اسلام آباد ہائی کورٹ : الیکشن ٹریبیونل تبدیلی کا آرڈر معطل، انجم عقیل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا اسلام آباد کے انتخابی ٹربیونل تبدیلی کا آرڈر معطل کردیا جب کہ مسلم لیگ نوازکے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے معافی مانگ لی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی، سماعت میں مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فریقین کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس عامر فاروق نے انجم عقیل سے پوچھا کہ آپ نے جو بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا اس میں جو لکھا ہے وہ سچ ہے؟ انجم عقیل خان عدالت کے سوال  پر درخواست میں استعمال الفاظ کی وضاحت نا کرسکے۔

جسٹس عامر فاروق نےکہا کہ آپ کو سمجھانا ہے کہ nepotism کیا ہوتا ہے، مجھے اس کا مطلب سمجھائیں؟ اس پر انجم عقیل نے کہا کہ یہ لیگل الفاظ ہیں، میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لیتا ہوں، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا ‏Nepotism  لیگل لفظ بالکل بھی نہیں، کیا آپ نے پڑھے بغیر بیان حلفی پر دستخط کردیئے؟ اس پر انجم عقیل نے جواب دیا کہ جی میں نے بیان حلفی پر بغیر پڑھے دستخط کیے ہیں۔

قومی اسمبلی سے مالی سال 25-2024 کا وفاقی بجٹ منظور

 

عدالت نے  پوچھا کہ آپ نے درخواست دی ہے جج صاحب جانبدار تھے تو بتائیں وہ کیسے جانبدار تھے؟ آپ کی وہ سفارش نہیں مان رہے تھے کیا اس لیے آپ انہیں تبدیل کرانا چاہتے تھے؟ اس پر انجم عقیل نے جواب دیا میں نے سفارش نہیں کی لیکن میں معذرت خواہ ہوں میں نے کیس منتقل کرانے کےلیے درخواست دی تھی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا آپ کہہ رہے ہیں غلط آرڈر کیا تھا تو آپ سپریم کورٹ چلے جاتے مگر آپ نے یہ زبان جان بوجھ کر استعمال کی ہے، اس پر انجم عقیل نے کہا کہ ان الفاظ پر میں معافی مانگتا ہوں۔

بعد ازاں عدالت عالیہ نے انجم عقیل خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ہر سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کردی۔

Back to top button