نئے انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے: محسن نقوی

 

 

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص،حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔

لاہور میں قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات آئین کے اندر رہتے ہوئے،جمہوری طریقے اور سیاسی اتفاق رائے سے کی جانی چاہئیں۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ حکومت آخر میں عوام کو کتنا ڈیلیور کر پاتی ہے،تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ حکومت کے اپنے تعلیمی نظام کی صورت حال یہ ہےکہ پانچویں جماعت کا بچہ بھی عام جملے پڑھنے سے قاصر ہے،جو ہمارے تعلیمی معیار پر سوال اٹھاتا ہے،ہمیں تسلیم کرنا ہوگاکہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کا اثر عام عوام تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ رہا اور اس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سینیٹر محسن نقوی نے ’ری سیٹ‘ کی وضاحت کرتےہوئے کہاکہ اس کا مطلب نظام کو ختم کرنا نہیں بلکہ جو چیز غلط ہے اسے درست کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے کہاکہ اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بننےچاہئیں تو انہیں ضرور بنایاجائے، لیکن اگر عوام اس کے حق میں نہیں تو کسی صورت یہ فیصلہ مسلط نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ یہ رائے دینے کا حق آئین نے عوام کو بھی دیا ہے،اس لیے نہ کسی ایک شخص کی مرضی چلنی چاہیے،نہ کسی ایک حکومت کی اور نہ ہی کسی ایک سیاسی جماعت کی، ان کی درخواست ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کا فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے۔

محسن نقوی نے کہاکہ پاکستان کی آبادی 79 برس میں 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور آبادی کے لحاظ سے ملک دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے،اس لیے انتظامی ڈھانچے کو بھی آبادی اور ضروریات میں ہونے والے اضافے کے مطابق ازسرنو ترتیب دینے پر غور کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 80 سال پہلے ایک خاندان کے بہت سے افراد ایک ہی گھر میں رہتےتھے، لیکن آبادی اور خاندان بڑھنے کے ساتھ لوگ ایک گھر سے دو، پھر چار اور اس کےبعد مزید گھروں میں منتقل ہوتےگئے۔اسی طرح ملک میں تحصیلیں،ڈویژن اور اضلاع تو بنائے جاسکتے ہیں تو نئے انتظامی یونٹس بنانے پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر بامعنی ڈائیلاگ ناگزیر ہے : حمزہ شہباز

انہوں نے کہاکہ انتظامی یونٹس کے قیام پر بات آتے ہی سیاسی وجوہات سامنے آتی ہیں،حالانکہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات بھی اس معاملے پر غور کا تقاضا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اسے مؤثر بنانا اور اس کی کارکردگی عام شہری تک پہنچانا ہونا چاہیے۔

Back to top button