فلم ’’جاوید اقبال‘‘ سے پابندی ہٹانے کیلئے سوشل میڈیا پر مہم

لاہور سے تعلق رکھنے والے سو بچوں کے قاتل سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر بنائی گئی فلم پر عائد حکومتی پابندی ختم کروانے کے لیے اداکاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹر پر ایک منظم مہم شروع کر دی ہے۔

کرونا سیکیورٹی حالات کے پیش نظر ایک تو ملک میں پہلے ہی نئی فلموں کی تیاری تعطل کا شکار ہے تو دوسری طرف جو اکا دُکا فلمیں بن رہی ہیں، ان پر حکومت پابندی عائد کر رہی ہے، فلم ’’جاوید اقبال‘‘ بھی ان دنوں حکومتی پابندی کا شکار ہے، جس کی بحالی کیلئے ٹوئیٹر پر ٹرینڈ بھی چل پڑا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے بدنام زمانہ سیریل کلر ’جاوید اقبال’ کی زندگی پر بنائی گئی فلم کی ریلیز پر 26 جنوری کو پابندی لگائی تھی، صوبائی فلم سینسر بورڈ نے فلم کی ریلیز سے محض 2 دن قبل اس کی نمائش پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

پنجاب سنسر بورڈ کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے بعد فلم کو باقی ملک میں بھی ریلیز نہیں کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کی ٹیم نے 27 جنوری کو ّ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کا کراچی میں پریمیئر بھی کیا تھا اور فلم کو شوبز شخصیات اور میڈیا سے وابستہ افراد کو دکھایا بھی گیا تھا۔

فلم کی نمائش پر پابندی لگائے جانے کے بعد ابتدائی طور پر جاوید اقبال کا کردار ادا کرنے والے اداکار یاسر حسین نے ’جسٹس فار جاوید اقبال فلم‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی تو باقی شخصیات نے بھی ٹرینڈ میں حصہ لیا۔

تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ بار کی درخواست پر رجسٹرار کے اعتراضات

یاسر حسین کے علاوہ فلم کی مرکزی اداکارہ عائشہ عمر نے بھی پنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کیے جانے پر انسٹا گرام پوسٹ کرتے ہوئے ’جسٹس فار جاوید اقبال فلم‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا اور صوبائی حکومت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔

یاسر حسین کے بعد متعدد شوبز شخصیات نے ’جسٹس فار جاوید اقبال فلم‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹا گرام پر پوسٹس کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فلم انڈسٹری کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

اداکار علی رحمٰن خان نے بھی یاسر حسین اور عائشہ عمر کی فلم کی نمائش پر پابندی لگانے پر آواز بلند کی، انہوں نے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ ہمیں ذاتی خواہشات سے بالاتر ہوکر کام کرنا پڑے گا اور ہمیں ہر حال میں سچی کہانیوں پر مبنی فلموں اور ڈراموں کو نمائش کی اجازت دینی ہوگی۔

عثمان خالد بٹ نے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کیے جانے پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ جب تمام سینسر بورڈز نے فلم کو نمائش کی اجازت دے دی تھی تو پھر آخر میں فلم کے خلاف کہاں سے شکایات آئیں؟

شوبز شخصیات کے علاوہ عام صارفین نے بھی یاسر حسین اور اقرا عزیز کی فلم کی نمائش پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے جلد ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ فلم ’’جسٹس جاوید اقبال‘‘ کی کہانی 1990 کے سیریل کلر پر مبنی ہے جس نے 100 سے زائد بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

جاوید اقبال نے سو مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے عدالتی فیصلے کے بعد خود کو اپنی شلوار کے آزاری بند سے پھندا دے کر جیل میں خودکشی کرلی تھی۔

Back to top button