کے مطابق عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے سیاسی فارمولے کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ گورنر جبکہ سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد گورنر تعینات ہونے تھے۔ تاہم سندھ میں ابتدا میں مسلم لیگ (ن) نے اپنا امیدوار لانے کے بجائے کامران ٹیسوری کو برقرار رکھا، جس پر ایم کیو ایم نے یہ تاثر دیا کہ وہ ان کی سفارش پر گورنر ہیں، جبکہ باخبر ذرائع کے مطابق کامران ٹیسوری کی تعیناتی میں ایم کیو ایم سے زیادہ مقتدر حلقوں کا کردار تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایم کیو ایم نے سیاسی مجبوری کے تحت کامران ٹیسوری کو اپنی نمائندگی تصور کرتے ہوئے ان کی حمایت جاری رکھی، لیکن دوسری جانب پیپلز پارٹی ابتدا ہی سے ان کی گورنرشپ سے مطمئن نہیں تھی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق کامران ٹیسوری نے بطور گورنر صرف آئینی کردار تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ وہ سیاسی معاملات میں بھی غیر معمولی طور پر متحرک رہے۔ سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والے متعدد بل اعتراضات کے ساتھ واپس بھیجے، اگرچہ اسمبلی نے انہیں دوبارہ منظور کر کے قانون کا حصہ بنا دیا۔ اسی طرح بعض مواقع پر اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے معاملات میں بھی ان کے اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی سندھ قیادت بھی مسلسل اپنی مرکزی قیادت پر زور دیتی رہی کہ صوبے میں پارٹی کا اپنا گورنر تعینات کیا جائے تاکہ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی موجودگی کو تقویت مل سکے۔ تقریباً دو برس تک یہ مطالبہ پورا نہ ہونے کے بعد مارچ 2026 میں بالآخر نہال ہاشمی کو سندھ کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔

کامران ٹیسوری کی برطرفی کے پس منظر میں "کراچی کو حق دو” کانفرنس کو بھی اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے سے متعلق مبینہ نقشے اور تقاریر سامنے آئیں، جنہیں پیپلز پارٹی کی قیادت نے سخت ناپسند کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ معاملہ صدر مملکت آصف علی زرداری تک پہنچا، جس کے بعد کامران ٹیسوری کی گورنرشپ کا خاتمہ تقریباً یقینی ہو گیا۔

سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ نہال ہاشمی کی تقرری صرف مسلم لیگ (ن) کی خواہش کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس میں صدر آصف علی زرداری کی مکمل رضامندی بھی شامل تھی۔ آئینی طور پر اگرچہ وزیراعظم کی سفارش پر گورنر کی تقرری صدر مملکت کرتے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق سندھ گورنرشپ کے لیے مختلف ناموں میں سے نہال ہاشمی کے نام پر آخری منظوری بھی صدر زرداری نے دی، جس کا ذکر خود نہال ہاشمی بھی کر چکے ہیں۔

نہال ہاشمی کی تعیناتی کے بعد پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت دونوں نسبتاً مطمئن دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ موجودہ گورنر نہ تو حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کر رہے ہیں اور نہ ہی صوبائی انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، جس کے باعث گورنر ہاؤس اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدگی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف رہنماؤں کی الگ الگ وفاقی شخصیات سے ملاقاتیں بھی سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار مختلف مواقع پر اہم حکومتی شخصیات سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر مختلف سیاسی ترجیحات کا تاثر ابھر رہا ہے۔چند روز قبل صدر آصف علی زرداری اور خالد مقبول صدیقی کی علیحدہ ملاقات کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر خاصی زیر بحث رہی، تاہم اس ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے لیے اپنے مطالبات منوانے کا سب سے مؤثر وقت بجٹ سے پہلے ہوتا ہے کیونکہ اس مرحلے پر حکومت کو پارلیمنٹ میں اتحادیوں کی ہر ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی دوران پیپلز پارٹی نے بھی بجٹ سے قبل متعدد تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے باعث بجٹ پیش کرنے میں تاخیر بھی ہوئی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم واقعی سندھ کی گورنرشپ واپس لینا چاہتی تو اسے بجٹ سے پہلے زیادہ مؤثر سیاسی دباؤ ڈالنا چاہیے تھا، لیکن اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق ستار کے بیانات کے علاوہ پارٹی کی جانب سے کوئی منظم سیاسی حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ماہرین کے مطابق موجودہ سیاسی منظرنامے میں پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی سب سے اہم اتحادی ہے اور قومی اسمبلی میں حکومت کی اکثریت بھی بڑی حد تک اس کے تعاون پر قائم ہے۔ ایسے حالات میں سندھ کی گورنرشپ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی رضامندی کے بغیر کسی بڑی تبدیلی کے امکانات نہایت محدود دکھائی دیتے ہیں۔سیاسی ذرائع کے مطابق مستقبل میں اگر کامران ٹیسوری دوبارہ سندھ کے گورنر بنتے بھی ہیں تو اس کا فیصلہ ایم کیو ایم کی اندرونی خواہش یا ڈاکٹر فاروق ستار کی سیاسی کوششوں سے زیادہ مقتدر حلقوں کی حکمت عملی پر منحصر ہوگا، کیونکہ ماضی میں بھی ان کی تعیناتی اور برطرفی دونوں بڑے سیاسی اور ریاستی فیصلوں کا حصہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔

Back to top button