پنجاب کے سیلاب زدہ عوام سستی گندم اور آٹے کے لیے ترس گئے

پنجاب میں وسیع ذخائر کی موجودگی کے باوجود ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے گندم اور آٹے کے بحران نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ حکومتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کمزور اقدامات کی وجہ سے پنجاب میں ہرگزرتے دن کے ساتھ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں گندم کے بحران نے نہ صرف مریم نواز حکومت کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ ذخیرہ اندوز مافیا کی طاقت اور حکومتی کمزوری کو بھی عیاں کر دیا ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران پنجاب میں گندم مافیا کی من مانی اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے آٹے کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے حالانکہ حکومتی رپورٹوں کے مطابق ملک میں ضرورت کے مقابلے میں وافر مقدار میں گندم کے ذخائر موجود ہیں، مگر انتظامی غفلت اور کمزور گرفت نے صارفین پر صرف آٹے کی مد میں ماہانہ 64 سے 77 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے دعوے کیے تھے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا، مگر عملی اقدامات کے فقدان نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ گندم اور آٹے جیسی بنیادی اشیائے خور و نوش کی قلت نے نہ صرف عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے بلکہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے حالیہ سیزن میں گندم کی عدم خریداری اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے موجودہ بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتی ناقص حکمتِ عملی نے آٹے کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پنجاب جیسے بڑے زرعی صوبے میں یہ بحران حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر کسان سے گندم خریدنے کے بعد اس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
ناقدین کے بقول مریم نواز حکومت صرف ٹک ٹاک، بیانات اور میڈیا پالیسی تک محدود ہے جبکہ عملی سطح پر عوام کو ریلیف دینے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ذخیرہ اندوز مافیا کھلے عام منافع کما رہا ہے اور حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آٹے کی بڑھتی قیمتیں عام آدمی کی برداشت سے باہر ہو چکی ہیں۔ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جو نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کرے گا بلکہ حکومت کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں حالیہ گندم کے بحران کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ رواں سیزن میں ملک میں 2 کروڑ 90 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی جبکہ پنجاب اور سندھ کے پاس پچھلے سال سے لاکھوں ٹن گندم کے ذخائر بھی موجود تھے۔ اس کے باوجود بحران پیدا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب میں گندم کی کوئی کمی نہیں تاہم بدانتظامی اور مافیا نوازی کی وجہ سے پنجاب گندم اور آٹے کے بحران سے دوچار ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سیزن میں حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری سے صاف انکار کے بعد بڑے بیوپاریوں نے سارا کھیل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ انہوں نے سیزن کے دوران سستی گندم خرید کر ذخیرہ کر لی جبکہ اب بارشوں اور سیلاب کو جواز بنا کر اس کے نرخ آسمان پر پہنچا دئیے ہیں۔ نتیجتاً اگست کے بعد آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کراچی میں فائن آٹے کی فی کلو قیمت 114 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ پنجاب میں بھی عوام کو سستا آٹا ملنا خواب بن گیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت پنجاب اور سندھ نے رواں سال گندم کی خریداری نہیں کی تاکہ کھربوں روپے کی سبسڈی سے بچا جا سکے۔ مگر اس خلا کو گندم مافیا نے پر کیا اور پورا اسٹاک اپنے قبضے میں لے کر اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا۔ پنجاب نے دباؤ کے تحت مداخلت کرتے ہوئے فی سو کلو بوری کے نرخ ساڑھے 7 ہزار مقرر کیے، جس سے آٹے کی قیمت میں وقتی کمی ضرور آئی، مگر صورتحال اب بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہے۔ دوسری طرف سندھ حکومت دوہری مشکلات میں مبتلا ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ گندم پر سبسڈی نہ دی جائے، دوسری طرف سندھ کے محکمہ خوراک کے لاکھوں ٹن ذخائر خوردبرد ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت گندم کے سرکاری نرخ مقرر کرنے میں تذبذب کا شکار ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں گندم اور آٹے کا بحران کسی کمیابی کی وجہ سے نہیں بلکہ بدانتظامی، کرپشن اور حکومتی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ذخیرہ اندوز اور فلور ملز مافیا کھلے عام منافع کما رہے ہیں، جبکہ حکومت صرف بیانات تک محدود ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جولائی کے مقابلے میں فی کلو آٹے کی قیمتوں میں اوسطاً 25 سے 30 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومتی نااہلی کا سارا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور سخت اقدامات نہ کیے تو یہ بحران نہ صرف مزید سنگین ہو گا بلکہ مریم نواز حکومت کی سیاسی ساکھ کے لیے بھی بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔
