کیا عمران کا فوج کی گڈ بکس میں واپس آنے کا کوئی امکان ہے؟

 

 

 

30 برس تک اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتے ہوئے سیاست کرنے والے بانی تحریک انصاف عمران خان کا سیاسی مستقبل تاریک نظر آتا ہے چونکہ اب ان کا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں واپس آنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران اپنی 30 سالہ سیاست میں پہلی بار طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ’’گڈبکس‘‘ میں نہیں رہے۔ خان صاحب دو سال سے جیل میں قید ہیں جو انکے سیاسی کریئر کی پہلی طویل قید ہے، اس سے پہلے وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں چند روز جیل میں رہے تھے جس کے دوران انہوں نے اچھی خوراک نہ ملنے پر بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ تاہم اڈیالہ جیل میں انہیں خالص دیسی خوراک ملتی ہے اس لیے ابھی تک بھوک ہڑتال کی نوبت نہیں آئی۔

 

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ خان صاحب آج اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں اور ’پوائنٹ آف نو رٹرن‘ پر پہنچ چکے ہیں۔ اس صورتحال کا اگر کسی کو صحیح معنوں میں سیاسی فائدہ ہوا ہے تو مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کو ورنہ حقیقت یہ ہے کہ 8 فروری 2024 کو ’’تخت لاہور‘‘ کو شکست ہو چکی تھی اور وہ بھی جمہوری انداز میں مگر فارم47 آڑے آ گیا۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ 2018 میں عمران خان کو بھی آر ٹی ایس سسٹم بٹھا کر وزیر اعظم بنوایا گیا تھا۔ تب اگر وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں نہ ہوتے شائد قائد حزب اختلاف ہوتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان مستقبل میں تاریخ کا حصہ بن جائیں گے یا کوئی نئی تاریخ رقم کرینگے۔ اب تک تو انہوں نے اپنے ان ناقدین کو غلط ثابت کیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ خان ’چند دن‘ بھی جیل میں نہیں گزار سکتا۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا خان کے پاس جیل سے نکلنے کی آپشن موجود ہے اور کیا انہیں ایسی کوئی آفر کی گئی؟ اس سوال کا جواب ہے نہیں، عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہ کرنے کا ڈھنڈورا تو ضرور پیٹتے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان سے ڈیل کرنے کو تیار نہیں ورنہ وہ اب تک جیل سے باہر آ چکے ہوتے۔ ہماری سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب اسٹیبلشمنٹ کا بمایا ہوا سیاستدان اسٹیبلشمنٹ پر ہی حملہ آور ہو جائے تو اس کا حال عمران خان جیسا ہی ہوتا ہے۔

 

مظہر عباس کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی پروجیکٹ بنانے کی مستند، فیکٹری موجود ہے مگر تاریخی حوالے سے زیادہ تر پروجیکٹ اس لحاظ سے ناکام رہے کہ انکے تعلقات اکثر اس مقام پر پہنچے کے انہیں جیل، قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنا پڑیں، کچھ کا اختتام ڈیل پر ہوا جیسا کہ مشرف دور میں نواز شریف کے معاملے میں ہوا۔ عمران خان ویسے تو 15 برس تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتے ہوئے سیاست کرتے رہے لیکن انہیں طاقتور فوجی فیصلہ سازوں کی حمایت 2011 کے بعد حاصل ہوئی۔ جب تحریک انصاف کی 1996ء میں بنیاد رکھی گئی تب تک خان کو وزارت عظمی تک کے جانے کا پروجیکٹ نہیں بنا تھا۔ اس سے پہلے 1993میں ISI کے سابق چیف جنرل حمید گل نے خان کو اپنی ممکنہ سیاسی جماعت کا حصہ بنانے کی کوشش کی لیکن یہ معاملہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔

 

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ 1996 میں جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو اس میں بیشتر لوگ عمران خان کے ذاتی دوست تھے اور شائد ہی کوئی سیاسی تجربہ رکھتا ہو۔ حامد خان کو وکیلوں کی سیاست اور نجیب ہارون کو طلبہ سیاست کا۔ یہی وہ وقت تھا جب دوج کبھی نواز شریف تو کبھی بے نظیر بھٹو شہید کی حمایت کرتی۔ پھر دونوں کو ہی ایک ہی جیسے الزامات جن میں سر فہرست کرپشن کا الزام ہوتا بنیاد بنا کر 58-2(B) کے ذریعے برطرف کر دیا جاتا۔ یہ اختیار صدر مملکت کو جنرل ضیاء کے وقت میں حاصل ہوا۔ اسکا پہلا شکار محمد خان جونیجو، پھر بے نظیر بھٹو، پھر نواز شریف اور پھر بینظیر بھٹو اور پھر 1997ءمیں پارلیمنٹ نے اس شق کو آئین سے نکال دیا۔

پنجاب کے عوام سستی گندم اور آٹے کلو کیوں ترسنے لگے؟

مظہر عباس کہتے ہیں کہ 12 اکتوبر 1999ءکو جب وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات حد سے بڑھ گئے اور وزیر اعظم نے آرمی چیف کو برطرف کیا تو ان کے حامی آرمی افسران نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ یوں میاں صاحب کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب پہلی بار عمران خان صحیح معنوں میں سیاسی میدان میں آئے اور جنرل مشرف کی حمایت کی، بلاواسطہ حمایت تو بے نظیر بھٹو نے بھی کی مگر عمران نے مشرف کے سات رکنی نکات کی مکمل تائید کی جبکہ بی بی نے فوری الیکشن کا مطالبہ کیا۔ یوں جنرل مشرف کے قریبی ساتھیوں نے، جن میں جنرل احتشام ضمیر بھی شامل تھے خان کو اپنی سیاسی ٹیم کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم 2002 میں گجرات کے سیانے چوہدریوں نے عمران کا راستہ روکا جس پر خان نے ناراضی کا اظہار کیا اور یوں عمران اور مشرف کی دوستی اور تعلقات کا اختتام ہو گیا۔ عمران خان کو سوائے اپنے آبائی حلقہ میانوالی کے سوا کہیں سے انتخابی کامیابی نہ ملی حالانکہ میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو دونوں کو اس ریس سے باہر کر دیا گیا تھا۔

 

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ تب فوجی قیادت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں ہونے والے میثاق جمہوریت سے پریشان تھی۔ دوسری طرف مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے تعلقات بھی مشرف سے تقریباً ختم ہو گئے تھے جب انہوں نے وعدہ کے مطابق 2004ء میں آرمی چیف کی وردی اتارنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ایک طرف فوج نے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہٰی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو کمزور کیا تو دوسری طرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ ’ڈیڈ لاک‘ ختم کیا۔ تاہم عمران خان انفرادی طور پر بڑی آواز بن رہے تھے خاص طور پر مشرف کی افغان پالیسی کے حوالے سے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور جنرل پرویز مشرف کے استعفے نے سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ لیکن بی بی کی شہادت نے ایک بڑا سیاسی خلا پیدا کیا جس کے بعد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ حکومت بنانے کے فیصلے نے عمران کو سیاسی فائدہ پہنچایا۔

 

2011 ء میں عمران تیسرے آپشن کے طور پر سامنے لائے گئے اور 2013ء میں پہلی بار انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اچھی خاصی نشستیں ملیں۔ یہاں تک کہ کے پی میں ان کی حکومت قائم ہوگئی۔ لہٰذا اس وقت کی مقتدرہ کے کچھ اہم کرداروں نے جو مسلم لیگ (ن) کے بارے میں سخت رویہ رکھتے تھے عمران کو تحریک چلانے کا مشورہ دیا یہاں تک کہ انہیں ایم کیو ایم کی حمایت کا بھی یقین دلایا گیا مگر بانی ایم کیو ایم نے اس بنا پر حمایت نہ کی کہ جنرل راحیل شریف اس معاملے میں نہیں تھے۔ یہ ابتدا تھی نواز شریف کی رخصتی اور عمران کی آمد کی جو آخر کار 2018 ء میں پوری ہوئی جب عمران پہلی بار وزیر اعظم بنے گو کہ انکے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں تھی مگر یہ کمی اس وقت ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی اور جنوبی پنجاب محاذ سے پوری کی گئی۔ پھر انہی جماعتوں کو خود خان صاحب کے حکومت کے خاتمہ کیلئے بھی استعمال کیا گیا اپریل 2022ء میں ۔عمران خان کو 2011ء کے بعد سے عوامی حمایت ہمیشہ حاصل رہی جس میں خاص طور پر نوجوان اور پی پی پی، مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کی بڑی تعداد اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے تعلقات بہتر نوعیت کے مگر شائد عمران خان ISI کے سربراہ جنرل فیض پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کر نے لگے جو آگے جا کر بنیاد بنی ان تعلقات کے خاتمہ کی۔

 

مظہر عباس کے مطابق عمران کو توقع تھی کہ انکے برطرفی کیخلاف بڑا عوامی ردعمل  آئے گا۔ تاہم مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی نااہلیوں نے اسے ایک بار دوبارہ مقبولیت تو دے دی مگر احتجاج کی صورت میں بڑا ردعمل سامنے نہ آیا۔ لیکن 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کے مظاہرین کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے عمران خان کی سیاست اور تحریک انصاف کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔

 

مظہر عباس کہتے ہیں عمومی تاثر یہی ہے کہ عمران خان آج بھی پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور کسی بھی آزادانہ الیکشن میں انکی کامیابی کے قومی امکانات موجود ہیں، تاہم سچ یہ ہے کہ ان کی مقبولیت انہیں جیل کی سلاخوں سے باہر نہیں لا پا رہی اور ان کی قید کے نتیجے میں تحریک انصاف کا بطور سیاسی جماعت جنازہ اٹھ چکا ہے۔

Back to top button