اسلام آباد ہائی کورٹ: جج کی جعلی ڈگری کے کیس کا کیا ہوگا ؟

کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کمیٹی کی جانب سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ کیے جانے کے بعد اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ہی جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے تقرر کو چیلنج کرنے والی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست کے ساتھ منسلک مضبوط دستاویزی ثبوتوں کی وجہ سے جسٹس طارق جہانگیری کی نااہلی یقینی دکھائی دیتی ہے۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 16 ستمبر کو ایڈووکیٹ میاں داؤد کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کرے گا۔دائر کردہ درخواست میں جسٹس جہانگیری پر مبینہ طور پر غیر معتبر قانون کی ڈگری رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی بنیادی اہلیت، یعنی کراچی یونیورسٹی کی ایل ایل بی کی سند ’غیر معتبر‘ ہے، جس کے باعث ان کا پورا قانونی کیریئر اور بعد ازاں جج کے طور پر تقرری غیر قانونی قرار پاتی ہے۔درخواست گزار نے اپنے مؤقف کی بنیاد کراچی یونیورسٹی کی باضابطہ خط و کتابت پر رکھی ہے جو ثبوت کے طور پر درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔ جسٹس جہانگیری پر لگائے گئے اہم الزامات میں یہ نکتہ شامل ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے ایل ایل بی سال اول اور سال دوم کے امتحانات کے لیے مختلف انرولمنٹ نمبرز موجود ہیں، کراچی یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق ایک پروگرام میں ایک ہی طالب علم کو دو انرولمنٹ نمبر دینا ’ناممکن‘ ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے بھی قرار دیا ہے کہ متعلقہ ڈگری اور مارک شیٹس ’غیر معتبر‘ ہیں۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کی درخواست اعلیٰ عدلیہ میں متنازعہ درخواستیں دائر کرنے والے قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔ میاں داؤد ایڈوکیٹ کے دعوے کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ایل ایل بی کی ڈگری ہی مشکوک ہے جس کی بنیاد پر وہ پہلے وکیل اور پھر جج بنے تھے۔ کراچی یونیورسٹی نے اسی بنیاد پر جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کر دی تھی بعد ازاں جامعہ کراچی نے جسٹس جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں قرار دیاتھا جسٹس جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کا فیصلہ یونیورسٹی قوانین اور ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس حوالے سے میاں داؤد کا موقف ہے کہ جسٹس طارق کی وکیل بننے کی بنیادی قابلیت ایل ایل بی کی ڈگری ہی جعلی ہے جس کی بنیاد پر انہیں جج بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک غلط فیصلہ تھا جسے ٹھیک کرنا چاہیے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے مطابق انہوں نے یونیورسٹی آف کراچی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا جبکہ جج صاحب کی ٹیبولیشن شیٹ کے مطابق ان کے ایل ایل بی پارٹ ون کا انرولمنٹ نمبر 5988 امتیاز احمد نامی ایک اور شہری کا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایل ایل بی پارٹ ون کی مارک شیٹ پر ان کا نام طارق جہانگیری ولد محمد اکرم لکھا ہوا ہے جب کہ شناختی کارڈ کے مطابق ان کے والد کا اصل نام قاضی محمد اکرم ہے۔ میاں داؤد کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری کی تعلیمی دستیاویزات بھی دو نمبر ہیں۔ اسلامیہ کالج کے پرنسپل نے تحریری طور پر تصدیق کی ہے کہ طارق محمود ولد محمد اکرم 1984 سے 1991 تک ان کے کالج کے طالب علم ہی نہیں تھے، جب کہ کنٹرولر امتحانات کے مطابق ایک انرولمنٹ نمبر دو افراد کوالاٹ ہو ہی نہیں سکتا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کی جانب سے اپنی بنیادی ڈگری منسوخ ہو جانے کے بعد جسٹس طارق جہانگیری کا جج کی کرسی پر برقرار رہنا ممکن نہیں اور ان کے دن پورے ہو گئے ہیں
یاد رہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور انہیں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تب کے صدر عارف علوی نے جج مقرر کیا تھا۔انہیں تحریک انصاف کا حمایتی جج تصور کیا جاتا ہے وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر تب مقبول ہوئے جب انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔ واضح رہے کہ جسٹس جہانگیری ان 5 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے جسٹس ڈوگر کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کو چیلنج کیا تھا، وہ ان ججوں میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ سال سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدالتی معاملات میں مداخلت کی شکایت کی تھی۔یہ تنازع اس وقت ابھرا جب جسٹس جہانگیری اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر مبینہ انتخابی دھاندلی سے متعلق پٹیشنز کی تیز رفتار سماعت کر رہے تھے۔
