کیا اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے؟

سینیٹ میں عددی اکثریت کے باوجود سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل رکوانے میں ناکام رہنے والی اپوزیشن کو اب اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اپوزیشن کی نہ تو حکومت گرانے کی خواہش ہے اور نہ ہی کوئی حکمت عملی ہے۔ ایسے میں نہ تو اپوزیشن جماعتوں کے لانگ مارچ کی کامیابی کا امکان ہے اور نہ ہی تحریک عدم اعتماد سے تبدیلی کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ یوں پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ مزید طاقتور بن کر ابھر رہی ہے۔
سنیئر اینکرپرسن غریدہ فاروقی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہونے کے باوجود سٹیٹ بینک ترمیمی بل کا سینیٹ سے پاس ہو جانا نہ صرف اپوزیشن کی حکمتِ عملی کی ناکامی ہے بلکہ بیانیےکی بھی تباہی ہے۔
اب بھی اگر کسی کو شک ہے کہ موجودہ اپوزیشن وزیر اعظم عمران خان کی سونامی کے سامنے کوئی بند باندھ پائے گی تو پھر وہ بےوقوفوں کی جنت کے کارنر پلاٹ کا رہائشی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ دراصل اپوزیشن حکومت سے زیادہ نااہل، نکمّی اور نکٹھو ہے۔ یہ محض چُوری کھانے والے طوطے ہیں جو چند رَٹے رَٹائے الفاظ عوام کی تفریحِ طبع کی خاطر ہر دوسرے روز گردان کرتے رہتے ہیں۔
مگر اس سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔غریدہ کہتی ہیں کہ بھلا اس بات کا کیا جواز اور جواب ہے کہ ووٹنگ سےقبل اپوزیشن کی عددی اکثریت ایوان میں موجود ہو اور عین ووٹنگ کے وقت کوئی کھسک لے، کوئی غیر حاضر نکل آئے اور کوئی حکومت کا غیبی ووٹر بن کر ابھر آئے۔ بتانے والوں نے بتایا کہ منتخب اراکین کے فون تو اس بار بھی بجے لیکن اب کے حکومتی بینچوں کو نہیں بلکہ اپوزیشن بینچوں کی چند بےتاب روحوں کے ساتھ رابطے جوڑے گئے۔ چند بخوشی راضی ہو گے جبکہ جنہیں ’ممکنہ اثرات‘ سے محفوظ رہنا تھا انہوں نے ’ممکنہ عذر‘ تراش لیے۔
غریدہ کہتی ہیں کہ ایوانِ بالا کے تمام بی ٹیم اراکین کے شجرے کھنگال لیجیے۔ آپ کو ہر ایک کے تانے بانے باآسانی سمجھ آ جائیں گے۔ لیکن اصل سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اراکین کی سیاسی جماعتیں کیا ان سے جواب دہی کریں گی؟ بعینہ وہی قسط دہرائی گئی ہے جو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پڑنے والے اضافی ووٹوں کے وقت چلی تھی۔
تب اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے تحقیقات کروا کے اپنے منحرف اراکین کے نام عوام کے سامنے لے آتیں اور اُن کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کرتیں تو شاید دوبارہ ایسی صورتحال پیش نہ آتی۔ لیکن مجبوریاں، مصلحتیں تب بھی آڑے آئیں تھیں اور اب بھی اس داستاں میں چنداں فرق نہیں پڑا۔ بقول غریدہ افسوس کا مقام ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنی کمپرومائزڈ سیاست کے نام پر عوام کو مسلسل بےوقوف بنا رہی ہیں۔
ایک طرف لانگ مارچوں کے ذریعے حکومت گرا دینے کی گیدڑ بھبکیاں، آئی ایم ایف کے سامنے سٹیٹ بنک سمیت معیشت اور پورے ملک کو گِروی رکھوا دینے کے کھولھلے جوشیلے بیانات، عوام کی ترجمانی اور حقوق کے تحفظ کی لفّاظی اور دوسری جانب۔۔۔۔ یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا۔
انکا کہنا یے کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں نے اگر حکومت کی نااہلی ثابت کی ہے تو یہ حقیقت بھی نوشتۂ دیوار بنی ہے کہ دراصل اپوزیشن حکومت سے زیادہ نااہل، نکمّی اور نکٹھو ہے۔ یہ محض چُوری کھانے والے طوطے ہیں جو چند رَٹے رَٹائے الفاظ عوام کی تفریحِ طبع کی خاطر ہر دوسرے روز گردان کرتے رہتے ہیں۔
مگر اس سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ غریدہ کا کہنا ہے کہ فروری میں پی ڈی ایم کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ یا تو ہو گا نہیں اور اگر ہوا بھی تو نشستند، گفتند، برخاستند سے ذیادہ کوئی اثر ڈالنے میں ناکام رہے گا۔ اب بھی امکانات موجود ہیں کہ حالات کچھ ایسا رُخ اختیار کر جائیں کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ التوا کا شکار ہو جائے۔ لیکن کیونکہ اعلان کیا جا چکا ہے، اسلیے اگر یہ مارچ ہوتا بھی ہے تو حکومت گرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔
بلاول بھٹو کا گیلانی کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار
دیکھنے کی بات یہ ہو گی کہ کیا شہباز شریف اور مریم نواز اس لانگ مارچ کو پنجاب سے لِیڈ کرتے ہیں یا نہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ کی بھی متوقع ہے۔ اب چونکہ پی ڈی ایم اپنے لانگ مارچ کا اعلان کر چکی تھی سو پی پی پی کیلئے پیچھے رہنا سیاسی اعتبار سے سُود مند نہ تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ پیپلزپارٹی اس لانگ مارچ کو اپنے ورکر کو موبلائز کرنے، پنجاب میں تازہ انٹری ڈالنے اور اپنی سٹریٹ پاور کے اظہار سے آگے نہیں بڑھا پائے گی۔
غریدہ کا کہنا ہے کہ حکومت گرانے کیلئے اپوزیشن کے پاس نہ تو ایوان میں اور نہ ہی میدان کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ سٹیٹ بنک ترمیمی بل کی منظوری جیسے واقعے کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اپوزیشن نہ صرف بذاتِ خود کپتان حکومت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی مضبوط کیے جا رہی ہے۔
اگر بڑی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی واقعتاً مخالف ہیں تو حالیہ قانون سازی پر سینیٹ سے غیر حاضر رہنے والے، کھسک جانے والے اور گنتی کا پلڑا جھکانے والے اپنے اپنے تمام اراکین کے خلاف کاروائی کا آغاز کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا اور اپوزیشن آئندہ بھی اِسی تنخواہ پر کام کرتی رہے گی۔
امکان تو یہ بھی یے کہ اپوزیشن آنے والے چند مہینوں میں کسی اہم پیشرفت کیلئے آلۂ کار بننے میں بھی سبقت لے جاتی نظر آئے گی۔ لہذا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ غریدہ کے بقول حالات بتاتے ہیں کہ کپتان کی قیادت میں موجودہ حکومت کم از کم اپنی موجودہ مدت پوری کرے گی اور سانپ سیڑھی کے کھیل میں تاریخ کا پہلا وزیر اعظم اپنا آئینی دور پورا کرے گا۔
اس شرمناک شکست کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو چاہئیے کہ اپنے اپنے لانگ مارچوں کا بوریا بستر ویسے ہی سمیٹ لیں اور عوام کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہر گز نہ کریں۔ کیوں کہ نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔
